بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین کی ترجیحات

چین کی ترجیحات

2008ء میں چین کے ایک مالیاتی ادارے ایگزم بینک نے سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ میں سرمایہ کاری کی 2010ء میں اِس بندرگاہ کا ترقیاتی کام 1.3ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کر لیاگیا2010ء میں ایک اور ترقیاتی منصوبہ مہندرا راجا پکسے نیشنل ٹیلی سینما پارک مکمل کیا گیا جس پر 2 ارب ڈالر لاگت آئی۔ چین ہی کی سرمایہ کاری سے نوروچوچولائی پاور پلانٹ تعمیر کیا گیا جس پر 1.35ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ سدرن ایکسپریس وے نامی تعمیراتی منصوبہ بھی چین کی مدد سے مکمل ہواجس پر 776 ارب روپے خرچ ہوئے 2013ء میں صدر راجا پکسے نے 26ارب روپے ’متالا راجا پکسے انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ کی تعمیر پر خرچ کئے اسی طرح سری لنکن حکومت نے ہمبنٹوٹا سپورٹس زون بنانے پر 15 ارب روپے خرچ کئے قابل ذکر امر یہ ہے کہ غیرملکی بحری جہاز راں اداروں نے ہمبنٹوٹا بندرگاہ استعمال کرنے سے معذرت کر لی کیونکہ یہ اقتصادی طور پر موزوں نہیں تھی جسکی وجہ سے یہ بندرگاہ تیار تو ہو گئی لیکن اس سے استفادہ نہیں کیا جاسکا۔ اسی طرح کا حشر دیگر ترقیاتی منصوبوں کا بھی ہوا‘جن سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا جاسکا اور سب کے سب اُجاڑ پڑے ہیں سری لنکن حکومت نے اپنے ہاں ترقیاتی منصوبوں کیلئے جس قدر بھی غیرملکی قرض لیا اُسے واپس کرنا ممکن نہیں رہا۔ کوئلے سے چلنے والے نوروچوچولائی پاور پلانٹ کی ملکیت چین کے حوالے کرنی پڑی۔ سدرن ایکسپریس وے نامی سڑک جو 776ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی اور جس پر سود 6.5ارب روپے تھا لیکن اس سے سالانہ آمدن 1 ارب روپے تھی خسارے کا سودا رہا سری لنکا نے سرکاری پیسہ جن ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا اس کی چار ترجیحات تھیں وہ ترقیاتی عمل سے سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتی تھی وہ تصوراتی دنیا میں جن منصوبوں کو حقیقی اور اہم سمجھ رہی تھی وہ عملی طور پر ایسے نہ تھے ترقیاتی منصوبوں سے کمیشن اور دیگر مالی فوائد حاصل کئے گئے اور ترقیاتی منصوبوں پر رقم خرچ کرکے ملک کی خراب اقتصادی صورتحال کو سہارا دیا گیا۔

اگر مجموعی طور پر بات کی جائے تو زیادہ تر ترقیاتی منصوبے پہلی تین وجوہات کی بناء پر تخلیق کئے گئے جس کی وجہ سے سری لنکا قرض کی دلدل میں جا پھنسا۔ گوادر کی بندرگاہ سے بھی پاکستان کی قیادت کے سیاسی مقاصد جڑے ہیں اور یہی بندرگاہ دفاعی نکتۂ نظر سے بھی اہم ہے ہمبنٹوٹا بندرگاہ ایک غیرمعروف مقام پر واقع ہے اور یہی حال گوادر کا بھی ہے سال 2009ء سے 2014ء کے دوران سری لنکن حکومت پر قرض کا حجم تین گنا بڑھا اور اِس وقت سری لنکا کا واجب الادا قرض 65 ارب ڈالرہے اور سری لنکا اب اپنی قومی آمدنی کا بڑا حصہ ’95.4‘ فیصد قرض اور سود کی واپسی پر ادا کر رہا ہے اب ذرا پاکستان کا حال دیکھ لیں کہ رواں مالی سال میں حکومت پاکستان کی کل آمدنی 369 ارب روپے تھی اور اِسی مالی سال میں حکومت کے ذمے واجب الادا قرضوں کی واپسی کیلئے 413 ارب روپے درکار ہیں اسکا مطلب یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ حکومت چلانے کیلئے بھی قرض لینا پڑیگا ۔

سری لنکن قیادت نے پاکستان ہی کی طرح سیاسی و ذاتی مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترقیاتی حکمت عملی وضع کی اور قوم کو ترقی کے خواب دکھائے ایک سری لنکن ویب سائٹ کے بقول ملک دیوالیہ ہونے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے! ذہن نشین رہے کہ ہمبنٹوٹا بندرگاہ تعمیر کرنا سری لنکا کے اقتصادی مسائل کا نہ تو حل ثابت ہوا اور نہ ہی اِس سے ملک میں ترقی کا نیا دور شروع ہوا۔ 4 اگست 2016ء کو چین اور سری لنکن حکومت کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی جسکی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ’’ہمبنٹوٹا بندرگاہ کی فعالیت اور اِس منصوبے کو کارآمد بنانے کے لئے حکمت عملی وضع کرے۔‘‘ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)