بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ آف پاکستان 2017 ء میں بھی متحرک نظر آئی

سپریم کورٹ آف پاکستان 2017 ء میں بھی متحرک نظر آئی

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ماضی کی طرح رواں سال 2016 ء میں بھی متحرک نظر آئی ۔ سال بھر میں عدالت عظمی نے اہم مقدمات میں فیصلے سنائے جن میں سابق صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ، پاناما لیکس کیس ، کوئٹہ سانحہ پر کمیشن کی تشکیل کے بعد رپورٹ کی آمد، فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان کی اپیلوں کے اخراج ، اورنج ٹرین منصوبہ پر کام روکنے کے فیصلہ پر پنجاب حکومت کی اپیل ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرریوں کے خلاف فیصلہ ، وزیر اعظم کے مالی معاملات میں فیصلوں کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلہ ، ملک میں مقامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے فیصلوں اور انتخابی عذرداریوں میں خواجہ آصف کے خلاف انتخابی عذرداری میں فیصلے سنائے گئے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے رواں سال مردم شماری نہ ہونے ، الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے اور سانحہ کوئٹہ سمیت ایک درجن سے زائد اہم معاملات پر از خود نوٹس لے کر احکامات صادر فرمائے ۔ رواں برس سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلہ کے باعث عدالت عظمیٰ کے ایک فاضل جج جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفیٰ دینا پڑا ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور دو ایڈہاک ججز ریٹائر ہوئے جبکہ عدالت عظمیٰ میں ایک نئے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی تقرری بھی ہوئی ۔

نامزد چیف جسٹس ثاقب نثار رواں برس 2 بار قائم مقام چیف جسٹس بھی بنے جبکہ 31دسمبر کوچیف جسٹس آف پاکستان نے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ رواں برس اعلیٰ عدلیہ میں ججز کے تقرر کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے متعدد اجلاس بھی ہوئے اور چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سے کم و بیش 15 ملکی و غیر ملکی وفود کی باضابطہ ملاقاتیں بھی ہوئیں ۔ صباح نیوز کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق سال کا آغاز ملک میں تلور پر پابندی کے اپنے فیصلے کو کالعدم قرار دینے سے ہوا ۔ 22 جنوری 2016 ء کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملک میں تلور کے شکار پر عائد پابندی ختم کر دی ۔ اس فیصلہ پر 5 رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ لکھا ۔ اس سال سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس عبد الحمید ڈوگر کی جانب سے غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلہ پر اپیل کا فیصلہ بھی سنایا ۔ جبکہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ پر وفاق کی اپیل یکم اپریل 2016 ء کو خارج کی گئی جس کے بعد پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کا پروانہ مل گیا ۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے دیا ۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مقدمہ کا فیصلہ 15 اپریل کو سنایا ۔ عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ ن کے مظفر گڑھ سے منتخب ایم این اے سلطان محمود ہنجرا کو نا اہل قرار دیا ۔ 29 اگست کو فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 18 ملزمان کی اپیلیں بھی خارج کی گئیں ۔ عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرریوں کے حوالے سے دائر مقدمات میں اپنا فیصلہ 26 ستمبر کو سنایا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفیٰ دینا پڑا ۔ رواں برس لاہور میں جاری میٹرو اورنج ٹرین منصوبہ کو روکنے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل بھی عدالت عظمیٰ کے سامنے آئی تاہم یہ اپیل ابھی تک زیر التواء ہے اس کیس میں ماہرین کی رپورٹ آ چکی ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے رواں برس پاناما لیکس کے باعث اٹھنے والا معاملہ بھی آیا جس کی تحقیقات کے لیے حکومت نے چیف جسٹس کو کمیشن بنانے کی تحریری درخواست کی جس پر چیف جسٹس نے ٹرمز آف ریفرنس لامحدود ہونے کی بنا پر واپس کیا لیکن بعد ازاں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اب تک 9 سماعتیں کی ہیں۔

اس اہم معاملہ نے ملکی حالات پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔ 5 رکنی بینچ کے روبرو ان مقدمات کی سماعت جاری تھی کہ 9 دسمبر کو عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ریٹائر ہو رہے ہیں اس لیے آئندہ چیف جسٹس عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد نیا بینچ تشکیل دیں گے اور نئے سرے سے کیس کی سماعت ہو گی ۔ رواں برس عدالت عظمیٰ نے جن اہم مقدمات کے فیصلے سنائے ان میں سے ایک فیصلہ وزیر اعظم کے اختیارات بارے میں آیا جس میں نامزد چیف جسٹس ثاقب نثار نے 19 اگست کو فیصلہ سنایا کہ وزیر اعظم کابینہ کی منظوری کے بغیر مالی معاملات کے فیصلوں کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی کوئی بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔

سال 2016 ء کے دوران سپریم کورٹ میں ڈالروں کی سمگلنگ میں ملوث ماڈل گرل ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف مقدمہ کی بھی متعدد بارسماعت ہوئی جبکہ انتخابی عذرداریوں کے حوالے سے اہم مقدمات میں وفاقی وزراء خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے مقدمات بھی سنے گئے جن میں سے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار کی اپیل 10 نومبر کو خارج کر دی گئی اور خواجہ آصف کے خلاف دھاندلی کے الزامات ثابت نہ ہو سکے ۔ تاہم وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کی الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کے خلاف اپیل ابھی بھی زیر التواء ہے ۔ سال بھر میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایک درجن سے زائد از خود نوٹس لیے جن میں پہلا از خود نوٹس خواتین کو عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کے خلاف ایکشن لینے کے لیے مقرر محتسب یاسمین عباسی کے خلاف تھا جبکہ دیگر از خود نوٹسسز میں کوئٹہ کے سینڈیمین ہسپتال میں سہولیات اور ادویات کی عدم فراہمی ، پی ایس پی افسران کی غیر قانونی طور پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ ، الیکشن کمیشن کے ممبران کے عدم تقرر ، ملک میں مردم شماری نہ ہونے ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغواء 8 اگست کو سانحہ کوئٹہ میں 70 سے زائد وکلاء کی شہادت ، نیب میں ملزمان سے رقوم کی رضاکارانہ واپسی کے قانون ، ملک بھر کے سابق سرکاری ملازمین کو پنشن اور دیگر مراعات کی عدم فراہمی، سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ممبران کے تقرر اور عدالت عظمیٰ کے جج کے خلاف غلط خبرنشر کرنے پر نجی ٹی وی کے خلاف از خود نوٹس شامل ہیں ۔ ان مقدمات میں عدالتی احکامات پر حکومت نے ملک میں مردم شماری کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جبکہ الیکشن کمیشن کے ممبران کا تقرر بھی کیا گیا ہے ۔ عدالتی احکامات پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے چےئرمین و ممبران کو بھی عہدوں سے الگ ہونا پڑا ۔ اس سال چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے 15 سے زائد ملکی و غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں بھی کیس جن میں یورپی یونین ، سارک انٹی کرپشن ایجنسیوں کے سربراہان اور مختلف ممالک کے لاء افسران اور مختلف بارز کے وفود اور کالجز و اکیڈمیز کے وفود شامل تھے ۔ عدالت عظمیٰ نے اس سال سزائے موت کے قیدیوں کی بہت سی اپیلیں نمٹائیں جن میں سزائے موت کے دو ملزمان بھائی ایسے بھی تھے جن کو دو سال قبل پھانسی دے دی گئی تھی انہیں بھی بری کیا گیا جبکہ دیگر کئی قیدی ایسے تھے جو الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود سالوں جیل میں قید رہے اور عدالت عظمیٰ سے رہائی کا پروانہ ملا ۔ سپریم کورٹ میں رواں برس 2 اپریل کو شعبہ قانون و انصاف کی جانب سے صوبائی انصاف کمیٹیوں کی پہلی 2 روزہ کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جبکہ عدالت عظمیٰ میں عدالتی کارکردگی کا جائزہ لینے اور نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ اجلاس بھی ہوئے ۔ دسمبر کا مہینہ عدالت میں کافی گہما گہمی کا مہینہ ثابت ہوا ۔ ابتدائی دنوں میں پاناما لیکس کیس جبکہ وسط میں کوئٹہ سانحہ از خود نوٹس کیس میں قائم کردہ عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی چشم کشا رپورٹ پیش کی تو ملک بھر میں اس پر نئی بحث چھڑ گئی ۔ رواں برس چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے متعدد سانحات پر مذمتی بیانات بھی جاری کئے جن میں کوئٹہ سانحہ ، سانحہ درگاہ شاہ نورانی ، پی آئی اے کے طیارے میں شہریوں کی شہادت سمیت دیگر واقعات شامل ہیں ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی جانب سے دو بار غلط خبروں کی اشاعت پر دو بار وضاحت بھی جاری کی گئی جن میں ایک بار اورنج ٹرین کیس کے دوران ملک میں بارشاہت کے قیام اور ایک وضاحت چیف جسٹس کے جعلی فیس بک اکاؤنٹ کے بارے میں تھی ۔ چیف جسٹس نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کی بازیابی پر آرمی چیف راحیل شریف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف پر مبنی بیان بھی جاری کیا ۔