بریکنگ نیوز
Home / کالم / الزام تراشیاں

الزام تراشیاں


ڈاکٹر اشرف غنی 29 ستمبر 2014ء سے افغانستان کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں اور بطور صدر اپنی تقرری کے پہلے دن انہوں نے پاکستان کے حوالے سے جو مثبت و محتاط طرز اظہار اختیار کیا تھا‘ اس کی شائستگی وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوتی چلی گئی وہ دن ماضی کا حصہ بن گئے ہیں جب صدر اشرف غنی‘ وزیراعظم نواز شریف اور پاک فوج کی سربراہی سے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف افغانستان اور پاکستان کے دشمنوں کو ’مشترک‘ قرار دیتے تھے لیکن اب ایک دوسرے کی سلامتی اور داخلی امن و امان کے حوالے سے دونوں ممالک کی قیادت الزامات کا تبادلہ کرتی ہے بالخصوص افغانستان کی ترجمانی کرنے والے پاکستان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک عرصے سے اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی عالمی کانفرنسوں کے مواقعوں پر دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے سے رسمی یا غیررسمی بات چیت کرتے ہیں اسی طرح دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ یا دفاتر خارجہ کے اہلکار بھی ایک دوسرے کے نکتہ ہائے نظر کو سنجیدگی سے نہیں سنتے اور نہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں در آئی سردمہری کے خاتمے کیلئے خاطرخواہ کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ پاک افغان تعلقات معمول پر آ سکیں۔پاک افغان تعلقات میں بہتری کی امید اس وقت دم توڑ گئی جب حال ہی میں بھارت کے شہر امرتسر میں ہوئی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے دوران افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر الزامات عائد کئے جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پاکستان افغانستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے افغان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ اشرف غنی نے ایک موقع پر افغانستان کی تعمیرنو کیلئے پاکستان کی طرف سے ’5 کروڑ ڈالر‘ بطور امداد دینے کا تمسخر اُڑاتے ہوئے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان یہ رقم اپنے ہاں دہشتگردی کا خاتمہ کرنے پر خرچ کرے۔ اگر ہم اسلام آباد میں ہوئی پانچویں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے افغان صدر کا خطاب دیکھیں ۔

تو یہ بات انہوں نے خود تسلیم کی تھی کہ پاکستانی طالبان جنکی قیادت مولانا فضل اللہ کر رہے ہیں افغانستان میں موجود ہیں جنکے خلاف انہوں نے کاروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا یہ وہی بیان تھا جسکی وجہ سے افغانستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل رحمت اللہ بنیل سیخ پا ہوئے تھے اور انہوں نے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی نامی خفیہ ادارے کی سربراہی سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی تھی جنرل رحمت اللہ نبیل نے اپنے ہی صدر اشرف غنی کے اِس بیان کی مذمت بھی کی جس میں اعتراف کیا گیا تھا کہ انکا ملک دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا لب و لہجہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے زیادہ کرخت ہے جو دہشت گردی کے حوالے سے اپنے بیان اور خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے یوں کھلم کھلا پاکستان کا نام نہیں لیتے بلکہ اشارے کنائیوں میں بات کرتے ہیں جب افغان صدر بھارت کی سرزمین پر جاکر پاکستان کے خلاف زہراگلتے ہیں تو اِسے بھارتی قیادت اور ذرائع ابلاغ بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشیوں کو ایک قسم کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ چودہ ممالک اور درجنوں عالمی تنظیموں پر مبنی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اِس قسم کا غیرمحتاط اور حقائق کے منافی اظہارخیال اِس بات کی دانستہ کوشش ہے کہ پاکستان کو بدنام کیا جائے اِس سلسلے میں پاکستان نے بے مثال صبر و احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے پاکستان کا خیال تھا کہ اسے امرتسر کانفرنس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

کیونکہ بھارت اِس کانفرنس کے ذریعے پاکستان پر الزام تراشیاں کر یگا لیکن ایسے تمام واضح امکانات کے باوجود پاکستان نے اپنا مقدمہ پیش کرنیکا فیصلہ کیا اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے نہ صرف امرتسر میں کانفرنس سے جامع خطاب میں پاکستان کا بھرپور دفاع کیا بلکہ بعدازاں افغان صدر اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں جس قدر پاکستان کے حوالے سے ذکر ہوا اس کے بارے میں بھی جوابی وضاحت بروقت جاری کی سرتاج عزیز کے مثبت کردار اور محتاط بیان کو روسی صدر کے خصوصی نمائندے زامر کابلوف نے بھی سراہا۔افغان حکومت داخلی محاذ پر تین قسم کے اقدامات کر رہی ہے اسے اقتصادی بہتری لانی ہے‘ طرز حکمرانی میں اصلاحات اور بدعنوانی کو بھی شکست دینی ہے پائیدار قیام امن کیلئے اِن تینوں شعبوں میں یکساں اور بڑے پیمانے پر اصلاحات وقت کی ضرورت ہے لیکن اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان رسہ کشی و اختیارات کی دوڑ نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے افغانستان کی ’یونٹی گورنمنٹ‘ اِس قدر متحد نہیں جس قدر نام سے تاثر ملتا ہے صدر اور چیف ایگزیکٹو کے درمیان پائے جانے والے اختلافات ختم نہیں ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انہیں حکومتی فیصلوں سے بے خبر رکھا جاتا ہے افغان حکومت کے پہلے نائب صدر اور ازبک جنگجو رہنما جنرل عبدالرشید دوستم نے بھی افغان صدر پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے پختون قبیلے کے مقابلے دیگر افغان قبائل سے نسلی و لسانی بنیادوں پر امتیازات برتتے ہیں۔ افغان حکومت اور اولسی جرگہ کے درمیان بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اور حال ہی میں افغان نیشنل اسمبلی نے ایسے 7وزراء کو نااہل قرار دے دیا جو اپنے ترقیاتی فنڈز کا 70فیصد خرچ کرنے میں ناکام رہے تھے اور یہ بات قانوناً قابل گرفت ہے ۔افغان صدر اشرف غنی کے قریبی ساتھی اور چند پاکستانی حلقوں کی بھی یہ رائے کہ اشرف غنی کی پاکستان پر شدید نوعیت کی تنقید کے پیچھے ان کی وابستہ توقعات پوری نہ ہونا ہے جو وہ پاکستان سے ازخود وابستہ کئے ہوئے تھے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائیگا یا پھر ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں کرے گا لیکن اِس صورتحال کا یہ پہلو بیان نہیں کیا جاتا کہ افغان صدر بھی خفیہ معلومات کے تبادلے کو عملاً ممکن بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور اپنی و بھارت کے خفیہ ادارے کو پاکستان کے خلاف اپنے وسائل کے استعمال سے بھی نہیں روک سکے برسرزمین حقائق اپنی جگہ لیکن پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے تاکہ دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان پائی جانیوالی بداعتمادی کا خاتمہ ہو۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)