بریکنگ نیوز
Home / کالم / ان کے ساتھی تھے گھر کے اندر بھی

ان کے ساتھی تھے گھر کے اندر بھی

قومیں جب جنگ کرتی ہیں تو اُ سکے لئے سالوں سر جوڑ کے بیٹھتی ہیں کہ کس طرح دشمن کو پہلے کمزور کر نا ہے اور کس وقت اُس پر وار کرنا ہے۔ کمزور کرنے کیلئے وہ دشمن ملک کے اندر اپنا اثر رسوخ پیدا کرتی ہیں ‘اُنکے گماشتے جب اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اُن کے اشاروں پر ملک میں بدامنی کو ہوا دینے کے قابل ہو جائیں۔ اس کے لئے بہت سے حربے استعمال کئے جاتے ہیں مثال کے طور پر ایک طبقے کو باور کروایا جاتا ہے کہ دوسرا طبقہ یا حکمران طبقہ ان کے حقوق کی پامالی کر رہا ہے۔مثلاً ہمارے ملک میں دو طبقوں کو لڑایا جا رہا ہے۔ پاکستان بنتے وقت سارے ایک ہی دین کے پیروکار تھے کوئی فرقہ واریت نہیں تھی کوئی کسی کا دشمن نہیں تھامگر جب پاکستان ٹوٹ گیا اور جو بچا اس کو پاکستان بلکہ قائد اعظم کا پاکستان کہا گیا اور ہم اس کی تزئین و آرائش کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔ توایسے میں پاکستان کے وجود کے دشمنوں نے فرقہ واریت کو پروان چڑھایا گیا اور یوں مسلمان ایک دوسرے کو اسلام سے خارج قراردینے لگے اور ایک دوسرے کے خلاف لشکر بنائے گئے تب کہیں جا کے حکومتوں کو خیال آیا کہ بات غلط ہو رہی ہے۔ مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ادھر سیاست میں لوگوں ے ایک دوسرے کو مطعون کرنا شروع کر دیا اور اس طرح ملک میں قوم پرستی نے جنم لیا ۔

اس کو بھی بر وقت روکنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حکومتوں نے اپنے اقتدر کی خاطر ان قوم پرستوں کی سرپرستی کی۔ اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ بیج بونیوالے کھل کر سامنے آ رہے ہیں ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش بھی پاکستان کے پانچ ٹکرے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ اور ہمارا اور حکومت کا حال یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کا ایک طبقہ وزیر اعظم کو نہیں مانتا ۔دوسرا وزیر داخلہ کا دشمن بنا ہوا ہے ‘ تیسرا دن رات فوج کیخلاف پروپیگنڈے پر لگا ہے‘ ایک طبقہ فوج کی ایسی تصویر کشی کر رہا ہے کہ جیسے فوج اور حکومت مختلف طبقے ہیں اور ایک دوسرے کے ویری ہیں۔اگر فوج کوئی کاروائی کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے چیف ایگزیکٹو کے حکم پر کرتی ہے مگر تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ فوج اور حکومت کوئی دو چیزیں ہیں اور یہ ایک پییج پر نہیں ہیں۔ ادھر کچھ سیاسی جماعتیں فوج کو دعوت دے رہی ہیں کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لے۔یہ بھانت بھانت کی بولیاں خود سے نہیں بولی جا رہیں بلکہ یہ بولیاں بلوائی جا رہی ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ یہ بولیاں کون بلوا رہا ہے۔جب بنگلہ دیش جیسا ملک بھی پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی بات کرے گا یا پاکستان کو تنہا کرنے کی بات کرے گا تو اُس کے پیچھے کون ہوگا اس کے لئے کسی گہرے فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج جب مردم شماری کی بات آئی تو ہمارے بلوچی سردار نے بر ملا کہہ دیا کہ افغان مہاجرین کو پاکستانی تصور کیا جائے۔یہی وہ ڈر تھا کہ جس کو بلوچی کہہ رہے تھے۔

یہ بھی عام بات ہے کہ افغان مہاجرین سے زبردستی پاکستان شنا ختی کارڈ بنوائے گئے جس کی وجہ سے بلوچستان میں مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔اسی طرح کے پی کے میں بھی ایک بڑی تعداد افغان مہاجرین کی پاکستانی شناختی کارڈ رکھتی ہے اور کل کلاں کو جب مردم شماری ہو تی ہے تو ظاہر ہے کہ ایک طبقے کی اکثریت ہو جائے گی جس سے آنے والے وقتوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مردم شمای پر جو تحفظات چھوٹے صوبوں میں تھے وہ اب بھی برقرار ہیں۔ان تحفظات کو دور کرنے کی بجائے اب یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے افغانیوں کو بھی ( خاص کر پشتو سپیکنگ ) پاکستانی تصور کیا جائے‘ جبکہ افغانوں کا جو رویہ پاکستان کیساتھ ہے وہ گزشتہ ایک کانفرنس میں مودی اور مودی کے یار افغان صدر نے کھل کے ظاہر کر دیا ہے۔ جب پاکستان میں مودی کے یار اورقوم پرستی کے نام پر طبقات موجود ہیں تو بنگلہ دیشی بھی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے پانچ ٹکڑے کر دو۔اور ہمارے لیڈر کیا کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے‘ کیا جو سب کچھ کیا جا رہا ہے ،چاہے کسی بھی جماعت کی طرف سے، کیا وہ پاکستان کو مضبوط کریگا‘جس طرح کی باتیں سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں یہ پاکستان کے حق میں نہیں ہیں۔ خدا را پاکستان کا خیال کرو کہ یہ ہے تو ہم ہیں۔