بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور

سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور

نیو یارک۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے خلاف ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جبکہ امریکہ نے ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا۔ تاہم امریکہ نے اس موقعے پر قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال نہیں کیا۔ماضی میں امریکہ نے ایسی قراردادوں کو ویٹو کر کے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی چھوڑ کر اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا ہے۔یاد رہے کہ یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی تاہم گذشتہ چند روز میں امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے اسے موخر کر دیا تھا۔

اس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر ممالک نیوڈی لینڈ، سینیگال، وینزویلا، اور ملائیشیا نے اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیا اور اسے منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس میں طے کی گئی شرائط پر عمل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قرارداد کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرامید ہے۔فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سیب ارکات نے اس قرارداد کو بین الاقوامی قانون کی فتح اور اسرائیل میں شدت پسند عناصر کی شکست قرار دیا۔غربِ اردن میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ یہودی بستیاں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک انتہائی متنازع موضوع ہے جسے خطے میں قیامِ امن کے لیے اہم رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقعہ نہیں جب اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، اور بین الاقوامی ریڈ کراس بھی انھیں غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسراءئل نے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں تقریباً 140 بستیاں تعمیر کی ہیں جن میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی باشندے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمینتھا پاول نے اس موقعے پر کہا کہ یہ قرارداد زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہے کہ بستیاوں میں اضافے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بستیوں کا مسئلہ اس قدر بدتر ہو چکا ہے کہ اب یہ دو ریاستی حل کے لیے خطرہ ہے۔انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بستیوں میں اضافے اور دو ریاستی حل، دونوں کو اپنا موقف نہیں رکھ سکتا۔تاہم انھوں نے کہا کہ امریکہ نے قرارداد کے حق میں اس لیے ووٹ نہیں ڈالا کیونکہ اس کی توجہ صرف بستیوں پر ہی مرکوز ہے