Home / اداریہ / توانائی بحران اور حکومتی منصوبہ بندی

توانائی بحران اور حکومتی منصوبہ بندی

وزیر اعظم نوازشریف نے اعداد و شمار کے ساتھ انرجی سیکٹر میں اپنی حکومت کے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی توجہ 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے ٗ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت2022ء تک30ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے ہدف پر کام کر رہی ہے ذمہ دار سرکاری اداروں کے پاس مہیا تفصیلات کے مطابق مارچ2018ء تک 10ہزار996میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی ٗ دوسری جانب عالمی جریدے وال سٹریٹ جر نل کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پاکر آئندہ انتخابات میں کامیابی کی راہ ہموار کر رہی ہے اس دعوے کے ساتھ جریدہ یہ بھی بتا رہا ہے کہ چین کے تعاون سے 21ارب ڈالر کے انرجی پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے رپورٹ کے مطابق توانائی کے10منصوبوں پر10ہزار چینی کام کر رہے ہیں ان پراجیکٹس کی تکمیل پر بجلی کی پیداوار میں60فیصد اضافہ ہوگا۔ تمام اعداد و شمار اور انرجی سیکٹر کے جاری و منصوبہ بندی کے مراحل میں موجود پراجیکٹس حکومت کے اعلانات و اقدامات کی تصدیق کرتے ہیں۔

تاہم برسرزمین اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ترسیل کے نظام میں خرابی ٗاووربلنگ اور اکثر متعلقہ دفاتر میں خدمات کے ناقص معیار کے باعث صارفین کسی جگہ ریلیف محسوس نہیں کر رہے ٗ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کو یہ بتایا ضرور گیا ہے کہ ٹرانسمیشن سسٹم میں بہتری کے اقدامات کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاہم اس نگرانی کو اس وقت ثمر آور کہا جائے گا جب عام صارفین کی شکایات کا ازالہ ہو اس مقصد کے لئے انرجی سیکٹر کے ساتھ خدمات کی فراہمی کے تمام اداروں میں نگرانی کا کڑا نظام دینا ہوگا خیبر پختونخوا میں پیسکو نے اپنے ذمہ دار عملے کے خلاف سروسز کی فراہمی میں کوتاہی پر کاروائی کرکے ایک رول ماڈل دیا بھی ہے حکومت جتنی توجہ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے پیداواری منصوبوں پر دے رہی ہے اتنی ہی توجہ ترسیل کے نظام میں بہتری اور خدمات کی فراہمی پر بھی دینا ہوگی تب جاکے تبدیلی کا احساس ہوگا۔

اعلانات اور نتائج میں فاصلے

خیبرپختونخوا حکومت نے برسراقتدارآنے کیساتھ صوبائی دارالحکومت کا حلیہ درست کرنے کاعزم ظاہر کیا ‘اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے پشاور کا گردآلود چہرہ نکھارنے کے لئے بعض اہم اقدامات اءھائے جن کے نتائج نظر بھی آ رہے ہیں‘ اس سب کیساتھ انکار اس بات سے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت بھی حکومت کے بہت سارے اعلانات اور فیصلے برسر زمین نتائج کے منتظر ہیں‘ شہر کے قدیم گنجان آباد علاقے معیاری میونسپل سروسز سے محروم ہیں ‘ ٹریفک کی روانی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سوائے چند اہم سڑکوں کے مجموعی طور پر بے ثمر ثابت ہو رہے ہیں ‘ غیر قانونی اور اپنے طور پر قائم کئے گئے ٹرانسپورٹ اڈے ابھی بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ‘آلودگی سینے اور سانس کی بیماریاں پھیلا رہی ہے ‘ پانی کی بوسیدہ لائنیں ابھی تک تبدیلی کی منتظر ہیں‘ اہم بازاروں میں پارکنگ کامسئلہ ہنوز حل طلب ہے ‘ حکومتی اقدامات اور فیصلوں کو عوامی ریلیف کا ذریعہ بنانے کے لئے ضرورت مانیٹرنگ کے موثر نظام کی ہے ۔