بریکنگ نیوز
Home / کالم / صدر صاحب اور پی آئی اے کے بکرے

صدر صاحب اور پی آئی اے کے بکرے

حاجی صاحب بڑے زندہ دل انسان ہیں۔مطالعہ بھی اچھا ہے اور پرہیزگار بھی ہیں ان سے مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے انکو بدقسمتی سے شوگر کی بیماری ہے اب کے عمرہ پرگئے تو بے احتیاطی سے ایک پاؤں میں زخم بن گیا ۔ حرم اور مسجد نبویؐ میں بار بار وضو کرنے اور پاؤں گیلا رکھنے سے باز نہ آسکے پھر گرمی میں طواف کے دوران ننگے پیر تپتی دھوپ میں پھرنا ان کیلئے اچھا ثابت نہ ہوا چنانچہ زخم کا معائنہ کروانے میرے پاس پہنچے میں نے ان کو ڈریسنگ روم بھجوایا اور جب نرس نے اطلاع دی کہ پٹّی اتر گئی ہے تو میں بھی پہنچ گیا۔ خیر زخم کا معائنہ تو ٹیکنیکل مسئلہ تھا لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ مریض کے اسی ٹانگ پر ایک کالا دھاگہ بمعہ ایک سیپی کے بندھا ہوا ہے۔ مجھے ہمیشہ ایسی چیزوں سے چڑ ہوتی ہے کہ یہ دھاگے وغیرہ انفیکشن کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ کیا باندھا ہوا ہے حاجی صاحب مسکراکر بولے کہ بیگم نے نظر سے بچانے کیلئے باندھا ہوا ہے میں نے پوچھا کیا اس زخمی پاؤں کو نظر لگنے کا امکان بھی ہے ؟ حاجی صاحب کھسیانی ہنسی ہنس کر گویا ہوئے ’کیا کریں ڈاکٹر صاحب ، گھر کی عورتیں مصر ہوتی ہیں اس لئے دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن انکا دل رکھنے کیلئے باندھنے دیا‘۔میں نے کہا کہ عورتوں کی دوسری باتیں بھی اتنی آسانی سے مان لیتے ہیں کیا؟ کاروبار، رشتوں ناتوں اور دوسرے کاموں میں تو عورتوں کی مداخلت پر شرم آتی ہے لیکن بیماری میں ہی ان کے سامنے دب جاتے ہیں؟کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن توہمات‘ جادو ٹونا‘ دم درود اور جوتش پر اتنا ہی ایمان رکھتے ہیں جیسے کہ برصغیر کے دوسرے مذاہب والے رکھتے ہیں ہندوؤں میں تو جب تک نجومی نے کلےئرنس نہ دی ہوتو شادی بیاہ اور زندگی کے دوسرے اہم کام التوا میں پڑ جاتے ہیں۔ مکیش امبانی بھارت کے بہت بڑے سرمایہ دار ہیں۔ چند سال قبل موصوف نے ممبئی کے سب سے گراں پوش علاقے میں سترہ منزلہ گھربنایا جس پر ایک ارب بھارتی روپیہ خرچ کیا جب اس گھر میں منتقل ہونے کا وقت آیا تو نجومی نے منع کردیا کہ یہ گھر آپ کیلئے منحوس ثابت ہوگا چنانچہ ایک ارب روپے کا گھر بھوت بنگلا بن گیا۔ تاہم اتنے توہم پرست ملک میں بھی جہاں تعمیر اور مینوفیکچرنگ کا معاملہ ہویا مشینوں کا استعمال، کبھی یہ سنا نہیں انہوں نے توہم کو رکاوٹ بننے دیا ہو۔

بھارت میں کل چوتھی مرتبہ نیوکلیئر ہیڈ لے جانے والے میزائل کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔ اب پی آئی اے نے جہاز اڑانے سے قبل ایک کالے بکرے کی قربانی دے کر جس طرح سے ساری دنیا میں ہماری بھد اڑانے کی حرکت کی ہے اسے دیکھ کر بھارت کے میزائل پروگرام میں کیا نجومی بھرتی کیا جائے گا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان توہمات اور بے کار رسوم کا رواج بڑھ رہا ہے۔ جتنی جتنی سائنس میں ترقی ہورہی ہے، ہم پاکستانی اتنے ہی ریت و رواج کے الٹے سیدھے خرافات میں دھنس رہے ہیں پی آئی اے کے جہاز کی حفاظت کیلئے بکرے کا ذبح کرنا ہماری نہ صرف ذہنی پستی اور رجعت پسندی کا ثبوت ہے بلکہ اسلام کی غلط تشریح کا بھی آئینہ دار ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں امام نماز کے بعد پانچ منٹ تک عالم اسلام کیلئے دُعاؤں اور عالم غیر اسلام کیلئے بددعاؤں میں مصروف رہتا ہے مساجد کی تعمیر ایک زبردست کاروبار اور زمین کے ناجائز قبضے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکاہے اور عوام کو ثواب و وظائف میں الجھا کر مسجد کی بنیادی شرائط کو دبا دیا جاتا ہے۔ مساجد بھری ہوئی ہیں لیکن عام زندگی میں اسلام کہیں نظر نہیں آرہا اور وجہ یہی ہے کہ ہمیں اسلام میں صرف عبادات اور زیادہ تر نفلی عبادات میں مصروف رکھا گیا ہے۔

اسلام کا مقصد ایک جدید، فلاحی، دیانت دار اور سائنس سے استفادہ کرنے والے معاشرے کی تکمیل ہے۔ قرآن نے ان پانسوں اور نجوم کے علم سے منع فرمایا ہے لیکن ہم ظاہری رسوم میں پڑچکے ہیں جیسے تقویٰ کا معیار ہم نے جیب میں نمایاں طور پر رکھے ہوئے مسواک کو بنالیا ہے جبکہ سنت منہ کی صفائی ہے۔ حضورؐ نے رستے میں نماز پڑھنے سے سختی سے منع فرمایا ہے لیکن جمعہ کے دن کسی امام مسجد نے مسجد سے باہر سڑک پر صف بنانے سے منع نہیں کیا کیونکہ زیادہ نمازیوں سے زیادہ چندہ آتا ہے۔ صدر میں جمعہ کی نماز کے وقت مین سڑک بند ہوجاتی ہے اس لئے کہ ہماری توجہ نماز کی رسم پر زیادہ پڑی ہوئی ہے اور اسکی روح سے کوئی تعلق نہیں جب رستے میں نماز کی ادائیگی منع ہے تو اسے کسی مذہبی تہوار کیلئے کیسے بند کیا جاسکتا ہے لیکن ایک سال میں کئی مرتبہ مختلف لوگ اپنے جلوس اس شان سے نکالتے ہیں کہ خلقِ خدا کیلئے یہ جلوس کوفت کا باعث بن جاتے ہیں اسکی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں تشدد اور ٹیررازم کی جو لہر ہمارے ملک میں گزررہی ہے اسکی وجہ سے ان جلوسوں پر حملے بھی ہورہے ہیں ان حملوں کو بچانے کیلئے حکومت کو سکیورٹی کے مشکل اور مہنگے اقدامات بھی کرنا پڑتے ہیں جو ظاہر ہے ہمارے ہی ٹیکسوں سے ہوتے ہیں۔ بقولِ شاعر

کمائی پہ رشوت کی اکثر بنے ہیں
وہ گھر جن پہ لکھا ہے ’من فضلِ ربّی

قرآنی آیات کے طغرے جگہ جگہ برکت کیلئے لٹکے ہوئے ہیں جبکہ نہ کسی کو ان آیات کا مطلب معلوم ہے اور نہ کسی کو ان پر عمل کرنے کی فکر۔ ہر نئی گاڑی کے پیچھے ایک سیاہ چیتھڑا لٹکا ہوا ہے اور ہر نئے گھر پر کالی ہنڈیا اوندھی پڑی ہوئی ہے اور ماشاء اللہ کا بورڈ لگا ہوا ہے حالانکہ قرآن و سنت سے کہیں ان کی روایت نہیں اور تو اور میونسپل ادارے بجلی کے کھمبوں پر زرِ کثیر سے مقدس اسماء کے بورڈ لٹکارہے ہیں جبکہ صفائی اور رستوں کی دیکھ بھال ان کا فرض ہے پچھلی حکومت میں سنا ہے ایوانِ صدر میں ہرروز کالے بکرے کی قربانی دی جاتی تھی اور ظاہر ہے یہ صدر کی ذاتی جیب سے تو خریدنے سے رہے، تو مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر سے یہ کس مد میں شمار کئے جاتے تھے اور اسکا
جواز کیا بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مذہبی جذبے اپنے دل تک رکھیں۔ خدا کھلے اور چھپے سارے اعمال سے آگاہ ہے۔ جہاں تک عبادات کا تعلق ہے تو وہ کسی اور کو تکلیف کا باعث نہیں بننے چاہئیں۔ دوسرے کلمہ گو کے ایمان کو جانچنے کی ہمیں فکر نہیں ہونی چاہئے اور نہ کسی کی نیکی اسکے پائنچوں کی اونچائی ، گلے میں تعویز ، داڑھی یا ہاتھ میں لٹکتی تسبیح سے ماپی جاسکتی ہے۔یاد رہے کہ تقویٰ کا تکبر بھی انحطاط کی نشانی ہے لاؤڈسپیکر کا ہر وقت استعمال بھی ہمسائیوں کیلئے اذیت کا باعث بن سکتا ہے۔