بریکنگ نیوز
Home / کالم / مسائل اورحزب اختلاف کاکردار !

مسائل اورحزب اختلاف کاکردار !


بجلی‘ گیس‘ تیل کے نرخوں کا تعین کرنیوالی ریگولیٹری اتھارٹیز کو حکومتی کنٹرول میں لینے کے بعدسی این جی کے نرخ متعین کرنے کا اختیار ’پمپ‘ مالکان کو دے دیا گیا ہے اس سلسلہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے سی این جی کی قیمتیں ’ڈی ریگولیٹ‘ کرنیکا حکمنامہ جاری کردیا گیا ہے‘ جس کے بعد ’سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن‘ کے چیئرمین سمیع اللہ خان نے نئے نرخوں کا جلد اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کے اِس اقدام سے دوردراز علاقوں میں سی این جی مہنگی جبکہ شہر اور دیگر اضلاع میں سستی ہونے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد سی این جی کی قیمت میں کسی بھی ردوبدل کیلئے اوگرا کے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ ڈی ریگولیشن کو قانونی حیثیت دلوانے کے لئے اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی جائیگی سی این جی مالکان کے ترجمان غیاث پراچہ کے بقول حکومت کے اس اقدام سے چارسوپچاس ارب روپے کی ’سی این جی‘ صنعت تباہ ہونے سے بچ جائے گی اور یہ بیمار صنعت دوبارہ توانا ہو جائے گی لیکن کس قیمت پر؟ کیا ’سی این جی‘ مالکان کو چھوٹ دینے اور عوام کو خون نچوڑنے کی اجازت دینا عوامی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے؟

ہمارے ہاں جمہوریتوں کا مردہ اس لئے خراب ہوتا رہا ہے کہ اس نظام کے ماتحت عوام سے اقتدار کا مینڈیٹ لینے والے حکمران عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی عوام دشمن پالیسیوں پر کاربند ہوجاتے ہیں اس صورتحال میں عوام زندہ درگور ہوتے یا تو اپنی بقاء کی کشمکش میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے رہیں گے یا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اپنے منتخب کردہ حکمرانوں کے خلاف تہیۂ طوفاں کئے بیٹھے نظر آئیں گے‘ چنانچہ راندۂ درگاہ عوام کی اِسی کیفیت کو حکمرانوں کے خلاف استعمال کرنے کا حکومتی مخالفین کو نادر موقع مل جاتا ہے۔عوام تو سابقہ حکمرانوں سے موجودہ حکمرانوں تک اپنے مسائل کی چکی میں پستے تہیۂ طوفان کئے بیٹھے ہی نظر آتے ہیں مگر انہیں ابھی تک ایسی کوئی متبادل قیادت ہی دستیاب نہیں ہوسکی جو سلطانئ جمہور کو ان کے لئے حقیقی معنوں میں سلطانئ جمہور کے قالب میں ڈھال سکے۔ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے متبادل قیادت کا مینڈیٹ دیا مگر وہ عوام کے حقیقی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے بلیم گیم کی سیاست پر اتر آئے‘ جس کا مقابلہ کرنا حکمرانوں کے لئے زیادہ آسان تھا کیونکہ اس سیاست کے وہ پہلے ہی رمز آشنا ہیں ۔

آج اگر حکمرانوں کو اگلے عام انتخابات کے مراحل قریب آنے کے باوجود عوام کے دل جیتنے والے اقدامات اٹھانے کے بجائے ایسے فیصلے کرنے میں آسانی ہو رہی ہے جن سے مہنگائی اور غربت کے بوجھ تلے دبے عوام کی مزید مہنگائی اور مزید غربت کی چکی میں بے دردی کیساتھ پسنے کی نوبت آئیگی تو اس سے یہی مراد ہے کہ حکومت کو حزب اختلاف کی جانب سے اپنے اقتدار کے لئے اب کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا چنانچہ وہ بے دھڑک ہو کر عوام دشمن پالیسیوں کو مزید فروغ دے رہی ہے جبکہ موجودہ حکمرانوں کے بارے میں یہ تصور بھی راسخ ہوچکا ہے کہ صنعتکار ہونے کے ناطے وہ اپنی صنعتکار برادری کے حقوق و مفادات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اسی پس منظر میں عوام پر مہنگائی کے طوفان نازل کرنے والے شوگر مافیا کو آج تک چینی کے من مانے نرخوں کے حوالے سے کنٹرول کیا جاسکا ہے نہ دوسرے ناجائز منافع خور تاجر طبقات پر حقیقی معنوں میں قانون کی عملداری نافذ ہوسکی ہے۔ آج حکمرانوں نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو کنٹرول کرنیوالی ریگولیٹری اتھارٹیز کو مختلف وزارتوں کے کنٹرول میں دیا ہے تو اس کے پیچھے بھی بظاہر ناجائز منافع خور تاجروں کو مزید فائدہ پہنچانے کی سوچ ہی کارفرما ہو سکتی ہے! اب مزید منافع کمانے والے راستے نکالے جائیں گے‘ جس کیلئے منتخب ایوانوں میں بیک آواز ہو کر قانون سازی بھی کرالی جائے گی‘ جب جوابدہی اور پکڑ کا تصور ہی مفقود ہو جائے گا تو ’’حسنِ کرشمہ ساز‘‘ کو جو بھائے گا‘ وہ کرتا رہے گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: جاوید ظہیر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)