بریکنگ نیوز
Home / کالم / چوری اورسینہ زوری

چوری اورسینہ زوری


قومی اخبارات میں گزشتہ جمعرات کے دن ایسی خبریں جلی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئیں جن کو پڑھ کر ہر محب وطن پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا پہلی خبر یہ تھی کہ نیب نے پلی بارگین والی شق کہ جسے مک مکا والی شق بھی کہتے ہیں کے تحت بلوچستان کے فنانس سیکرٹری مشتاق رئیسانی سے دو ارب روپے وصول کر کے اسکو معاف کر دیا اب ذرا سوچئے اگرسیکرٹری صاحب نے دو ارب روپے سرکاری خزانے میں رضا کارانہ طور پر جمع کرائے ہیں تو اس نے حکومت کو نہ جانے کتنے ارب روپے کا چونا لگایا ہوگا؟ اور پھر سیکرٹری صاحب نے اتنی بڑی رقم خود تھوڑی کھائی ہوگی اپنے حکام بالا کو بھی ان کا حصہ ضرور پہنچایا ہوگا اس سے بیشتر ہمارے اپنے صوبے میں بھی اس قسم کی ایک واردات ہو چکی ہے جبکہ ہمارے صوبے کے سابق حاکم کے سیکرٹری صاحب نے پلی بارگین کے تحت 22 کروڑ روپے نیب میں جمع کرا کر اپنی گلو خلاصی کرائی تھی عام آدمی تو یہ چاہتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو چوکوں میں الٹا لٹکایا جائے اور اس سے بیشتر ان کی تمام جائیداد بحق سرکار ضبط کرنی چاہئے پارلیمنٹ آخر کس مرض کی دوا ہے؟ وہ کیوں اس ضمن میں سخت قانون نہیں بناتی ؟ جب تک ان کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا اس قسم کی لوٹ مار جاری رہے گی جب فرنگیوں نے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے قدم جمائے تو مقامی بادشاہوں‘راجاؤں اور مہاراجوں کو شکست دینے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک اعلیٰ اہلکار لارڈ کلائیو نے بڑا کلیدی کردار ادا کیا تھا پر کلائیو نے اپنے دور اقتدار میں اسی طرح اندھا دھند دولت کمائی کہ جس طرح ہمارے آج کل کے سیاست دان کما رہے ہیں۔

لہٰذا جب کلائیو اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد انگلستان واپس گیا تو انگلستان کی پارلیمنٹ نے اس پر کرپشن کا مقدمہ چلایا اور اس سے ان پیسوں کی کوڑی کوڑی وصول کی کہ جو اس نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی کے دوران کمائے تھے وہ رئیس سے فقیر ہوگیا اور انجام کار اس نے خودکشی کرلی ایک دوسرے ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہلکار وارن ہیسٹنگ کا بھی برا حال ہوا اس پر بھی کرپشن کے الزامات تھے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پلی بارگین کی شق نے تو اس ملک میں کرپشن کو عام کیا ہے یہ تو کرپٹ عناصر کو شہہ دیتی ہے کہ جتنا حرام کا مال بنا سکتے ہو بناؤ اگر پکڑے گئے تو اس میں سے کچھ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دو اور باقی ماندہ رقم سے پھر زندگی بھر عیش کرو محلوں بنگلوں میں رہائش اختیار کرو شاپنگ کیلئے دبئی جاؤ مرسڈیز میں گھومو پھرو وغیرہ وغیرہ ہماری پارلیمنٹ نے اس پلی بارگین کی شق کو ختم کرنے کیلئے کیا کیا کوشش کی ہے؟ ذرا قوم اپنے اراکین پارلیمنٹ سے اس بارے میں پوچھے تو؟ دوسری اخباری خبر جس نے ہمیں چونکادیا وہ یہ تھی کہ پچھلے مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا کی اسمبلی نے صرف انٹرٹینمنٹ پر 5.3 ملین روپے خرچ کئے یعنی بیکری سنیکس وغیرہ پر‘ غیر ترقیاتی اخراجات کو اس ملک کی کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کم نہیں کیا الیکشن کی مہم میں سیاست دان قوم سے وعدے وعید تو ضرور کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر غیر ترقیاتی اخراجات کو آدھا کر دینگے پر کبھی عملاً ایسا ہوا نہیں۔

سرکاری گاڑیوں کا جتنا Misuse اس ملک میں ہوتا ہے شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہوتا ہو سیکرٹری ہو یا وزیر دفتری اوقات کار کے بعد اصولی طور پر سرکاری گاڑیوں کو ان کے ڈرائیور سیکرٹریٹ میں ایک مخصوص جگہ پر پارک کریں کتابوں میں اس کا ذکر تو ہے اور رولز اور ریگولیشنز بھی موجود ہیں پر ان پر عمل درآمد شاذ ہی کبھی ہوا ہے سرکاری میٹنگز میں چائے پانی اور کیک پیسٹری سے تواضع کرنے کی رسم پر یاد آیا کہ قائد اعظم سے ان کے اے ڈی سی نے پوچھا کہ سر کل کابینہ کی میٹنگ ہے میٹنگ کے دوران چائے سے شرکاء کی تواضع کی جائے یا کافی سے ؟قائد اعظم نے فرمایا کیوں میٹنگ کے شرکاء کیا گھر سے ناشتہ کر کے نہیں آئیں گے؟