بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایٹم بم اورکنول کے خون آلود پھول

ایٹم بم اورکنول کے خون آلود پھول

پچھلے دنوں ہندوستان کے وزیر دفاع نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ یہ ملک جہنم ہے… اس پر ایک سکھ ادیب نے طیش میں آکر دلی میں ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو میرے آبائی وطن کو جہنم کہنے کی جسارت کر رہے ہیں‘ میرے والد پشاور میں پیدا ہوئے اور میری ماں لاہور کی تھیں…جس سرزمین پر نہ صرف بابا گورونانک اور متعدد گورؤں کے علاوہ بابا فرید‘بلھے شاہ‘ شاہ حسین‘ وارث شاہ اوربھٹائی ایسے عظیم صوفیا کرام نے جنم لیا اسے کون ہے‘ میرے سامنے آئے جو جہنم کہنے کی جرات کر سکتا ہے اور یہ جو ہمارے وزیر دفاع ہیں یہ مہاراشٹر وغیرہ کے رہنے والے ہیں‘ انہیں کیا پتہ کہ سندھ اور پنجاب کتنے پوتر علاقے ہیں… مہاراشٹر والے کیا جانیں کہ پانچ دریاؤں کی سرزمین کتنی مقدس ہے…

ان دنوں ایک مرتبہ پھر ہندوستان اور پاکستان دو ایٹمی بیل سینگ پھنسائے بیٹھے ہیں… ایک دوسرے کو نیست ونابود کرنیکی دھمکیاں دے رہے ہیں اور حب الوطنی کے نعروں سے اپنے عوام کو انکے حقیقی مسائل سے دور کر رہے ہیں… ہم بھی ہندوستان کے بارے میں اسی نوعیت کی زبان استعمال کر رہے ہیں اگرچہ ہمارے ادیبوں میں کوئی ایسا نہیں جو ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے کہہ سکے کہ ہندوستان کی مودی حکومت کو مطعون کرنا عین جائز ہے‘ مودی وہ شخص ہے جس نے سرکاری طورپر مسلمانوں کا قتل عام کرایا…انہیں سینکڑوں کی تعداد میں زندہ جلادیا‘عورتوں اور بچوں کو چیرپھاڑ دیا…مسلمانوں کے حلق میں پٹرول انڈیل کر آگ لگادی گئی یہاں تک کہ کانگرس کے ایک مسلمان ممبر پارلیمنٹ کے پورے خاندان کے سرکاٹ کر ترشول پر سجائے گئے اور پچھلے دنوں وہ سب لوگ ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کردیئے گئے جنہوں نے مسلمانوں کو نذر آتش کیا تھا اور پھر کشمیر میں بھی مودی نے وہی کیا جو اس نے گجرات میں کیا‘بہت سے دن ہوگئے ہیں کشمیریوں کو احتجاج کرتے اور کوئی دن ایسا نہیں گیا جب انکی آنکھوں میں چھرے مار کر انہیں اندھانہ کیاگیا ہو انہیں بیدردی سے ہلاک نہ کیا گیا ہو اس لئے نہیں کہ وہ کشمیری ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں اور انکے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم ہیں اور یہاں مجھے استاد امام دین نے ہٹلر کے بارے میں جو لازوال نظم کہی تھی وہ یاد آرہی ہے جو کہ دراصل مودی کے بارے میں ہے۔

یہ جو ہٹلر ہے نہ کوئی اسے پکڑتا نہ نپ رہا ہے
یہ اگلے زمانوں میں کوئی سپ رہا ہے کہ
یوں خلق خدا کو کپ رہا ہے

مودی میاں کو بھی نہ کوئی پکڑتا یا نپ رہا ہے… یہ کیا پچھلے زمانوں میں کوئی سانپ رہا ہے کہ خلق خدا کو یوں قتل کرتا جاتا ہے…لیکن ہندوستان کی سرزمین کو مودی سے الگ رکھیں… یہ ہمارے آباؤ اجداد کی دھرتی ہے… کس کس کا نام لوں کہ کون کون وہاں پیدا ہوا تھا‘ کون کون وہاں دفن ہے… نظام الدین اولیا‘ امیر خسرو‘ غالب‘ میر‘ داغ‘ سرسید احمد خان‘ چشتی‘ ٹیپو سلطان… کس کس کا نام لوں کسے یاد رکھوں کسے بھول جاؤں… ایک کہکشاں ہے لاکھوں ستاروں کی اور ہرستارا ہماری تاریخ اور ثقافت کا چاند چہرہ ہے‘ کیا ہم اپنی تاریخ کو ملیا میٹ کردینگے‘ دلی ایسے شہر کو نابود کردینگے‘ جامع مسجد اور شاہی قلعے سمیت یا پھر آگرہ پر ایٹم بم گرا کر تاج محل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے… البتہ ان کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ مہاراشٹر اور گجرات والے کیا جانیں کہ لاہور اور پشاور کیا ہیں… قصور کیا ہے… مہاراجہ رام چندر کے بیٹوں لوہ اور قصو کے نام سے بسائے ہوئے لاہور اورقصور کے شہروں کو مٹا دینگے‘ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی اور بابا نانک کی جنم بھومی کو ملیا میٹ کردینگے… سرگنگا رام اور بھائی رام سنگھ کے ترتیب شدہ لاہور کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے… ویسے ان کا کچھ اعتبار نہیں کہ وہ ہندو دھرم کے اندھیروں میں نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں انہیں نہ برصغیر کی مشترکہ ثقافت کا اور نہ ہی تاریخ کا کچھ پتہ ہے ان کا کچھ اعتبار نہیں… قائداعظم نے قیام پاکستان کے حوالے سے ایک ٹھوس حقیقت یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم اتنے مختلف ہیں کہ وہ گائے کو مقدس گردانتے اسکی پرستش کرتے ہیں اور ہم اسے ذبح کر کے کھاتے ہیں… ویسے صد شکر کہ پاکستان معرض وجود میں آگیا ورنہ میں کب کا ہلاک ہوچکا ہوتا کہ مجھے تو بھنا ہوا گائے کا گوشت بہت پسند ہے اور بیف سٹیک کی تو کیا ہی بات ہے… خاص طور پر سیاہ مرچوں میں بھونی ہوئی بیف سٹیک کی… میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل پر کن لوگوں نے حملہ کرکے سینکڑوں بے گناہوں کو ہلاک کیا تھا… ہندوستانی پارلیمنٹ پر کن لوگوں نے حملہ کیا تھا اور اب اڑی کی فوجی چھاؤنی کے حملہ آور کہاں کے تھے… حقیقت کیا ہے اور سیاست کیا ہے اس سے قطع نظر کشمیریوں کو ہلاک کرنے والے حقیقت ہے کہ ہندوستانی ہیں…

اس قتل عام کے ثبوت کی کچھ ضرورت نہیں… آپ دریائے جہلم کے پانیوں سے پوچھ لیجئے جن میں گمنام لاشیں تیرتی ہیں‘ جھیل ڈل کی سطح پر جو کنول کھلتے ہیں ان کی خون آلود پنکھڑیوں سے پوچھ لیجئے کہ یہ کس کا خون ہے اور کس نے بہایا… زعفران کے کسی مسکراتے کھیت پرایک نظر کیجئے وہ سوگوار ہوجائے گا اور پھر بھی یقین نہ آئے تو جموں سے پرے درہ بانہال کے آغاز میں ایک پہاڑی سے سوال کرلیجئے جو کبھی ویران ہوا کرتی تھی اور میرے ابا جی نے اپنے ہاتھوں سے اس کی مٹی کھود کھود کر اس میں انواع واقسام کے پھول کے بیج بوئے تھے اور پھر وہ پھولوں والی پہاڑی کے نام سے مشہور ہوئی تھی… ابا جی کی بہت خواہش تھی کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی پھولوں والی پہاڑی کو دیکھ لیں لیکن ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی… تو اس پہاڑی کو آج آپ دیکھ لیں اسکے سب پھول جو میرے ابا جی کے ہاتھوں کے لگائے ہوئے ہیں مرجھاچکے ہونگے… ان کی پتیوں پر خون کی بوندیں ہونگی… اب ہم انصاف کس سے طلب کریں… فریاد کہاں کریں کہ ہر کوئی ہم پر شک کرتاہے اور ہم جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں اور یوں کشمیر کا خون رائیگاں جارہا ہے… دو بیلوں کی لڑائی میں کشمیری کچلے جارہے ہیں اور ایک مودی بغلیں بجا رہا ہے… کس سے منصفی چاہیں!…