بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / افغانستان کیلئے پیغام

افغانستان کیلئے پیغام


وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ بہتر بنائی جا رہی ہے جبکہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر امن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ سراجیو ومیں بوسینا کے ہم منصب کے ساتھ ملاقات اور پریس کانفرنس سے خطاب میں نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی ۔ عین اسی روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے لنڈی کوتل میں گفتگو کے دوران افغانستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دوستی کے حوالے سے ہر بات ماننے کو تیار ہیں تاہم غیروں کے ڈور ہلانے پر پاکستان کے خلاف الزامات قابل قبول نہیں ان کا کہنا ہے کہ افغانستان بہکاوے میں آکر پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم پہلے دباؤ میں آئی ہے نہ اب آئے گی۔

دریں اثناء سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان میں تشدد نہیں دیکھنا چاہتے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور کسی بیان سے مشتعل نہیں ہوتے افغانستان پر روسی یلغار سے لیکر آج تک پاکستان نے نہ صرف لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی بلکہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کرنے کیساتھ تعمیر و ترقی کے عمل میں بھی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور وزارت داخلہ واضح کرتی ہے کہ دہشتگرد اب بھی دن دیہاڑے افغانستان سے آتے ہیں لیکن افغان حکومت کیساتھ کئے گئے وعدے کے تحت اسکی تشہیر نہیں کی جاتی خود وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سارا پریشر ہماری سکیورٹی ایجنسیز برداشت کرتی ہیں۔ جہاں تک بارڈر مینجمنٹ کا تعلق ہے تو یہ کسی بھی خود مختار ریاست کا حق ہے پاکستان بھی 2020ء تک 2 ہزار 400 کلو میٹر دشوار گذار علاقے پر مشتمل بارڈر پر بہتر مینجمنٹ کیلئے 6کنٹرولڈ روٹس رکھنے کیلئے کام کر رہا ہے ۔کابل کے حکمرانوں کو برسر زمین حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان کو بے بنیاد الزام تراشی سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں سے صرف نظر ممکن نہیں ۔

پشاور اپ لفٹ پروگرام

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پشاور شہر میں تعمیر و ترقی کیلئے منصوبے اور عزائم قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا بروقت عمل درآمد سے مشروط ہے۔ ان نئے منصوبوں کا عملی شکل اختیار کر کے آپریشنل ہونا دور کی بات ہے بہتر صورت یہ ہے کہ شہر کا حلیہ درست کرنے کیلئے مہیا وسائل اور افرادی قوت کا صحیح استعمال یقینی بنایا جائے۔ پشاور کے رنگ روڈ و موٹر وے کے سنگم پر واکنگ ٹریک ایک اچھا منصوبہ ہے لیکن واک کیلئے آنیوالوں کو صاف فضا اور پارکنگ کی ضرورت بھی پڑے گی جس کا انتظام ناگزیر ہے۔ جلیل کبابی اور سرکلر دوڑزپر سوڈیم لائٹس لگانا احسن اقدام ہوگا تاہم ان سڑکوں کی حالت زار کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے۔ ضلعی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے اور ان پر ڈبل شفٹ کام کرنے کا عندیہ قابل تعریف ہے تاہم اس کیلئے صرف اعلان کافی نہیں ہوگا ۔

سرکاری منصوبوں میں تاخیر روٹین بن رہی ہے اس کا ازالہ کرنے کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ سرکاری و نجی منصوبوں کا تعمیراتی ملبہ ایک اذیت بن چکا ہے اس سے متعلق قواعد پر عمل درآمد کیلئے میکنیزم بھی ضروری ہے ذمہ داروں کو یہ بات مد نظر رکھنا ہوگی کہ اب لوگ صرف اعلانات سے مطمئن نہیں ہوتے۔