بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہمارے لئے حکومت اور عام شہری ایک ہی ترازو میں ہیں، جسٹس ثاقب نثار

ہمارے لئے حکومت اور عام شہری ایک ہی ترازو میں ہیں، جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ میں ملک بھر کے پنشنرز کو پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران نامزد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے حکومت اور عام شہری ایک ہی ترازو میں ہیں۔ اس لئے یہ تاثر ختم ہونا چاہئے کہ حکومت کے خلاف مقدمات میں فیصلے نہیں ہوتے۔ پنشنرز کے مقدمات کا فیصلہ مروجہ قوانین کے مطابق کیا جائے گا اگر درخواست گزاروں کا حق بنا تو انہیں ہر صورت ملے گا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پنگھوڑے سے لے کر قبر تک اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور شہریوں کو حقوق کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔ بنیادی انسانی حقوق میں جینے کا حق بھی شامل ہے۔

اس لئے بظاہر پنشن کے لئے دائر درخواستیں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے ذمرے میں آتی ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے عدالت عظمیٰ کے کسی فیصلے کو(ری وزٹ کیا) دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس’’ جو چاہیں وہ کریں‘‘ والا اختیار موجود نہیں ہے۔ یہ قانونی عدالت ہے اور ہم نے ہر صورت قانون پر عملدرآمد کرانا ہے۔ لوگوں کو حقوق کی فراہمی عدالت کی ذمہ داری ہے لیکن قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے۔ نجی بینکوں کے ریٹائرڈ ملازمین کو انتہائی کم پنشن کی ادائیگی ملازمین کی تضحیک کے مترادف ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کے روز پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف لئے گئے ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے چاروں صوبوں کی جانب سے تحریری جوابات جمع نہ کرانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر صوبائی ادارے لاء افسران سے تعاون نہیں کرتے تو ان کے اداروں کے سربراہان کو طلب کر کے بیان حلفی لیا جائے گا۔

عدالت نے چاروں صوبائی لاء افسران کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے ایک ہفتہ میں پنشن کے حوالے سے آنے والی درخواستوں کا تحریری جواب جمع کرایا جائے ورنہ آئندہ سماعت پر ان اداروں کے سربراہان ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت کریں۔ ۔ نامزد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کردہ معلومات کے بارے میں متعلقہ اداروں کے سربراہان سے بیان حلفی لئے جائیں گے تاکہ اگر کوئی معلومات غلط ثابت ہوں تو ان افسران کے خلاف ایکشن لیا جا سکے۔ اس دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے رپورٹ جمع کرانے کے لئے وقت مانگا تو جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کیا عدالت میں بیٹھے سابق ملازمین مجبور نہیں ہیں اگر صوبائی ادارے تعاون نہیں کرتے تو عدالت ان کو کیا بتائے کہ کیوں کیس ملتوی کر رہے ہیں۔ یہ تذبذب کا عالم ان کے لئے انصاف سے انکار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے وفاقی حکومت کی جانب سے رپورٹ جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت عظمیٰ کے حقوق انسانی سیل میں مجموعی طور پر 88 درخواستیں آئی ہیں جن میں سے 40 درخواست گزاروں کا تعلق صوبائی حکومتوں سے ہے لیکن جہاں تک وفاقی حکومت کے اداروں کے پنشنرز کا تعلق ہے۔

ان کے بارے میں وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر من و عن عمل کیا جائے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی محکموں کے 33 مقدمات میں سے 11 حل کر دیئے گئے ہیں۔ 4 مقدمات میں معاملات کی چھان بین جاری ہے کیونکہ ان میں سے کچھ کو دو بار پنشن مل رہی تھی اور کچھ کی اہلیت کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ اس موقع پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئیڈیل نظام تو اس طرح ہونا چاہئے کہ جس دن سرکاری ملازم ریٹائر ہو اس دن پنشن سمیت دیگر مراعات حوالے کر کے اس کو ادارے سے احتراماً رخصت کیا جائے لیکن یہاں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشنرز کا جو حال ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عدالت کو بہت سی متاثرکن چیزیں لکھ کر دے دی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیا تھا لیکن ابھی تک آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ کتنا عمل کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 33 مقدمات کا معاملہ ایک ہفتہ میں حل کر لیا جائے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے کے ایک سابق ملازم کی بیوہ کو پنشن دی جا رہی ہے جبکہ دوسرے ملازم کی بیوہ کے بارے میں یہ کیوں لکھا گیا ہے کہ وہ اہل نہیں ہے۔ ایک ہی ادارے کے ملازمین کے ساتھ دہرا معیار اپنایا گیا ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں خواتین کے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان خواتین کو قانون کے مطابق پنشن کی فراہمی کی جائے گی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کو پنشن کا حقدار قرار دیا تھا۔ تاہم انہیں ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ اس موقع پر پی ٹی سی ایل کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا۔ انہوں نے تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لینے والے پی ٹی سی ایل ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کی جا رہی ہے اور ان ملازمین کو معاہدے کے مطابق 7 فیصد اضافے کے ساتھ پنشن ملنا تھی لیکن ان کو 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ پنشن ادا کی گئی ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل کے ملازمین نے لاہور ہائیکورٹ میں پنشن میں دیگر حکومتی اداروں کے پنشن میں اضافے کے مطابق پنشن حاصل کرنے کے لئے درخواست دائر کی تھی جس کو ہائیکورٹ سے خارج کر دیا تھا۔ اس فیصلہ کے خلاف ملازمین نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت سے پی ٹی سی ایل کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی مصدقہ نقل عدالت میں پیش کریں ۔

جس کی روشنی میں کیس کے قانونی نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس دوران پی ٹی سی ایل کے ایک ملازم ریاض احمد سے کمرۂ عدالت میں شور مچاتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں بڑے لوگوں کے کیس سماعت کے لئے مقرر ہو جاتے ہیں۔ پاناما لیکس کا مقدمہ سماعت کے لئے مقرر کر دیا جاتا ہے لیکن ہم غریبوں کے مقدمات نہیں لگتے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے مقدمہ میں عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دے رکھا ہے جس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کے بعد توہین عدالت کی درخواست 2015ء میں دائر کی لیکن سماعت کے لئے مقرر نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل الاؤنسز سمیت پنشن کی فراہمی کرنے کا حکم دیا جائے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس شخص کا کیس منگواتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں۔ آپ تمام لوگ دکھی ہیں۔ عدالت کو آپ کے دکھ کا بخوبی اندازہ ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ عدالت نے قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ اگر کسی کا حق بنتا ہے تو اسے ضرور ملنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ آپ لوگ اس پنشن کے اہل بھی ہیں یا نہیں اگر اہل ہوئے تو پھر آپ کو حق ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کا مقدمہ بھی بہت اہم ہے لیکن پنشن کے حوالے سے مقدمات پر بھرپور توجہ دی جائے گی اور ایسے مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے
گا۔

عدالت کو دیکھنا ہو گا کہ اگر یہ لوگ پنشن میں اضافے سمیت مراعات کے اہل ہیں تو وہ رقم اتصالات ادا کرے گی یا حکومت پاکستان انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں سے متعلق معاملات جنوری کے دوسرے ہفتے جبکہ وفاقی حکومت کے پنشنرز کے معاملات جنوری کے تیسرے ہفتے میں سماعت کے لئے مقرر کئے جائیں گے۔ اس لئے صوبائی حکومتیں ایک ہفتہ میں تحریری جوابات عدالت میں جمع کرائیں اس دوران نجی بینکوں کے پنشنرز کے مقدمات اٹھائے گئے تو یونائیٹڈ بینک، الائیڈ بینک اور حبیب بینک کے وکلاء نے تحریری جوابات جمع کرائے۔ عدالت نے پہلے یونائیٹڈ بینک کے ملازمین کو فرداً فرداً سنا۔ یونائیٹڈ بینک کے سابق ملازم سرفراز احمد نے عدالت کو بتایا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے بینک کو اضافے کے ساتھ پنشن دینے کا حکم دیا ہے لیکن بینک کے حکام اس پر عملدرآمد نہیں کر رہے حالانکہ انسانی حقوق کمیشن کے فیصلہ پر صدر مملکت نے بھی حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سزائے موت دینے اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں لیکن بینک ان کے احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہا۔ جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سزائے موت صرف عدالت دے سکتی ہے۔ صدر کے پاس معاف کرنے کا اختیار ہے۔ اس موقع پر درخواست گزار نے کہا کہ عدالتیں بھی حکومتوں کے خلاف مقدمات میں فیصلہ نہیں کرتیں تو جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اس تاثر کو ختم ہونا چاہئے۔ عدالتیں حکومتوں کے خلاف فیصلہ نہیں کرتیں۔ ہمارے لئے حکومت اور عام شہری ایک ہی ترازو میں ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ الائیڈ بینک کے سابق ملازمین کو 1360 روپے ماہانہ پنشن ملتی ہے تو جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ یہ تو تضحیک کے مترادف ہے۔ پنشن کا مقصد تو یہ ہے کہ بڑھاپے میں شہری اپنا گزر بسر کرنے کے قابل ہو قانون کے مطابق دیکھیں گے کہ نجی بینکوں کے ملازمین کی پنشن میں اضافہ ہونا چاہئے یا نہیں۔عدالت نے بنک کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے جواب کی ایک کاپی درخواست گذاروں کو دیں تاکہ وہ اس کے بارے میں جواب الجواب تیار کرکے عدالت میں پیش کریں، عدالت نے ان درخواست گذاروں کو وکیل کی معاونت لینے کا مشورہ دیا تو ان کا کہنا تھا کہ1360روپے پنشن ملتی ہے وکیل نہیں کرسکتے انہوں نے دورخواست کی کہ عدالت خود وکیل کا بندوبست کرے۔ جس پر جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ وہ سوچ کر فیصلہ کریں گے کہ اس کیس میں کونسے وکیل کو ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بینکوں کے ملازمین کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں پہلی کیٹگری میں وہ لوگ ہونگے جن کو پنشن مل رہی ہے لیکن اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہونگے جن کو پنشن سرے سے مل ہی نہیں رہی۔ اس دوران ایک بزرگ پنشنر نے بینک کے وکیل کے ساتھ بدتمیزی کی تو جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت وکلاء کی تضحیک کسی ضرورت برداشت نہیں کرے گی۔

دریں اثناء ای او بی آئی کے ایک سابق ملازم کی درخواست پر عدالت نے منیجنگ ڈائریکٹر ای او بی آئی کو حکم دیا کہ اس پنشنر کی پنشن فوری طور پر جاری کی جائے اور ایک ہفتہ میں رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالت دیکھے گی کہ قواعد نے اجازت دی تو پنشن میں اضافہ کی ہدایت کی جائے گی ورنہ عدالت کچھ نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین کے فیصلہ کی قانونی حیثیت کو بھی دیکھنا ہو گا۔ عدالت نے تمام بینکوں کے ملازمین کی درخواستیں بینکوں کے وکلاء کے حوالے کرتے ہوئے ان درخواستوں پر جواب طلب کرتے ہوئے مقدمات کی سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔