بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین روس اور پاکستان کی مثلث

چین روس اور پاکستان کی مثلث

تاریخ نے ہمیں یہ سبق سکھلایا ہے کہ سیاسی دوستانے اور یارانے کبھی بھی دائمی نہیں ہوتے ‘ وقت اورحالات کے ساتھ ان میں تغیر اور تبدیلی آتی ہے لینن کاسوویت یونین اور ماوزئے تنگ کا چین دونوں بنیادی طور پر کمیونسٹ ممالک ہی تو تھے دونوں کی معیشت کمیونزم پر مبنی تھی لیکن بین الاقوامی امور میں انہوں نے اپنے لئے جدا جدا رستے چنے سوویت یونین عرصہ دراز تک بھارت کی سرپرستی کرتا رہا جب کہ بھارت اور چین کی آپس میں دشمنی اس قد ر بڑھی کہ1960ء کے اوائل میں دونوں ممالک کی افواج میک موہن بارڈر لائن پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئیں واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس صدمے کی وجہ سے بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ممالک نے امریکہ کی قیادت میں سوویت یونین کے خلاف سیاسی مہم جوئی شروع کی تو ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے خواہ مخواہ پاکستان کو اس میں امریکہ کا آلہ کار بنایا اورروسیوں کی مفت میں دشمنی مول لی یہ دشمنی پاکستان کو بہت مہنگی پڑی اور آج تک روسیوں کے دل میں ہمارے لئے میل ہے سوویت یونین اب ٹوٹ چکا ہے اس کے حصے بخرے ہو گئے ہیں روسی صدر پیوٹن اپنے ملک کی نشاۃ ثانیہ چاہتے ہیں وہ دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ گوادر کے گرم پانیوں پر تو ان کی نظر تھی لیکن انہوں نے وہاں پر پہنچنے کیلئے زور زبردستی کی جو پالیسی اپنائی تھی وہ فیل ہو چکی وہ اس کے علیٰ الرغم چین وہاں تک پاکستان کے ساتھ پیا ر و محبت کی حکمت عملی اپنا کر ان سے پہلے پہنچ گیا آج اگر روس بھی سی پیک کے ثمرات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو پاکستان کو فراخدلی کا مظاہرہ کرکے اس کیساتھ اس معاملے میں پوری معاونت کرنی چاہئے شاید ایسا کرکے ہم اس کے دل سے وہ بدگمانیاں اور غلط فہیماں نکالنے میں کامیاب ہو سکیں ۔

جو ماضی میں ہماری امریکہ کی اندھی تقلید سے پیدا ہو ئی تھیں روس کو مودی سرکار کا دن بہ دن امریکہ کی طرف جھکاؤ اچھا نہیں لگا ساری عمر بھارت نے روس سے لو لگائی اور اب آخر میں وہ امریکہ کی گود اور چرنوں میں جا بیٹھا ہے روس اور بھارت کی اس رنجش کو ہمیں اپنی خوش قسمتی سمجھنا چاہئے روس کو ماضی میں ہم کئی مرتبہ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے خفا کر چکے ہیں آج موقع آ گیا ہے کہ ہم اپنے پرانے قرضے اتار کر اسے گلے مل جائیں ہمیں آج چین اور روس دونوں کی دوستی درکار ہے دونوں کمیونسٹ ملک تھے اور اب بھی ہمیں ماضی میں ہمارے تنگ نظر اور سیاسی فہم و ادراک سے نابلد حکمران کہ جن میں دور اندیشی بھی عنقا تھی امریکہ کے کہنے پر سوویت یونین کی اس وجہ سے مخالفت کرتے تھے کہ وہ کمیونسٹ ملک ہے چین بھی تو کمیونسٹ ملک تھا اور ہے تو اس سے تو ہمارے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہم نے بھی حتیٰ الوسع چین سے اپنی دوستی کا حق نبھایا اور چین نے بھی مشکل حالات میں ہمیشہ ہمارے سر پر اپنا ہاتھ رکھا ۔ ماضی کی غلطیوں سے ہمیں سبق لینا ہوگا اور چین اور روس دونوں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرنے ہوں گے یقین کیجئے اگر اس خطے میں روس چین اور پاکستان کی ایک سیاسی اورانتظامی مثلث بن گئی۔

تو ہم اپنے خلاف بھارت کی نہ ختم ہونے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے کافی حد تک محفوظ ہو جائیں گے بھارت اس خطے میں اپنی جمعداری چاہتا ہے اور یہ مثلث اس کے عزائم کو پاش پاش کر سکتی ہے بھارت نے ماضی میں ہم سے جو کچھ بھی کیا اس کے ثبوت کیلئے مودی نے اپنے بنگلہ دیش کے دوران جو بیان دیا وہ کافی ہے موصوف نے برملا فرمایا کہ مکتی باہنی نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں جو کلیدی کردار ادا کیا اس میں بھارت کا بڑا حصہ تھا کیونکہ ان کو عسکری اور مالی تربیت ہم نے ہی فراہم کی تھی اس کھلے اعتراف کے بعد اس ملک میں جو شخص بھی بھارت کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے گا اس کی حب الوطنی مشکوک ہو گی اس بات میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں کہ بھارت کبھی بھی نہیں چاہتا کہ ڈیورنڈ لائن پر بارڈر مینجمنٹ مضبوط ہو افغانستان جب یہ گلا کرتا ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان آتے ہیں تو پاکستان کی عسکری قیادت افغانستان کے کرتا دھرتوں کو کہتی ہے کہ چلو اگر یہ بات ہے تو آؤ ہم اپنے بارڈر پر سکیورٹی چیکنگ سخت کر دیں آؤ ہم جگہ جگہ پکٹیں بنا دیں آؤ ہم ایک دوسر ے کے ملک میں آمد و روفت اس طریقے سے سخت کر دیں کہ جس طرح یورپی ممالک یا امریکہ نے اپنے امیگریشن کے نظام کو فول پروف بنایا ہے۔