بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بھارت کے بعد بنگلہ دیش نے بھی سارک اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا

بھارت کے بعد بنگلہ دیش نے بھی سارک اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا


ڈھاکا۔ بھارت کے بعد بنگلہ دیش نے بھی پاکستان میں ہونے والے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق بھوٹان اور افغانستان کے بھی سارک اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے خبریں گرم ہیں۔بنگلہ دیش کے جونیئر وزیر خارجہ شہریار عالم نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے تصدیق کی کہ بنگلہ دیش سارک اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔دوسری جانب ہندوستانی میڈیا میں ڈھاکا کے حوالے سے یہ رپورٹس شائع کی جارہی ہیں۔

کہ بنگلہ دیش ‘ایک ملک کی جانب سے اپنے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت’ کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہا، جبکہ رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ بھوٹان اور افغانستان کا بھی ارادہ ہے کہ وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔اگرچہ ان رپورٹس میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تاہم بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اسلام آباد جنگی جرائم میں ملوث جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پھانسیوں پر احتجاج کرکے ڈھاکا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہتا ہے۔اس سے قبل اوڑی حملے کو جواز بناکر گذشتہ روز ہندوستان نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے سارک اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 18 ستمبر کو جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے سیکٹر اوڑی میں ہندوستان کے فوجی مرکز پر حملے کے نتیجے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ہندوستان نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘علاقائی تعاون اور دہشت گردی ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے، لہذا ہندوستان اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔

‘انھوں نے اپنے ٹوئیٹ میں وزارت کا ایک بیان بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘ہندوستان نے سارک کے حالیہ سربراہ نیپال کو بتادیا ہے کہ خطے میں جاری سرحد پار دہشت گردی اور ایک ملک کی جانب سے رکن ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا ماحول اسلام آباد میں ہونے والی 19 ویں سارک سربراہی کانفرنس کے لیے سازگار نہیں ہے۔

‘بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ‘ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سارک کے دیگر رکن ممالک کو بھی اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے۔’جس پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا اعلان غیر متوقع ہے اور اس حوالے سے ہم سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔