بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ٹرمپ کی مداخلت پر سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرارداد ملتوی

ٹرمپ کی مداخلت پر سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرارداد ملتوی

نیو یارک۔اقوام متحدہ میں مصر کی جانب سے غربِ اردن میں اسرائیلی بستیوں کی مزاحمت میں مجوزہ قرارداد پر ووٹنگ مصر کی ہی درخواست پر اس وقت ملتوی کر دی گئی ہے جب امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں ووٹ ڈالنے سے گریز کرنے پر غور کر رہا تھا جس صورت میں یہ قرارداد منظور ہو جاتی۔ایک اسرائیلی اہلکار نے بر طا نو ی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔

مصری قرارداد میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ نئی بستیاں بنانا بند کرے کیونکہ یہ غیر قانونی ہیں۔امریکہ نے کئی بار اقوام متحدہ میں اسرائیل کی حمایت کی ہے اور ایسی مزاحمتی قراردادوں سے بچایا ہے۔تاہم خیال کیا جا رہا تھا کہ اوباما انتظامیہ اس پالیسی پر عمل نہ کرتے ہوئے اس قرارداد کو منظور ہونے دے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ اس قرارداد کو روک دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلوں اور فلسیطینیوں کے درمیان امن براہِ راست مذاکرات سے آئے گا نہ کہ اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی شرائط سے۔‘انھوں نے کہا کہ ’یہ قرارداد اسرائیل کو مذاکرات میں کمزور کرتی ہے اور اسرائیلیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘

ادھر مصری عبد السیسی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی اور ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے پر غور کرے گی۔تاہم مصر کی جانب سے قرارداد واپس لینے پر چار مزید ممالک نے تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی جانب سے اس قرارداد کو پیش کر سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ، وینزویلا، ملیشیا، اور سینیگال نے کہا ہے کہ وہ اس قراردید کو پیش کرنے کا اپنا حق برقراد رکھے ہوئے ہیں۔چاروں ممالک سلامتی کونسل کے مستقل ممبر نہیں تاہم اس میں دو دو سال کی تقریری رکھتے ہیں۔