بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / دیر بالا :مرکزی بازار میں خوفناک آتشزدگی

دیر بالا :مرکزی بازار میں خوفناک آتشزدگی


دیربالا۔ عشیری درہ کے علاقے تارپتار کے مرکزی بازار میں خوفناک آتشزدگی سے 70کے قریب کے دکانیں مکمل طورپر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ، آگ کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ۔مقامی لوگوں نے امدادی کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ شپ رات دو بجے کے قریب نواحی علاقے تارپتا ر کے بازار کے دکانوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ، آگ دیکھتے ہی دیکھتے پورے بازار کے وسط میں دونوں اطراف کے مارکیٹیوں کے دکانوں میں پھیل گیا ۔ آگ بجھانے کیلئے مقامی افراد گھروں سے نکل آئے اور اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں ۔تاہم عشیری درہ دیر اور واڑی سے کافی دور واقع اسی وجہ سے فائربریگیڈ کے گاڑیوں کو پہنچنے میں کا فی وقت لگا ۔لیکن فائربریگیڈ کے فائٹر نے جیسے ہی آگ کی جگہ پہنچ گئے تو آگ کو قابو کرنے کیلئے عملے نے مقامی سینکڑوں افراد کے ہمراہ امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا ۔اور آگ کو ڈھائی گھنٹے بعد قابو کرلیا ۔تاہم آگ سے مقامی پولیس اور لوگوں کے مطابق تارپتار بازار کے 65سے70کے قریب دکانیں جس میں ہوٹل ،جنرل سٹور،کپڑوں کی دکانیں دیگر مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگئی ۔

جبکہ کشمیر بیکر ی اور اس کی دوسرے فلور پر گھر بھی مکمل طور پر جل گیا ہے ۔متاثرہ دکانوں کے مالکان احسان اللہ اور تاج محمد نے کہا کہ آگ سے ستر دکامیں جل گئے ہیں جس سے مقامی تاجروں کی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔جبکہ صبح ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود ،تحصیل ناظم میرمخزن الدین ،ضلع نائب ناظم حنیف اللہ نے تارپتار بازار کا دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا ،میرمخزن الدین نے کہا کہ عشیری درہ دورافتادہ علاقہ ہے رات کا وقت تھا لیکن اطلاع ملنے کے فوری بعد فائربریگیڈکی دو گاڑیاں بروقت پہنچی اور مقامی افراد کے ساتھ آگ بجھانے کے امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ،انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عشیری درہ کے علاقے الگ فائربریگیڈ گاڑیوں کی منظوری دیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے ٹی ایم اے دیرمیں ہمارے پاس رقم بھی موجود ہے تاکہ آئندہ اتنی بڑی تعداد میں آگ کی وجہ سے نقصانات سے بچا جا سکے ۔مخزن الدین نے کہ ٹی ایم اے سٹاف اور فائربریگیڈ عملے کیلئے بہترین کارکردگی پر پانچ ،پانچ ہزارو پے کا نقد اعلان بھی کیا ۔ضلعی کونسلر عبدالطیف ، عبداللہ اور دیگر شہریوں نے صوبائی،مرکزی اور ضلعی حکومت سے آگ سے ہونے والے نقصانات کے آزالے کیلئے مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا۔