بریکنگ نیوز
Home / کالم / ’کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا‘

’کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا‘

فرض کریں کہ پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی نے الیکشن جیتنے کے بعد انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا ہی لیا لیکن ساتھ ساتھ سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نتیجہ قبول کرلیا ہوتا‘ فرض کریں کہ عمران خان نے اعلان کیا ہو تاکہ ان کیساتھ ناانصافی ہوئی ہے لیکن ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر وہ یہی نتائج قبول کرتے ہیں اور جو نشستیں انکو ملی ہیں‘ انہی سے کام لیکر وہ اپنی کارکردگی دکھاکر ثابت کرینگے کہ وہ ملک و قوم کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں فرض کریں کہ انتخابا ت کے بعد پی ٹی آئی نے تمام پارٹیوں کو دعوت دی ہو تی کہ آئیں آج سے ہم مل جل کر پختونخوا کی تاریخ بدل دیتے ہیں‘ فرض کریں انہوں نے مسلم لیگ کو بھی صوبائی حکومت میں شامل ہونیکی دعوت دیدی ہوتی‘ فرض کریں انہوں نے قوم پرستوں کو بھی کہا ہوتا کہ چلو الیکشن ہوگیا، اب مل جل کر اس صوبے کی خدمت کرتے ہیں‘ فرض کریں انہوں نے مولویوں کو بھی تھوڑی بہت عزت دیکر انکو دشمن نہ بنا دیا ہوتا‘فرض کریں کہ پی ٹی آئی نے بھی سیاست سمجھ کر دوسری پارٹیوں کا تعاون حاصل کیا ہوتا‘ بے شک یہ تعاون صرف پختون خواہ کی ترقی کیلئے استعمال ہوتا۔ بے شک یہ تعاون صرف بیانات تک محدود ہوتا اور سیاسی بلیک میلنگ کے بدلے نہ ہوتا۔ بے شک زیادہ تر پارٹیوں کو حکومت میں شامل کیے بغیرہی دوست بنا لیا ہوتا۔

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

کے مصداق مجھے بھی مرا ہواہی سمجھ لیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرض کرنے سے بہت فرق پڑگیا ہوتا‘ تو چلیں فرض کریں کہ پی ٹی آئی نے محاذ آرائی کا رستہ نہ اختیار کیا ہوتا‘ انکے رہنماؤں نے دھاندلی پر لعنت بھیجی ہوتی اور یہ ساری توانائی صرف ایک نکتے پر مرکوز ہوتی ۔ عمران خان بنی گالا چھوڑ کر ریگی للمہ میں ایک کرائے کے گھر میں رہائش اختیار کرلیتے۔ قومی اسمبلی کے ہر اجلاس میں جاتے اور ’میرے معزز مخالف رکن‘ کہہ کر مخالفین کو مخاطب کرتے‘ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو سختی سے تاکید کرتے کہ کسی تقریر یا بیان میں شرافت کا دامن نہ چھوڑا جائے‘ صوبائی اسمبلی میں ایک مہذب بحث کی روایت شروع کرتے‘ فرض کریں کہ وہ ان نوجوانوں کو جن کو عمران خان کی ذات میں ایک آئیڈیل نظر آیا، کی اخلاقی تربیت کرتے‘ فرض کریں کہ وہ نئی نسل میں برداشت کی ایک نئی روح پھونکتے‘ فرض کریں۔ فرض کریں۔

پختون خوا کئی لحاظ سے پاکستان کے دوسرے صوبوں سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے باشندے عصبیت کے اثرات سے پاک ہیں اور اگرچہ آپس میں دشمنیاں عام ہیں اور آپس میں حسد کا جذبہ بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے لیکن یہی پختون‘ نہ صرف دوسرے کلچر، رنگ و نسل اور غیر مقامی افراد کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ دوسرے مذاہب کیلئے بھی دل میں وسعت رکھتا ہے‘نہ صرف چند مقتدر حلقوں کے پلان پر اپنے علاقے میں غیر ملکیوں کو نہ خوش آمدید کہا بلکہ ان کو اپنی بیٹیاں بھی عقد میں دے دیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہمان بن کر وہ لوگ مصیبت کا باعث زیادہ بنے۔ دوسرے صوبو ں سے آنیوالے بھائی بہنوں کو تو کھلے دل سے قبول کرتے ہی ہیں، پڑوس ملک کے لاکھوں مہاجرین کو بھی خوشی خوشی نہ صرف آباد ہونے دیا بلکہ انکو اپنے ساتھ کاروبار ، لین دین‘ جائیداد اور رشتوں میں بھی شریک کیا۔

دوسرا امتیازپختونخوا کا سیاسی شعور ہے‘ فوجی حکومت کو قبول کیا تو اگلی دفعہ یو ٹرن لیتے ہوئے بالکل غیر متوقع طور پر ’کتاب‘ کو واقعی قرآن سمجھتے ہوئے ایم ایم اے کو کامیاب کرایا‘ جب انہوں نے مایوس کیا تو اگلے الیکشن میں بالکل متضاد نظریات کے حامل ’روشن خیال اور نیشنلسٹوں ‘کو کامیا ب کروایا انکی طرزِ حکمرانی سے مایوس ہوئے تو پھر انتخابات میں ایک بالکل نئی نویلی پارٹی کو حکومت بخش دی۔ فرض کریں کہ میری اوٹ پٹانگ خواہشات سچ ثابت ہوتیں۔ فرض کریں کہ عمران خان ایک بامروّت اور خوش اخلاق لیڈر کے طور پر جانے جاتے۔ فرض کریں کہ وفاق اور صوبے کے درمیاں اتنی بڑی خلیج نہ بنتی۔ فرض کریں کہ پی ٹی آئی کی خاکساری سے نہ صرف وفاقی حکومت متاثر ہوتی بلکہ افسر شاہی بھی سنجیدگی سے نئے پختون خوا کی تعمیر میں روڑے نہ اٹکاتی۔فرض کریں عمران خان قومی اسمبلی کی چند سیٹوں پر لعنت بھیج کر دھرنوں میں نہ پڑتے تو پی ٹی آئی کے پاس کم از کم ایک سال کا اضافی وقت ہاتھ میں ہوتا اور اس ایک سال میں کیا کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔

اس ایک سال میں پی ٹی آئی اگلے الیکشن کیلئے ایک سٹریٹجی بناتی جو ہر قسم کی الیکشن دھاندلی کا سد باب کرتی۔ اسی عرصے میں پی ٹی آئی نوجوانوں کو کھیلوں میں مشغول کرتی اور اگلے اولمپکس کیلئے کئی ٹیمیں بنا کر سر اونچا کرنے کا موقع حاصل کرلیتی ‘ فرض کریں کہ پی ٹی آئی صلح کُل پر عمل کرتی تو وفاقی ادارے پختونخوا کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہ بنتے‘ اب جو ایک سڑک کیلئے درجن بھر وفاقی محکموں کی اجازتیں پھنسی ہوئی ہیں‘ یہ ساری فائلیں کب کی منظور ہوچکی ہوتیں۔ فرض کریں کہ پختونخوا کی حکومت وزیر ریلوے کو دشمن نہ بناتی تو آج ریلوے کی بے کار پڑی زمین پر لوکل ٹرین چل رہی ہوتی‘ فرض کریں کہ صوبائی حکومت وزیر واپڈا کو نہ چِڑاتی تو صوبے کو اپنی پیداواری بجلی میں سے کم از کم اسکی ضروریات کیلئے پوری بجلی مل جاتی‘ فرض کریں کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں کتے بلی کا بیر نہ ہوتا تو پشاور میں ورکرز ویلفیئر کے تعاون سے جھلسے ہوئے مریضوں کا وارڈ مکمل ہوچکا ہوتا‘لواری ٹاپ کا سرنگ مکمل ہوجاتا‘پوری صوبائی حکومت اسمبلی کی چند نشستوں کیلئے ایک مذہبی جماعت کے بلیک میلنگ میں آتی اور نہ ہی علاقائی سیاست کے حامل ایک گروہ یا آزاد ارکان کی وجہ سے مجبور ہوتے۔ چلیں یہ سب کچھ تو نہ ہوا، میرا شیخ چلی بننے کا شوق تو جاری رہا ’ کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔