بریکنگ نیوز
Home / کالم / اتنی نہ بڑھاپا کئ دامان کی حکایات

اتنی نہ بڑھاپا کئ دامان کی حکایات

کئی سیاست دان اور سیاسی مبصرین اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ جو لوگ پانامہ لیکس کے بارے میں سپریم کورٹ گئے ہیں ایسا کرکے انہوں نے فاش غلطی کی ہے ان کو عدالت عظمیٰ کے بجائے یہ مسئلہ پارلیمنٹ سے حل کروانا چاہئے تھا جولوگ یہ دکھڑا رو رہے ہیں ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ جو پارلیمنٹ کے اراکین ہیں ہم ان کے بارے میں بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ‘‘ اتنی نہ بڑھا پاکی دامان کی حکایت‘‘ ان سے ہمارا ایک سادہ ساسوال ہے؟وہ کس پارلیمنٹ کے پاس جائیں؟ کیاوہ اس پارلیمنٹ کے پاس جائیں کہ جس کے اکثر اراکین کا خود اپنا دامن بھی صاف نہیں ؟کیا وہ ان لوگوں سے انصاف مانگیں کہ جن میں کئی این آر او کی ڈرائی کلین شاپ سے صاف ہو کر آئے ہیں ؟ کیا اکثر اراکین پارلیمنٹ کی لیڈر شپ بھی کم وبیش اسی قسم کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث نہیں رہی ہے کہ جو موجودہ حکومت کے بعض کارندوں سے منسوب کی جاتی ہیں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اکثر اراکین پارلیمنٹ بھی وہی راگ الاپتے آئے ہیں کہ جو حکومت الاپتی ہے ہمارا تو یہ خیال تھا کہ یہ پارلیمنٹ جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوامی جذبات کی نمائندگی کرتی ہے شور مچائے گی کہ حکومت کیوں ٹیکس چوروں کو ایمنسٹی سکیموں کے تحت موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ اپنی حرام کی کمائی میں سے مونگ پھلی کے برابر ٹیکس ادا کرکے اسے پاک و صاف کر لیں؟ ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں موجودہ حکومت نے بھی جاری کیں اور سابقہ حکومت نے بھی پارلیمنٹ کی اکثریت نے انہیں آشیر باد دے کر قوم کو مایوس کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ عوام کی نمائندہ بالکل نہیں ؟ ہم تو یہ سوچ رہے تھے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو گھر بھیجا جائے کیونکہ اس نے انکار کر دیا ہے کہ وہ ان بڑے بڑے سیاست دانوں کے نام پارلیمنٹ میں نہیں بتا سکتا کہ جنہوں نے اربوں روپے کے بینک قرضے لئے اور پھر مختلف حیلوں اوربہانوں اور قانونی موشگافیوں سے ان کو معاف کروا کے ہڑپ کر لیا؟ یہ لوگ جو پارلیمنٹ میں براجمان ہیں۔

اس بات کا اکثر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ان کو عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ 20 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان کو فیڈل کاسترو کی موت پر کیوں سانپ سونگھ گیا؟ اس ملک کے عوام کی اکثریت کا سترو سے دلی محبت کرتی ہے کہ وہ غریب کی آواز تھا وہ عام آدمی کے حقوق کی بات کرتا وہ عدم مساوات کے خلاف زندگی بھر جنگ کرتا رہا اس ملک کے عام آدمی کو رنج ہوا کہ نہ پارلیمنٹ میں اس کی رحلت پر کوئی تعزیت کی گئی اور نہ حکومت وقت کے کسی کا رندے کو خدا نے یہ توفیق دی کہ وہ ایک لفظ ہی کاسترو کی تعریف میں کہہ دیتاآزاد کشمیر کے2005ء میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کا جس محبت اور شفقت سے کیوبا کے ان ڈاکٹروں نے علاج کیا کہ جو کاسترو نے بھجوائے تھے وہ مثالی تھا جب وہ واپس جا رہے تھے تو جن لوگوں کی انہوں نے خدمت کی تھی وہ بھی رو رہے تھے اور ڈاکٹرخود بھی رنجیدہ تھے ہمیں نہایت افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ آج اس ملک کا تقریباً ہر ریاستی ادارہ نیست و نابود ہو کر رہ گیا ہے اور ان کو تباہ و برباد کرنے میں عوام کے منتخب نمائندوں کا بڑا ہاتھ ہے ! بیورو کریسی ‘ پولیس اور خفیہ اداروں کو کس نے Politicise کیا؟ انہی لوگوں نے کہ جو عوا م کے ووٹ سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آتے ہیں اور پھر آپس میں گٹھ جوڑ کرکے حکومتیں بناتے ہیں ؟

اور تو اور عدلیہ خصوصاً ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر وکیلوں کے کوٹے سے جو جج تعینات کئے جاتے ہیں ان کی تقرری میں بھی ان کا بڑا عمل دخل رہا ہے ابھی تک ان لوگوں نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ نیچے سے لیکر اوپر تک صرف مقابلے کے تحریری اور زبانی امتحانات کے ذریعے ہی جوڈیشل سروس میں جج بھرتی کئے جاتے اس کوٹہ سسٹم نے بھی کافی حد تک تباہی مچائی ہے کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ اس میں پسند اور نا پسند کا بڑا عمل دخل رہا ہے پبلک سروس کمیشن کا ادارہ بھی اس لئے بدنام ہو ا کہ اس میں جو اراکین مقرر کئے جاتے ان کی تقرری میں بھی عوام کے منتخب لوگ اپنی ٹانگ اڑاتے کیا پارلیمنٹ میں اتنی جرات اور سکت ہے کہ وہ یک زبان ہو کرپہلے تو1973ء کے آئین میں سے وہ شق باہر نکال دے کہ جس میں بعض اعلیٰ حکام کو ان کی تعیناتی کے دوران عدالت میں کسی جرم میں ملوث کی بنا پر پیش ہونے سے استثنیٰ دیا گیا ہے ؟ اگر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ قرار دیتے ہیں تو کیا وہ زرعی اصلاحات کا بل پاس کرکے بڑے بڑے رقبے جاگیرداروں سے چھین کر ہاریوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔