بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پمز ہسپتال کے توسیع منصوبے پر 18 ارب سے زائد خرچ کئے جائیں گے،حکومت

پمز ہسپتال کے توسیع منصوبے پر 18 ارب سے زائد خرچ کئے جائیں گے،حکومت


اسلام آباد۔ ایوان بالا کو وفقہ سوالات کے دوران بتایا گیا ہے کہ گڈانی شپ یارڈ پر توڑنے کیلئے آنے والے جہازوں میں خطرناک کیمیائی مادے اور گیسز موجود ہوتے ہیں حالیہ واقعے کے بعد جہازوں کا معائنہ لازمی کر دیا گیا ہے ،ملک بھر میں جعلی اور غیر معیاری بیجوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 40ہزار کلو گرام جعلی بیج پکڑے گئے ہیں ،پمز ہسپتال کے توسیعی منصوبے پر 18 ارب روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے جبکہ ہسپتال میں قائم جگر ٹرانسپلانٹ کا شعبہ مطلوبہ ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے کی وجہ غیر فعال ہے ، بھارت کی جانب سے پاکستان پر کئی اقسام کی تجارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں گذشتہ تین سالوں کے دوران آڑو کی برامدات میں بے حد کمی ہوئی ہے ۔

وفاقی وزیر مملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے دوران چراہ ڈیم کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے‘ ہیں ، پنجاب کی سمال ڈیم آرگنائزیشن منصوبہ کو مکمل کرے گی جس کیلئے وفاقی ترتیاتی ادارے سی ڈی اے نے 85کروڑ روپے سے زائد کی رقم دو سال قبل پنجاب حکومت کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ادا کئے گئے تھے ۔

جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر طاہر حسین مشہدی اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے کیڈ نے ایوان کو بتایا کہ سی ڈی اے نے چراہ ڈیم کے لئے 2013-14ء کے پی ایس ڈی پی میں 85 کروڑ 18 لاکھ 34 ہزار روپے سمال ڈیم آرگنائزیشن پنجاب کو منتقل کی تاہم منصوبے کا پی سی ون زمین کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کئی گنا بڑھ گیا ہے اور نظرثانی شدہ پی سی ون پر کام جاری ہے انہوں نے بتایاکہ موجودہ مالی سال کے دوران چراہ ڈیم کی تعمیر کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے وفاقی وزیر مملکت برائے کیڈ نے سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ پمز کے شعبہ امراض قلب میں 153 ملازمین کام کر رہے ہیں‘ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا عمل زیر غور ہے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر احمد حسن اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ شعبہ امراض قلب میں 26 ملازمین باقاعدہ بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے ایک سمری سیکرٹری کیڈ کی جانب سے وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں سفارشات بھیجنے کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں توسیع کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے‘ وزیراعظم نے ہسپتال کے لئے 18 سے 19 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر نزہت صادق ‘ ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2004ء سے 2016ء کے دوران پمز کے مختلف حصوں میں ایک ارب 76 کروڑ روپے سے زائد کی مشینری اور سامان نصب کیا گیا۔

اس وقت ہسپتال میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کی مشینوں کی خریداری پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پولی کلینک ہسپتال میں زچہ بچہ سنٹر کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لئے بھی کام ہو رہا ہے۔ نرم ہسپتال کے لئے جدید سامان اور مشینری کی خریداری کے لئے سمری وزارت کیڈ کو بھجوائی گئی ہے وزیر مملکت برائے کیڈ نے سینیٹر جمالدینی کے سوال کے جواب میں بتایا کہ اسلام آباد میں شجرکاری اور درختوں کی حفاظت کے لئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں‘ 2017ء میں موسم بہار کی شجرکاری مہم کے دوران تین لاکھ پودے لگائے جائیں گے انہوں نے ایوان کو بتایا کہ 2016-17ء میں مجموعی طور پر چھ لاکھ پودے لگانے کا پروگرام ہے اب تک تین لاکھ پودے لگائے جاچکے ہیں‘ مزید پودے آئندہ سال لگائے جائیں گے تاکہ ماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے وزیر مملکت برائے کیڈ نے سینٹ کو بتایا کہ اسلام آباد کے عوام کی سہولت کے لئے اسلام آباد میں 40 ہزار سٹریٹس لائٹس نصب کی گئی ہیں۔

‘ توانائی بچاؤ پالیسی کے تحت 50 فیصد لائٹس چلائی جاتی ہیں سینیٹر تاج حیدر ‘ میاں عتیق شیخ اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ سٹریٹس لائٹس کے سامان کی فراہمی کے لئے ٹینڈر جاری کئے گئے ہیں۔ سٹریٹس لائٹس کا نظام نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بھی تجویز ہے۔ خراب سٹریٹ لائٹس جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گی جس سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آبادمیں سٹریٹ لائٹس کو ایل ای ڈی لائٹس پر منتقل کیا جائیگا جبکہ سولر پینل پر بھی سٹریٹ لائٹس کو منتقل کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر میں وفقہ سوالات کے دوران بتایا کہ پچھلے تین سال کے دوران آڑو کی برآمد میں کمی ہوئی ہے ایوان بالا کے اجلاس میں احمد حسن اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر تجارت نے بتایا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران تقریبا14لاکھ روپے مالیت کے آڑو برامد کئے گئے تھے انہوں نے کہاکہ حکومت زرعی شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں سندھ‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں میں درآمدی مشینری اور پلانٹس کی قیمت پر پچاس فیصد تک چھوٹ دی جاتی ہے جبکہ ملک بھر میں نئے پلانٹس اور مشینری کی قیمتوں پر سو فیصد مارک اپ کی چھوٹ ہے۔وزیر تجارت نے بتایا کہ پچھلے دو سالوں کے دوران ملک بھر سے 40 ہزار کلو گرام سے زائد کپاس کا غیر تصدیق شدہ اور جعلی بیج پکڑا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں غیر معیاری اور جعلی بیچوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور محکمہ زراعت کی چھاپہ مار ٹیمیں چاروں صوبوں میں غیر معیاری ناقص اور جعلی بیج فروخت کرنے والوں پر چھاپے مار رہی ہے انہوں نے بتایاکہ غیر معیاری بیجوں کی فروخت کو روکنے کے لئے سیڈ انسپکٹرز مارکیٹ کا دورہ کرتے ہیں اور بیج فروخت کرنے والوں کا چالان کرتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران کپاس کے بیج فروخت کرنے والوں کے خلاف عدالتوں میں 544 چالان جمع کرائے گئے انہوں نے کہاکہ 2014-15ء میں کپاس کے تصدیق شدہ معیاری بیج کی دستیابی 20ہزار میٹرک ٹن سے زائد تھی جو کہ 2015-16ء میں بڑھ کر 34 ہزار 520 میٹرک ٹن ہوگئی۔ 2016-17ء میں یہ بڑھ کر 29 ہزار 363 میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے وفاقی وزیر تجارت نے کہا ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے باوجود بھارت نے پاکستان کی مصنوعات کے لئے نان ٹیرف رکاوٹیں پیدا کی ہیں جبکہ ڈبلیو ٹی او کے 14 نئے رکن ممالک نے پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا ہے سینیٹر عتیق شیخ اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈبلیو ٹی او کے رکن کی حیثیت سے بھارت اور اسرائیل کے سوا تمام ڈبلیو ٹی او رکن ممالک کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کی پیشکش کی ہے ڈبلیو ٹی او کے ارکان کی تعداد 164 ہے ڈبلیو ٹی او قوانین کے تحت تمام ممالک اپنے تجارتی شراکتداروں کے ساتھ امتیاز نہیں کر سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ تجارت کے لئے کسی ملک کو پسندیدہ قرار دینے کا مقصد ان کو مساوی تجارتی فوائد فراہم کرنا ہے انہوں نے بتایاکہ بھارت نے ڈبلیو ٹی او کا رکن ہونے کے باوجود پاکستان کو تجارت کے لئے سہولیات نہیں دیں اور اس کے لئے نان ٹیرف رکاوٹیں پیدا کی ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم افریقہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف ممالک میں نمائشوں کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں ٹیلی مواصلات کے شعبے میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت کمپیوٹر لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر کلثوم پروین کے سوال کے جواب میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں پچاس ویمن امپاورمنٹ سنٹرز میں کمپیوٹر لیبارٹریوں کے قیام کے لئے 11 کروڑ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی گئی ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پچاس کمپیوٹر لیبارٹریوں کے قیام کے لئے ٹینڈر موصول ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد میں 56 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے ایک نیشنل انکیوبیشن سنٹر قائم کیا جارہا ہے جس کا مقصد ذہین نوجوان طلباء کو تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم کے قومی آئی سی ٹی سکالر شپ پروگرام کے تحت چار سالہ انڈر گریجویٹ سکالر شپ دیئے جائیں گے۔ایوان بالا کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ بلوچستان شپ یارڈ پر آنے والے جہازوں کو لنگر انداز ہونے سے قبل چیک کرنے کاکوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے اور لنگر انداز ہونے کے بعد اس کا معائنہ کیا جاتا ہے بحری جہازوں میں خطرناک کیمیائی مادوں اور گیسوں کی موجودگی ہوتی ہے جس معائنہ حالیہ واقعے کے بعد لازمی قرارد یا گیا ہے ۔