بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ریگولیٹری اتھارٹیزکا کنٹرول

ریگولیٹری اتھارٹیزکا کنٹرول

وفاقی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی 5 ریگولیٹری اتھارٹیز کا انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن سے وزارتوں کو منتقل کر دیا ہے ۔ 1973ء کے رولز آف بزنس میں ترمیم کے بعد ہونے والے فیصلے کے تحت نیپرا کو وزارت پانی و بجلی ‘ پی ٹی اے اور فریکونسی بورڈ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اوگرا کو وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور پروکیورمنٹ کو فنانس ڈویژن کے ماتحت کر دیا گیا ‘ اس طرح سے ان اتھارٹیز کو حاصل خود مختاری ختم ہو گئی ‘ وطن عزیز میں ریگولیٹری اتھارٹیز کے قیام کا بنیادی مقصد صارفین کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا تھا تاہم اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ اداروں کا آپریشن ان کے مینڈیٹ اور اختیارا ت میں توازن کیساتھ ہی درست ‘ فعال اور فائدہ مند ہوتا ہے ‘ جب ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر جائیں اور ان کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو اسے کسی صورت گڈ گورننس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بحث میں پڑے بغیر کے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا فیصلہ درست ہے یا غلط اس برسرزمین حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ ہمارے سرکاری محکموں کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہوتی جا رہی ہے۔

انکار اس سے بھی ممکن نہیں کہ وفاقی حکومت نے اصلاح احوال کیلئے بیورو کریسی کے پورے نظام کی اوورہالنگ کا عندیہ دے رکھا ہے تاہم اس ضمن میں پیش رفت نمایاں طور پر سامنے نہیں آ سکی ‘ ریگولیٹری اتھارٹیز ہوں یا سرکاری خود مختار اور نیم خود مختار کارپوریشنز ان کی کارکردگی کا انحصار اس مجموعی بیورو کریسی نظام پر ہے جس کو بہتر بنانے اور موجودہ دور کی ضروریا ت سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے ‘ جب وزارتوں کی اپنی کارکردگی بہتر ہو گی تو ان کے زیر کنٹرول تمام ادارے بشمول5 اتھارٹیز کے فعال کردار ادا کر سکیں گی اس لئے ضرورت بیورو کریسی نظام میں اصلاحات کے جاری کام کو بلاتاخیر مکمل کرنے کی ہے جس پر حکومت کو زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہو گی‘اس سارے کام میں یہ حقیقت مدنظر رکھنا ہو گی کہ اس وقت عام شہری خدمات کے حصول میں سرکاری مشینری کی کارگزاری سے مطمئن نہیں جس کی ریلیف کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ اس کی مشکلات اور شکایات کا ازالہ ہو سکے۔

این ایف سی اجلاس

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈا ر کا کہنا ہے کہ فاٹا کو وفاقی دھارے میں لانے کے لئے اس کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہو گی ‘ فاٹا گلگت بلتستان او ر آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے خطیر فنڈز مختص کئے جانا ضروری ہے اس سب کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ آئندہ بجٹ سے پہلے نافذ کرنے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے فاٹا اور دوسرے علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے این ایف سی کے فیصلے اور حکومت کا عزم قابل اطمینان ہے تاہم اس سب کے ساتھ ضرورت خیبر پختونخوا کے معاملات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔

اس صوبے کے پن بجلی منافع کے بقایا جات اور سالانہ منافع کی بروقت ادائیگی کیساتھ صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے خصوصی پیکیج ناگزیر ہے ‘ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے یہاں کی صنعتوں کو خصوصی مراعات دی جائیں ‘خیبر پختونخوا سے ملنے والی گیس سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ امن وامان کی صورتحال کا سامنا کرنے والے اس صوبے کی معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف ملے۔