بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبرپختونخوا کے تحفظات اور تجاویز

خیبرپختونخوا کے تحفظات اور تجاویز

خیبرپختونخواحکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری پر تحفظات دور کرانے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا کہا ہے، اسلام آباد میں سی پیک کے جائزہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت وزیراعظم نوازشریف خود کریں تاکہ وہ صوبے کے حوالے سے اپنے تحفظات کیساتھ تجاویز بہتر انداز میں پیش کرسکیں، خیبرپختونخوا حکومت سی پیک کے بڑے اقتصادی منصوبے کے حوالے سے کئی متبادل تجاویز پیش بھی کرچکی ہے تاکہ وسیع تر ملکی مفاد میں کم سے کم لاگت کیساتھ اس پراجیکٹ سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکیں خیبرپختونخوا کے وفد کی پیش کردہ تجاویز میں گلگت سے براستہ شندور چترال چکدرہ تک کوسڑکوں کے ذریعے پورے ملک اور سی پیک سے منسلک کرنا بھی شامل ہے اس موقع پر شندور ٹاپ چترال کے راستے شانگلہ اور درگئی کیساتھ گلگت کو منسلک کرنے کیلئے ایک متبادل ریلوے ٹریک کی تجویز بھی سامنے لائی گئی، عین اسی روز صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کیلئے آخری دم تک جدوجہد کی جائیگی، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب خیبرپختونخوا کااستحصال کررہا ہے۔

خیبرپختونخوا اپنے جغرافیے اور درپیش حالات خصوصاً امن وامان کے حوالے سے چیلنجوں کے باعث خصوصی مراعات اور مواقع کا حقدار ہے، سی پیک کامغربی روٹ ہو یا این ایف سی ایوارڈ، بجلی منافع کے بقایاجات ہوں یا روٹین کا سالانہ پرافٹ صوبے میں پیدا ہونیوالی گیس کا استعمال ہو یا دریائے سندھ کے پانی کا معاوضہ، خیبرپختونخوا کے موقف کو سننا اور عملی اقدامات کے ذریعے صوبے کو ریلیف دینا ناگزیر ہے اس کا سب سے بہتر طریقہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو نمٹانا ہے، بجلی منافع کے بقایاجات اور منافع کو ڈی کیپ کرنے پر جس طرح بات چیت ہوئی اسی طرح دیگر معاملات پر بھی سیاسی انداز میں بات کرکے ہونیوالے فیصلوں کو عملی شکل دینا ضروری ہے۔سی پیک پر وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت ہونے والی اے پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے تحفظات خدشات اور تجاویز کیلئے ایک اور اے پی سی کی تجویز معاملات کو احسن انداز میں نمٹانے کیلئے معاون ثابت ہوسکتی ہے ایک دوسرے کے موقف کو مذاکرات کی میز پر سننا ہی جمہوریت کا حسن ہے‘ اس سب کے ساتھ ضرورت خیبر پختونخوا میں صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔

اس صوبے کی انڈسٹری امن وامان کی صورتحال کے باعث بری طرح متاثر ہوچکی ہے جس سے معیشت کو نقصان کے ساتھ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اس صوبے کی صنعت کو قدرتی گیس سے بجلی پیدا کرکے رعایتی نرخوں پر بھی دی جاسکتی ہے جبکہ یہاں پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے بھی اضافی وسائل دیئے جاسکتے ہیں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبے کووسط ایشیائی ریاستوں کیلئے گیٹ وے بنانے کا بھی کہا جاتا رہا ہے یہ گیٹ وے اسی صورت زیادہ ثمر آور ہوسکتا ہے جب یہاں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اس مقصد کیلئے خیبر پختونخوا کیساتھ فاٹا میں بھی انڈسٹری کو مزید توسیع دینے کی ضرورت ہے فاٹا میں اصلاحات کا عمل جلد مکمل کرکے وہاں صنعتی وکاروباری سرگرمیاں بڑھائی جاسکتی ہیں جس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہونگے۔