بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبان کی باریکیاں

زبان کی باریکیاں


مرزا غالب ایک جگہ خط میں اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں ’’ فارسی زبان سے لگاؤ رکھتا ہوں اور یہ بھی یاد رہے کہ فارسی کی ترکیب الفاظ اور فارسی اشعار کے معنی کے پرواز میں میرا قول اکثر خلاف جمہور پائے گا اور حق بجانب میرے ہوگا پہلے میں حضرت سے پوچھتا ہوں کہ یہ صاحب جو شرحین لکھتے ہیں کیا یہ سب ایزدی سروش ہیں اور ان کا کلام وحی ہے اپنے اپنے قیاس سے معنی پیدا کرتے ہیں یہ میں نہیں کہتا کہ ہر جگہ ان کا قیاس غلط ہے مگر یہ بھی نہیں کوئی کہہ سکتا کہ جو کچھ یہ فرماتے ہیں وہ صحیح ہے حضرت کو یہ معلوم ہے کہ میں اہل زبان کا پیرو اور ہندیوں میں سوائے امیر خسرو دہلوی کے سب کا منکر ہوں ‘‘ غالب کے اس خط کو اس کالم میں بطور تمہید لکھنے سے ہمارا بجز اس کے اور کوئی مطلب نہ تھا کہ کسی بھی زبان میں لکھنے کے وقت اگر گرامر کی باریکیوں کی طرف دھیان دیا جائے تو تحریر کا حسن بڑھ سکتا ہے صحافت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عجلت میں لکھا گیا لٹریچر ہوتا ہے اور جلد بازی میں جو تحریر بھی لکھی جائے گی اس میں لا محالہ کئی جگہ گرامر کی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں اکثر لکھاری بسا اوقات درج ذیل حقائق کا خیال نہیں رکھتے پر ان کا کیا قصور کیونکہ بعض الفاظ کافی حد تک غلط العام ہو چکے ہیں۔ مثلاً ہم میں سے اکثر لوگ اس جگہ ’’ ویں ‘‘ کا لاحقہ نہیں لگاتے کہ جہاں لگنا ضروری ہے یہ جملہ غلط ہے کہ آج دسمبر کی دس تاریخ ہے اسکے بجائے درست جملہ یہ ہے کہ آج دسمبر کی دس ویں تاریخ ہے ۔ مرزا غالب محاورے میں بڑے پکے تھے۔ لفظ خاک کو کئی اردو لکھنے والے فارسی کے لفظ ہیچ کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں ایک مرتبہ کہیں مرزا قتیل نے ’’ بیچ نہ بود ‘‘ کی جگہ ’’ خاک نہ بود ‘‘ لکھ دیا اس پر مرزا غالب نے مرزا قتیل پر بڑی تنقید کی۔ بعض لوگوں کے نزدیک لفظ راشی جو کہ رشوت خور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے غلط ہے یہ عربی زبان سے آیا ہے پر عربی دان یہ کہتے ہیں۔

کہ رشوت خور کو تو عربی میں مرتشی کہتے ہیں اس طرح اساتذہ کی نظر میں ہم جو ابھی تک کے معنوں میں ’’ تاہنوز ‘‘ لکھتے ہیں غلط ہے صرف ’’ ہنوز ‘‘ لکھنا کافی ہے اور یہ جملہ بھی غلط ہے ’’ دل کرتا ہے ‘‘ اس کی جگہ ’’ دل چاہتا ہے ‘‘ ہونا چاہئے اساتذہ نے لکھا ہے کہ انداز فکر کے معنی میں نقطہ نظر لکھنا غلط ہے یہاں نقطہ نظر ہونا چاہئے اسکے برخلاف کسی اعتراض کے بارے میں لفظ چینی کے بجائے نکتہ چینی استعمال کرنا چاہئے شبلی نعمانی پائے کے لکھاری تھے انہوں نے اپنے مکتوبات بنام عطیہ فیضی میں عطیہ صاحب لکھا ہے نہ کہ عطیہ صاحبہ ۔ اہل اردو نے ’’ صاحبہ ‘‘ کو ’’صاحب ‘‘ کی تانیث بنا لیا ہے جو اساتذہ کے نزدیک غلط ہے۔ اس طرح کسی خاتون کیلئے جنابہ کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے مذکر اور مونث دونوں حالتوں میں جناب کا لفظ استعمال ہونا چاہئے ایصال ثواب پہنچانا کے بجائے ایصال کیا گیا اور ثواب مہیا کیا گیا بہتر ترکیب ہے کیونکہ ایصال کا لفظ اپنے بطن میں پہنچانے کے معنی بھی رکھتا ہے اساتذہ کہتے ہیں کہ اہل کی جگہ اہالیان اور اہلیان کہا جائے تو یہ اہلیہ کی جمع ہو جائے گی یہ جو ہم اپنی تحریروں میں ’’ آئے روز ‘‘ لکھتے ہیں اسے اساتذہ نے غیر معیاری ترکیب قرار دیا ہے اور یہ تجویز کیا ہے کہ اس کی جگہ ’’ آئے دن ‘‘ استعمال ہو۔ اسی طرح ہمراہ کیلئے ’’ بہ ‘‘ کے ساتھ مع یعنی بمع یا بمعہ کے الفاظ کا استعمال غلط ہے اس کی جگہ صرف ’’ مع ‘‘ کا لفظ کافی ہے۔ صحیح لفظ ’’ بے نیل مرام ‘‘ ہے یعنی ناکام اور نا مراد ہم اس کے بجائے بے نیل و مرام جو لکھتے ہیں وہ غلط ہے لفظ جل تھل کا استعمال بھی اکثر غلط ہو رہا ہے جل کا مطلب ہے پانی اور تھل کے معنی ہیں خشک زمین ۔ صحیح جملہ ہے جل تھل ایک ہوگیا نہ کہ جل تھل ہوگیا۔

اسی طرح ’’ زمین آسمان کا فرق ‘‘ لکھنا چاہئے زمین اور آسمان کے درمیان واؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں ۔ لفظ لالچ مذکر ہے نہ کہ مونث اس لفظ کا صحیح استعمال یہ ہے کہ لالچ تمہیں نقصان پہنچائے گا نہ کہ لالچ تمہیں نقصان پہنچائے گی اساتذہ کے مطابق لفظ ناراضگی کی جگہ ناراضی کا استعمال بہتر ہے اسی طرح وہ کہتے ہیں ناوقت کیلئے بے وقت کا لفظ استعمال کرنا چاہئے اس کالم کا آغاز بھی ہم نے مرزا غالب کی ایک تحریر سے کیا اور اس کا اختتام بھی ان کے ایک چھوٹے سے خط کے ساتھ کرتے ہیں کہ جو انہوں نے زبان کی باریکیوں کے بارے میں اپنے ایک دوست مروان علی خان رعنا کے نام لکھا ۔ وہ لکھتے ہیں کہ خان صاحب عالیشان مروان علی خان صاحب کو فقیر غالب کا سلام ۔ نظم و نثر دیکھ کر دل بہت خوش ہوا آج اس ضمن میں تم یکتا ہو۔ خدا تم کو سلامت رکھے بھائی لفظ جفا کے مونث ہونے میں اہل دلی و لکھنو کو باہم اتفاق ہے کبھی کوئی نہ کہے گا کہ جفا کیا ۔ ہاں بنگالہ میں جہاں بولتے ہیں کہ ہتھنی آیا اگر جفا کو مذکر کہیں ورنہ ستم وظلم اور جفا مونث ہے بے شبہ و شک والسلام والاکرام‘‘۔