بریکنگ نیوز
Home / کالم / استعفیٰ دیں

استعفیٰ دیں

2013 کے انتخابات نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان انتخابات نے ’’ استعفیٰ دو‘‘کلچر کو عام کیا ہے۔ انتخابات کے بعد حکومت کے وجود میں آنے تک محترم عمران خان صاحب فراش تھے ایک انتخابی جلسے کی سونامی کی زد میں آ کر وہ سٹیج سے نیچے گر گئے او رہسپتال جا پہنچے جب ہسپتال سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کا مینڈیٹ چوری ہو گیا ہے اور یہ ساری کارستانی مسلم لیگ ن کی ہے چنانچہ انہوں نے حکومت کیخلاف تحریک اور دھرنا دینے کا اعلان کیا اور دھرنا دیا اتنا بڑا دھرناکہ وہ گنیز بک میں درج ہو گیااس دھرنے کا ایک مطالبہ تھا کہ نواز شریف کیونکہ دھاندلی کر کے وزیر اعظم بنے ہیں اسلئے انکواستعفیٰ دینا چاہئے اور انتخابات دوبارہ کر وانے چاہئیں اس پر تجزیہ نگاروں نے بڑی بحث کی مگر ہوا یہ کہ ایک وقت میں عمران خان اور طاہرالقادری صاحب کو دھرنا خود ہی ختم کرنا پڑاخیر یہ دھرنا بغیر وزیر اعظم کا استعفیٰ لئے ختم ہو گیا مگر عمران خان کا مطالبہ برقرار رہا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں پھر خوش قسمتی سے پانامہ لیکس سامنے آ گئی اور عمران خان صاحب کو نواز شریف کے استعفے کی ایک اور وجہ مل گئی چنانچہ انہوں نے پورے زور و شور سے پانامہ لیکس پر نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کر دیا جبکہ نواز شریف کا نام بھی ان لیکس میں نہ تھا ان کے بیٹوں کا نام ضرور تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ پاکستان میں کاروبار نہیں کرتے اسلئے وہ پاکستان کے ٹیکس دہندہ بھی نہیں ہیں چنانچہ وہ جو بھی کاروبار یاآف شور کمپنیاں بناتے ہیں اسکا پاکستانی حکومت سے کوئی تعلق ہی نہیں مگر صرف اس لئے کہ وہ نواز شریف کی اولاد ہے اس لئے نواز شریف کو استعفیٰ دینا چاہئے ۔

اسی دورا ن پی پی پی کی جانب سے وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ سامنے آیا اسکی وجہ تو ہم نہیں جان سکے مگر بلاول زرداری کو جو کچھ لکھنے والوں نے لکھ کر دیا اس نے جوش و خروش سے پڑھ دیا اور چوہدری نثار کے استعفے کا مطالبہ کر دیا بلاول کے سپوکس مین مولا بخش چانڈیو صاحب جو پنجاب اور سندھ میں نفرتیں پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اس استعفے پر گرج برس کر بولے اور چوہدری صاحب کے استعفے کا مطالبہ، سندھ اورپنجاب کے تناظر میں‘ شدومد سے کر دیاادھر بلاول صاحب کی جانب سے جو چار مطالبات حکومت سے کئے گئے ہیں ان میں بھی چوہدری صاحب کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہے چوہدری صاحب کی غلطی کیا ہے اور انہوں نے اپنی وزارت سے کتنے کچھ پیسے بنائے ہیں۔

اس کا تو ہمیں معلوم نہیں مگر بلاول صاحب کی جانب سے جو استعفے کامطالبہ پڑھا گیا وہ ساری پی پی پی کی قیادت کا صبح شام کا وظیفہ بن گیا بلاول صاحب کے پانا مہ لیکس کی وجہ سے جو نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ سامنے آ رہا تھا اس کا تو جواب چوہدری صاحب کی جانب سے یوں دیا گیا کہ نواز شریف تو کسی بھی آف شور کمپنی کے مالک نہیں تھے اور نہ ہیں مگر شہید بی بی کا نام توآف شور کمپنیوں کے حوالے سے پانامہ لیکس میں درج ہے اسکا جواب جناب بلاول کیا دینگے اب لیکس کی بات تو ایک طرف ہو گئی اسلئے کہ جناب عمران خان اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی ناراض ہیں کہ فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہیں ہے مگر ایک اور وجہ وزیر اعظم کے استعفے کی ہاتھ لگ گئی کہ وزیر اعظم نے اسمبلی کے سامنے اپنے کاروبار کے معاملے میں جھوٹ بولا ہے۔ اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لئے انکواستعفیٰ دینا چاہئے اب یہی جناب خورشید شاہ صاحب کا بھی مطالبہ ہے۔معلوم نہیں کہ کون استعفیٰ دیتا اور کون استعفیٰ لیتا ہے مگر یہ ہے کہ قوم کا پیسہ اور وقت نان ایشوز پر صرف کیا جا رہا ہے۔