بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / اوباما کی گوانتاموبے جیل کو کھلارکھنے کی خواہشات پر کانگریس پر سخت تنقید

اوباما کی گوانتاموبے جیل کو کھلارکھنے کی خواہشات پر کانگریس پر سخت تنقید

واشنگٹن۔امریکی صدر براک اوباما نے کیوبا میں امریکی جیل گوانتاموبے کو کھلارکھنے کی خواہشات پر کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جیل کو کھلا رکھنا امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو پانی میں بہانے کے مترادف ہے، اس سے ہمارے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو رہے ہیں اور یہ انتہاپسندوں کو بھی مزید متشدد بنارہا ہے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق وائٹ ہاؤ س کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق براک اوباما کا کہنا ہے کہ کیوبا میں موجود جیل کے لیے ہم کئی سال سے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں جب کہ جیل میں موجود صرف 60 افراد کو حراست میں رکھنا بحیثیت ایک قوم ہمارے مفادات کے خلاف ہے جس سے دنیا بھر میں ہماری ساکھ متاثر ہورہی ہے۔امریکی صدر نے دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جیل کو کھلا رکھنا امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو پانی میں بہانے کے مترادف ہے، اس سے ہمارے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو رہے ہیں اور یہ انتہاپسندوں کو بھی مزید متشدد بنارہا ہے۔براک اوباما نے کہاکہ انہوں نے اپنے دونوں حکومتی ادوار میں گوانتاناموبے جیل سے 175 قیدیوں کو منتقل کیا اور جیل میں موجود قیدیوں کی تعداد 242 سے کم ہوکر صرف 59 رہ گئی۔

ان کی انتظامیہ نے آخری 2 سال کے دوران 73 قیدیوں کو منتقل کیا جب کہ وہ اپنے آخری دن تک قیدیوں کی منتقلی جاری رکھیں گے ۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ کانگریس کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے برعکس ہمیں جیل بند کرکے اپنی قومی غیرت کے خلاف لگے داغ کو صاف کرنا پڑے گا، کانگریس کی پالیسی کو تبدیل نہیں کیا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔خیال رہے کہ دفاعی بل 2017 کے تحت کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لیے فنڈز استعمال نہیں کیے جا سکیں گے اور نہ ہی گوانتاموبے جیل سے قیدیوں کو حراست میں لینے اور محکمہ دفاع کے حوالے کیا جا سکے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی دفاعی بل 2017 پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت فوج کی جانب سے داعش کے خلاف کارروائیاں برقرار رکھنے کے لیے 611 ارب ڈالرز کے فنڈز رکھے گئے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بل امریکی صدر کو جیل بند کرنے سے بھی روکتا ہے۔براک اوباما نے 2008 میں اپنی پہلی صدارتی مہم کے دوران جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر آئندہ ماہ 20 جنوری کو وہ اپنے عہدے کا دوسرا اور آخری مرحلہ مکمل کرکے سبکدوش ہونے والے ہیں۔

مگر تاحال ان کی جانب سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوسکا ۔خیال رہے کہ انہوں نے رواں برس فروری میں جیلوں کو بند کرنے سے متعلق ایک منصوبہ کانگریس میں پیش کیا تھا، مگر دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھنے والے ریپبلکن قانون سازوں نے اس منصوبے کو مسترد کردیا۔قانون سازوں نے اوباما انتظامیہ کو پیغام دیا تھا کہ وہ جیلوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مستقبل کی سہولت کے طور پر کھلا رکھنا چاہتے ہیں، مگر آنے والا امریکی صدر ریپبلکن ہے، اس لیے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قانون ساز اپنا مقصد پورا کریں گے۔