بریکنگ نیوز
Home / کالم / حلب کو نوحہ

حلب کو نوحہ


مسلمانان شام کاآخری مورچہ بھی بشاری افواج کے ہاتھوں سرنگوں ہوچکاہے اوراس حوالے سے بشاری افوا ج کو ایران اورروس کی مکمل سپورٹ حاصل تھی بشاری افواج کو حلب کی زمین چاہئے تھی انکو حلب کے مظلوموں کی فکر تھی نہ ہی ضرورت اسی لئے پورے شہرکو کھنڈر بناکررکھ دیااورآج نورالدین زنگی کاپیارا شہر درد و آہ کی تصویر بناہواہے ‘سرنگوں ہونے والے ا س مورچہ کی اپنی اہمیت تھی اورہے اسی شہرمیں آٹھویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونیوالی تاریخی اموی مسجد بھی واقع ہے بشار سے قبل اس مسجد کو ہلاکو خان بھی شہیدکرچکاہے یہ مسجد اموی خلیفہ ولید نے تعمیر کرائی تھی مختلف ادوار میں اس مسجد میں توسیع ہوتی رہی بعد ازااں سلطان نورالدین زنگی نے اسکی ارسرنو تزئین و آرائش کرائی تاہم 1260ء میں تاتاری ہلاکو خان جب بغداد میں سروں کے مینار تعمیر کرتاہوا حلب میں داخل ہوا تواس نے مسجد کابڑا حصہ شہیدکردیا منگل 13دسمبر کو بشاری فو ج نے مسجد کے بڑے حصہ کی شہادت سے قبل 2013میں بھی مسجد پرگولہ باری کی تھی جس سے مسجدکاایک مینار شہید ہواتھا اس مسجدسے متصل میوزیم میں موئے مبارک سمیت کئی تاریخی اوراسلامی تبرکات محفوظ تھیں جن کااب کوئی پتہ نہیں حلب میں اس گذشتہ صدی کے اوائل میں جوکچھ فرانسیسیوں نے کیاوہی کچھ آج بشاری ،روسی افواج ایران کے ساتھ مل کر کررہی ہیں اس حوالے سے ایران کے کردار پر کافی حیرت ہوتی ہے کیونکہ ایک طرف ایران خود کوعالم اسلام کا قائد بنانے کی خاطر یہ ظاہر کرتاہے کہ اس کی پالیسیاں مکمل طورپر غیرجانبدار اور مساویانہ ہیں اس حوالے سے وہ ان دنوں سعودی عرب کو ہدف تنقید بھی بنانے میں مصروف ہے۔

اس کاکہناہے کہ سعودی حکمران عالم اسلام اورمشرق وسطیٰ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں مصروف ہیں مگر دوسری طرف خود ایران کی پالیسیاں اس کے دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہیں اس کی واضح مثا ل ہمیں یمن اور شام کے معاملات میں متضاد ایرانی حکمت عملی سے ملتی ہے اگر یمن کی بات کی جائے تو حوثی قبائل نے یمن کی قانونی حکومت کے خلاف بغاوت کررکھی ہے اور بدترین جھڑپو ں کے بعد دارالحکومت صنعا پر قبضہ کررکھاہے یہاں پر ایرا ن حوثی قبائل کی کھل کر حمایت بلکہ بھرپورمدد بھی کررہاہے اس کاکہناہے کہ عوام کی بڑی تعد اد یمنی حکمرانوں سے نالاں ہے اور ان حالات میں بغاوت انکاحق بنتاہے اگر حکمران انکی بات نہیں سنتے اور انکو نظر انداز کرتے ہیں دوسری طرف شام میں یہی کیفیت ہے کہ وہاں عوام کی اکثریت نے طویل عرصہ سے مسلط چلے آنیوالے حکمران ٹولے کے خلاف بغاوت کررکھی ہے مگر یہاں پر ایران اپنے یمنی موقف کے بالکل برعکس شامی حکمرانوں کی حمایت کررہاہے اور عوامی بغاوت کو ناجائز قرار دے رہاہے گویاحوثی اگر بغاوت کریں تو جائز شام کے مسلمان یہی کام کریں تو مجر م اوراسی طرح اگر شام کا حکمران ٹولہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے بغاوت کرنیوالوں کو قتل کرے توایران کے نزدیک یہ انکاحق ہے مگر یمن میں حکومت باغیوں کی سرکوبی کرے تو ایران اس کو بدترین ظلم قرارد یتاہے اب فیصلہ ایرانی حکمرانوں کو کرنا چاہئے کہ انکاکونسا موقف صحیح اورکونسا غلط ہے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان دونوں معاملات کے حوالے سے ایران نے جو موقف اختیارکیا ہے۔

اس نے اس کو ایک خاص سوچ اورفکرتک محدود کرکے رکھ دیاہے اوراسکے بڑے حمایتی بھی اس کے اس موقف کا دفاع نہیں کرسکتے عرب بہارکے تحت جب شخصی حکومتوں کیخلاف مہم چلی تو ایران نے ہی اسے جمہورکی رائے قرار دیا اوربحرین میں جب حکمرانوں نے عوامی احتجاج کوکچلا تو ایران نے اس کی بھرپورمذمت کی مگر شام کے حکمرانوں نے جب یہی حرکت کی تو ایران نے برابرانکی پیٹھ تھپتھپائی کہاجارہاہے کہ سعودی عرب پر اس حوالے سے تنقید کیوں نہیں کی جارہی مگر ایسا کہنے والے کیوںیہ بھول جاتے ہیں کہ بات ایران اورسعودی عرب کی نہیں شام کے مظلوم مسلمانوں کی ہورہی ہے سعودی عرب اورایران کی باہمی اور نظریاتی آویزش سے ہمیں کوئی غرض نہیںیہ حکومتوں اور حکمرانوں کے مفادات کا شرمناک کھیل ہے مگر اس کھیل کی بھاری قیمت ہمیشہ عام لوگوں کو ہی ادا کرنا پڑتی ہے اورآج حلب کے بے گناہ یہ قیمت چکارہے ہیں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی بے حسی کاایک اور مزار حلب کی صورت میں بن چکاہے ۔