بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سول و عسکری قیادت کا عزم

سول و عسکری قیادت کا عزم

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 16 دسمبر کا دکھ نہیں بھلایا جاسکتا آرمی پبلک سکول کے سانحہ میں شہید بچوں کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ننھے فرشتوں کو شہید کرنے والوں سے رحم نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پوری قوم اس سانحہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ عین اسی روز پشاور میں افسوسناک واقعے کو دو سال مکمل ہونے پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہر شہید کے خون کا حساب لیں گے۔ شہداء کی قربانیوں کو زندہ رکھا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ شہید بچوں کی تصاویر ان کے دفتر میں لگی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جنرل باجوہ کہتے ہیں کہ وہ شہید بچوں کے والدین کے درد کو سمجھتے ہیں چیف آف آرمی سٹاف نے پشاور میں یادگار شہداء پر حاضری دی اور پھول بھی چڑھائے۔

اس سانحہ کی یاد میں پورے صوبے میں تقریبات کا اہتمام ہوا خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پشاور میں دو سال قبل سکول کے معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا سانحہ بھلائے جانے کے قابل نہیں جس کا اندازہ گزشتہ روز شہید بچوں کی ماؤں کی سسکیوں کے ساتھ شہر کی مجموعی فضاء پر چھائی اداسی سے بھی لگایا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ بڑی تقریب میں شریک شہید بچوں کی ماؤں کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ مرکزی آڈیٹوریم کو حسرت کی نگاہوں سے دیکھتی رہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ وطن عزیز کی سیاسی قیادت ملک میں امن کے قیام عوام کے جان و مال کے تحفظ اور معیشت کے استحکام کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل جاری رکھے۔ آرمی پبلک سکول پر حملہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو متحد کیا اور سیاسی قیادت نے اپنے اختلافات جو کہ اس وقت شدت پر تھے پس پشت ڈالتے ہوئے یکجہتی کا پیغام دیا آج بھی ضرورت سیاسی نظریات اور اختلافات سے ہٹ کر قوم کے وسیع تر مفاد کے سوال پر متحد ہونے کی ہے تاکہ عوام کو تحفظ مل سکے۔

مردم شماری کا فیصلہ

مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری 15 مارچ سے شروع کرانے کا فیصلہ کیا ہے کونسل کے اجلاس میں ہونیوالے فیصلے کے مطابق مردم و خانہ شماری دو مراحل میں ایک ساتھ شروع ہوں گی جہاں ضرورت پڑے گی وہاں فوج تعینات کر دی جائے گی۔ سی سی آئی کے اجلاس میں ہونیوالے دیگر فیصلوں میں پنجاب کو پن بجلی کے منافع کی توثیق بھی شامل ہے اجلاس میں فارسٹ پالیسی کی منظوری کے ساتھ نیشنل سکیورٹی فنڈ کا معاملہ این ایف سی کو ارسال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

مردم و خانہ شماری بعد از خرابی بسیار ہی سہی ایک قابل اطمینان فیصلہ ہے خاص طور پر انتخابی فہرستوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کے تمام مراحل اس کے بغیر ادھورے ہیں پنجاب کے لئے ہائیڈل پرافٹ کی توثیق کے ساتھ یہ فیصلہ بھی درست ہے کہ پن بجلی کے بقایا جات کی ادائیگی تین اقساط میں ہوگی ۔ وفاقی حکومت کو اس سب کے ساتھ خیبرپختونخوا کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے بھی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ان اقدامات کے حوالے سے یہ بات بھی مد نظر رکھنا ہوگی کہ خیبرپختونخوا کے درپیش حالات اس صوبے کی معیشت کے استحکام کے لئے مزید بہت کچھ کرنے کے بھی متقاضی ہیں۔