بریکنگ نیوز
Home / کالم / زخم بدستور تازہ ہے……

زخم بدستور تازہ ہے……


آرمی پبلک سکول کے شہیدوں کی دوسری برسی کے موقع پر بھی فضاء جس قدر مغموم محسوس ہوئی اور جو رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ان کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دو سال قبل سانحہ آرمی پبلک سکول کی شکل میں اہل پاکستان کے دلوں اور روحوں پر جو زخم لگایا گیاتھا وہ بدستور تازہ ہے با الفاظ دیگر دو سال قبل رونماہونے والے سانحہ آرمی پبلک سکول نے ’’16دسمبر‘‘ کے چہرے پرکم سن معصوم شہیدوں کے خو ن کی سرخی کچھ اس طرح ملی ہے کہ یہ دن افسردگی اور رنج و الم کا مستقل حوالہ بن کر رہ گیا ہے۔برسی کے دن کے ماحول نے بتا دیا کہ اس سانحے سے جڑے واقعات دو سال گزر جانے کے باوجود ذہنوں کو اپنے گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔ جان و دل ہنوز سانحے کے وجود سے جنم لینے والے رنج و الم کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ، شہیدوں کے معصوم چہروں کے عکس تاحال نگاہوں میں تازہ ہیں شہادتوں سے جڑی حقیقتوں نے بدستورفکر و خیال کے آنگن پر اپنے سائے پھیلا رکھے ہیں کتنے ہی بچے ہوں گے جنہوں نے اس صبح سکول نہ جانیکی خواہش کی ہو گی لیکن انکی ماؤں نے انہیں بہلا پھسلا یا ڈانٹ ڈپٹ کر سکول جانے پر آمادہ کیا ہو گا، وہ مائیں دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پچھتاوے کے بوجھ کو حواس پرسے نہیں اتار سکیں اس روز کتنے ہی بچے سکول پہنچنے میں تاخیر سے بچنے کیلئے ناشتہ کئے بغیر یا ادھورا چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے سکول روانہ ہوئے ہوں گے۔

کہ ’’ماں میرا ناشتہ سنبھال لینا واپس آکر کھاؤں گا ‘‘ انکے یہ آخری الفاظ ماؤں کی سماعتوں کواب تک چھلنی کر رہے ہیں وہ خواب جو معصوموں نے مستقبل کے حوالے سے اپنے والدین کے ساتھ بانٹے تھے ،’’انکی تعبیر کے راستے پر سفر کے آغاز ہی میں زندگی ہار جانے کا دکھ‘‘ ۔شہید بچوں سے متعلق بہت سی تمنائیں اور آرزوئیں جوانکے والدین کے ذہن و دل میں سانحے کے روز تک ادھ کھلی کلیوں کی مانند تھیں’’ ان کلیوں کے بے دردی سے مسل دےئے جانے کا دکھ‘ ‘ ماں کی گود سے یوم شہادت تک کے مختصر سفرِ زیست کا عرصہ بچپن ولڑکپن کی جو یادیں چھوڑ گیا ،’’ ان پر لطف لمحوں کی یاد تازہ ہوتے ہی بچے کی گولیوں سے چھلنی لاش کا منظریاد آجانا‘‘ یہ سب حقیقتیں آج بھی شہیدوں کے اہل خانہ کے فکر و خیال پرتیراندازی کر رہی ہیں کسی بھی لڑائی میں جنگ لڑنے والوں کے بچے اور خواتین فریق نہیں ہواکرتے پھر بھی اس قدر بیدردی سے بچوں کا قتل عام ؟۔ظلم ،بربریت ، سفاکی ، درندگی اوران جیسے تمام الفاظ یکجا کر دیے جائیں تب بھی شاید اس عمل کوبیان نہ کیا جاسکے جسکی شدت کو صرف اہل پشاور یا پا کستانی قوم نے ہی نہیں تمام عالم نے محسوس کیا۔صبر کی سلوں اور وقت کے مرہم نے بحیثیت مجموعی اس دکھ ،اس درد اور اس سانحے سے جڑی یادوں کی شدت کو بھلے کم کر دیا ہو لیکن یہ زخم بھرنے والانہیں اس زخم کو بھرنا چاہئے بھی نہیں اس کرب کے احساس کو جذبوں میں رچا بسا رہنا چاہئے۔اس سانحے کی یاد میں نکلنے والے آنسوؤں کی نمی آنکھوں میں برقرار رہنی چاہئے۔کیوں کہ اگر کرب کا وجود اور آنسوؤں کی نمی سلامت رہے گی تو یہ احساس بھی زندہ رہے گا کہ 16دسمبر2014ء کوقوم کے دل ، قوم کے مستقبل پر جو وار کیا گیاتھا اس کاحساب ابھی مکمل طور پر نہیں چکایاجا سکا۔

قوم میں یہ احساس برقرار رہے گا تو سیاسی قیادت بھی بیدار رہے گی اس سانحے کا یہ پہلو تسلی بخش ہے کہ سانحے کے بعد پوری قوم دہشت گردی کی لعنت سے نجات کیلئے متحدو پرجوش نظر آئی مملکت کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پردکھائی دی ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل کے حوالے سے قومی اتفاق رائے ظہور پذیر ہوا اوردہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف ٹھوس اور موثر کاروائیوں کا آغاز ہوا جسکے نتیجے میں شہدائے آرمی پبلک سکول کی دوسری برسی کے موقع پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں سے نجات کے مشن میں نمایا ں کامیابیاں حاصل کر لی گئی ہیں۔سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ ’’شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جا ئے گا‘‘۔ آرمی چیف نے بھی انہی جذبات کا اظہار کیا تھایہ عزم اس مرتبہ بھی دہرایا گیا ہے ۔پچھلے دوسال کے دوران پاک فوج کے عزم واستقلال،سیاسی رہنماؤں کے تعاون اور عوام کی پشت پناہی نے مذکورہ الفاظ کی لاج رکھی ہے تاہم دہشت گردی کیخلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ابھی مزید بہت کچھ کرنیکی ضرورت ہے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی مکمل کامیابی کیلئے سانحہ آرمی پبلک سکول کے تناظر میں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ

شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا
قسم ہے تم کو اے سر فروشوعدو ہمارا بھلا نہ دینا