بریکنگ نیوز
Home / کالم / سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا؟

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا؟


جب اعظم سہگل کو پی آئی اے کا چیئرمین بنایا جارہا تھا تو یہ کہا گیا کہ چونکہ وہ پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں‘تجارتی ذہن کے مالک ہیں وہ قومی ائر لائنز کو کمرشل خطوط پر چلائیں گے اور اس کا قبلہ درست کردینگے جب حکومت سے یہ سوال کیاگیا کہ ان سے پہلے بھی تو پی آئی اے کو پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے کیا گیا تھا تو پھر اس کی حالت بد سے بدتر کیوں ہوتی گئی تو اس سوال کو گول کردیاگیا حیرت کی بات یہ ہے کہ پی آئی اے اوج ثریا پر اس وقت پہنچی کہ جب اس کی باگ ڈور یا تو ایئر مارشل اصغرخان کے ہاتھوں میں تھی اور یا پھر ائر مارشل نور خان کے۔ سوپنے کا مقام ہے کہ آخر ان افراد کے پاس کونسی گیڈر سنگھی تھی کہ ان کے ادوار میں پی آئی اے کے جہاز وقت مقررہ پر پرواز بھرتے اس کی کیبن سروس اور گراؤنڈ سروس دونوں لاجواب تھیں اور واقعی باکمال لوگ اس کے عملے میں شامل تھے اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ دنوں افراد میرٹ اور صرف میرٹ پر یقین رکھتے تھے جب سے قومی ائر لائنز میں سفارشی خطوط پر بھرتیاں شروع کی گئیں اس میں نااہل سٹاف کی ایک فوج ظفر موج بھرتی ہوگئی جب ہر شاخ پے الو بیٹھ جائے تو گلستان کا جو حشر نشر اس وقت ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا کونسا مشکل کام ہے ایک دور تھا کہ پی آئی اے کا شمار دنیا کی چار بڑی ائر لائنز میں ہوتا تھا دیگر تین فضائی کمپنیوں کے نام تھے ۔

پین ایم بی او اے سی اور لفٹانسایہ تین فضائی کمپنیوں کا تعلق باالترتیب امریکہ انگلستان اور مغربی جرمنی سے تھا پی آئی اے کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک نے اپنے اپنے ملک کیلئے ائر لائنز بنانے کا منصوبہ بنایا تو ہماری ائر لائنز کے متعلقہ عملے نے ان کی ائر لائنز بنانے میں ان کی معاونت کی آج وہ سب ائر لائنز دنیا کی کامیاب ترین اور محفوظ ترین ائر لائنز شمار کی جاتی ہیں کسی نے بالکل سچ ہی تو کہا ہے کہ ایسے ویسے کیسے کیسے ہوگئے کیسے کیسے ایسے ایسے ہوگئے ایک نہایت ہی مستند رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں دو ایسی فضائی کمپنیاں ہیں کہ جن کو غٰیر محفوظ ائر لائنز تصور کیا جاتا ہے ایک ہے ایتھوپین ائر لائنز اور ایک ہے پی آئی اے ‘ اب تو آئے دن کسی نہ کسی جگہ سے پی آئی اے کے طیاروں میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی اطلاعات آرہی ہیں افسوس کہ اعظم سہگل کا پرائیویٹ سیکٹر کا تجربہ بھی پی آئی اے کو نہ سدھار سکا اور حویلیاں کا حادثہ ان کے استعفے کا باعث بنا کہا جاتا ہے کہ اس وقت دنیا میں آسٹریلیا کی فضائی کمپنی کینٹاس کا سیفٹی ریکارڈ پہلے نمبرپر ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لیکر آج تک اس ائر لائنز کا کوئی فضائی حادثہ نہیں ہوا ۔

پی آئی اے کے کرتا دھرتوں کا کام ہے کہ وہ ذرا آسٹریلوی ائر لائنز کے طریقہ کار‘ قواعد وضوابط اور ورکنگ کنڈیشنز کا تفصیلی جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آخر انہوں نے کونسا طریقہ کار اپنا رکھا ہے کہ جس سے اس کا سیفٹی ریکارڈ اتنا اعلیٰ ہے پی آئی اے میں سفارش پر بھرتی ہوئے سٹاف کی بھرمار ہے ان سب کو مناسب مالی معاونت دے کر اب فارغ کرنا ہوگا فالتو چربی کاٹنا ہوگی اور آئندہ جو سٹاف کی سلیکشن کی جائے اس میں سیاسی مداخلت بالکل بند ہو حکومت کو فوری طور پر پی آئی اے کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لئے اور اسے دوبارہ فعال کرنے کے لئے جہاں اہل عملہ کی ضرورت ہوگی وہاں ایک مالی فنانشنل پیکیج کی بھی ضرورت ہوگی حکومت کو ایک کڑوا گھونٹ پی کر خزانے سے ایک بڑی رقم بطور بیل آؤٹ پی آئی اے کو مہیا کرنا ہوگا یونین بازی نے بھی اکثر ائر لائنز اور ریلویز کو کافی حد تک خراب اور برباد کیا ہے پی آئی اے میں تو کم ازکم آئندہ دس برسوں تک کام اور صرف کام کرنا ہوگا انتھک قسم کا کام بے شک آپ ملازمین کو اچھا مالی پیکیج دیں پر جہاں تک کام کا تعلق ہے اس پر ملازمین کی طرف سے کوئی بلیک میلنگ برداشت نہ کی جائے۔