بریکنگ نیوز
Home / کالم / صد ف مرزا کے ساتھ ایک شام

صد ف مرزا کے ساتھ ایک شام


یہ میری خوش قسمتی ہے کہ کبھی کبھی کوئی ادبی شخصیت میرے گھر آکر مجھے میزبانی کا شرف بخشتی ہے گزشتہ چند دہائیوں میں بہت سے لوگ آئے اور میرے لئے خوبصورت یادیں چھوڑگئے ان دوستوں میں احمد فراز، ستیہ پال آنند، ڈاکٹر منیب الرحمن، راج ولی شاہ خٹک، محسن احسان، عتیق صدیقی، ارشاد صدیقی، جوہر میر اور ناصر علی سید شامل ہیں، حال ہی میں کوپن ہیگن ڈنمارک سے محترمہ صدف مرزا تشریف لائیں اور ایک خصوصی ادبی نشست میں شرکت کی۔صدف مرزا کا تعلق جہلم سے ہے، بہت پڑھی لکھی خاتون ہیں، نثر اور نظم دونوں پر پورا عبور حاصل ہے، اچھا لکھتی ہیں اور لکھنے کا حق ادا کرتی ہیں‘ 2013ء میں جرمنی میں امریکی افواج کی میڈیکل کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان کے بارے میں چند لیکچر دینے گیا تھا، صدف صاحبہ نے کمال محبت سے مجھے ڈنمارک آنے کی دعوت دی، وہاں میرا قیام صرف چند دن کا تھا لیکن صدف اور ان کے رفقاء کار کی وجہ سے ڈنمارک میں میرا قیام بہت ہی اچھا رہا، چند ادبی نشستوں میں شرکت کی اور کافی ہم وطنوں سے ملاقات ہوئی،یہ صاحبہ کوپن ہیگن میں علم ودانش کی قندیلیں روشن کئے ہوئے ہیں‘ ڈنمارک میں اردو بستی (Diaspora)انہی کے دم سے آباد ہے۔صدف مرزا ان دنوں علی گڑھ یونیورسٹی کے سالانہ مشاعرہ میں شرکت کیلئے امریکہ آئی تھیں، واشنگٹن اور نیویارک میں مشاعرے پڑھنے کے بعد وہ امریکہ کے دورے پر تھیں، جہاں وہ ہر چند دن کے بعد ایک نئے شہر میں باقی شعراء کے ساتھ مشاعرہ پڑھتی تھیں، ایک مشاعرہ ہماری ریاست کے شہر سن سناٹی (Cincinnati)میں بھی تھا۔

انہوں نے مہربانی کی اور ایک آدھ دن کیلئے مشاعروں کے سرکٹ سے الگ ہو کر وہ ٹولیڈو آگئیں۔ٹولیڈو میں ان کا قیام مختصر تھا مگر بہت دلچسپ رہا، ایک شام اردو زبان وادب سے شغف رکھنے والے حضرات اور خواتین ایک ادبی نشست میں شرکت کیلئے میرے غریب خانے پر تشریف لائیں صدف صاحبہ نے اپنے حسن اخلاق اور اپنی اعلیٰ پائے کی شاعری سے حاضرین کو بہت متاثر کیا اگریہ باقاعدہ مشاعرہ ہوتا تومیں بلا تامل یہ کہتا کہ انہوں نے مشاعرہ لوٹ لیا، گھنٹہ بھر ان کی شاعری سننے کے بعد ایک غیر رسمی موسیقی کا پروگرام بھی منعقد ہوگیا، ہمارے دوستوں میں سے چند لوگ بہت اچھے گلوکار ہیں، جب کبھی موقع ہو (اوراگر موقع محل نہ بھی ہو )تو میں ان دوستوں سے فرمائش کرتا ہوں اور وہ اپنی خوبصورت آوازوں سے سماں باندھ دیتے ہیں، ان میں ڈاکٹر عمران اندرابی، ڈاکٹر عباس حیدر اور ڈاکٹر مسیح الرحمن شامل ہیں، مسیح الرحمن گلوکار ہونے کے علاوہ موسیقار بھی ہیں، اس شام ہماری مہمان صدف مرزا نے بھی موسیقی کے پروگرام میں حصہ لیا اور چند اور خواتین نے بھی۔ اس طرح یہ دلکش محفل جو حرف اور شعر کے نام پر شروع ہوئی تھی سر اور تال کی دھن پر اختتام پذیر ہوئی۔نشست کے بعد غیر رسمی گفتگو میں صدف مرزا نے بتایا کہ حال ہی میں ڈینش(Danish)ادب اور ڈنمارک کی تاریخ پر ان کی اردو کتاب شائع ہوئی ہے، کتاب کا نام ہے زبان یار من دینش، انہوں نے امیر خسرو کے مشہور شعر کے پہلے مصرعے میں ترکی کی جگہ دینش زبان کا پیوند لگاکر کتاب کے ٹائٹل کو معنی خیز بنادیا، امیر خسرو کا شعر یہ ہے

زبان یارمن ترکی ومن ترکی نمی دانم
چہ خوش بودی اگر بودی زبانش دردھن من
اس زومعنی شعر کے دوسرے مصرعے کی چاشنی کا ڈینش زبان پربھی اطلاق ہوتا ہے، لیجئے صدف مرزا کی ایک غزل پڑھیں اور سردھنیں، اس غزل میں لفظ سائیں کااستعمال ان شعروں کو اور زیادہ معنی خیزبنادیتا ہے
گوتجھ سے میرے دل کو شکایت نہیں سائیں
پراب کے مزید اور رعایت؟ نہیں سائیں
اس بار فقط اپنی رضا مجھ کو ہے کافی
درکار مجھے تیری اجازت نہیں سائیں
اب پیار کے بولوں میں نہ کر مجھ کو مقید
دوبارہ نہ کر مجھ سے سیاست! نہیں سائیں
صدیوں سے تسلط تھا مرے جسم پہ تیرا
پر ذہن پہ اب تیری حکومت؟ نہیں سائیں
بازار سجا رکھے ہیں قانون کے تونے
لیکن یہ عقیدہ ہے، تجارت نہیں سائیں
میں نار جہنم سے گزر آئی ہوں اب تو
اب میرے لئے کوئی قباحت نہیں سائیں
قصہ ہے یہ کوتاہ، صدف، اس سے یہ کہہ دو
اب اور چلے گی نہ سیاست نہیں! سائیں
میں جب ڈنمارک گیا تھا تو صدف نے ڈینش ٹیلی ویژن کیلئے میرا انٹرویو لیا تھا،ا گر کوئی یہ انٹرویو دیکھنا چاہے تو یوٹیوب پر دیکھ سکتاہے، اگر آپ یوٹیوب پر صدف مرزا اور میرا نام ٹائپ کریں تو وہ انٹرویو آپ کو آسانی سے مل جائیگا۔