بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو پھر سڑکوں پر نکلوں گا،عمران خان

عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو پھر سڑکوں پر نکلوں گا،عمران خان

صوابی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو پھر سڑکوں پر نکلوں گا،جب تک زندہ ہوں کرپٹ مافیا کیخلاف لڑتا رہوں گا،ملک میں اگر کرپشن کرنے والوں کی ٹیم بنائی گئی تو نواز شریف اس کے کپتان اور مولانا فضل الرحمان وائس کپتان ہوں گے، صرف دو ادارے، پاک فوج اور سپریم کورٹ نواز شریف کی کرپشن اور اثر سے بچے ہوئے ہیں،ہمیں سی پیک پر چین سے نہیں وفاقی حکومت سے مسئلہ ہے، سی پیک ایک ایسا پراجیکٹ ہے جو ملک کا مستقبل روشن کردے گا۔

وزیراعظم اپنی زبان کے پکے نہیں، نوازشریف نے اے پی سی میں پہلے مغربی روٹ بنانے کا وعدہ کیا، اب کہا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا سی پیک کا حصہ نہیں، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کو ان کا حق ملنا چاہئے، کیونکہ جب حق نہیں ملتا تو انتشا،پیدا ہوتا ہے، اگر ہم حقوق دیتے تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا، بلوچستان میں اربوں روپے سیکیورٹی پر خرچ ہورہے ہیں کیونکہ وہاں انصاف نہیں کیا گیا،پاناما کیس میں اسمبلی اور سپریم کورٹ میں مختلف بیان دیئے گئے،شرم کی بات ہے کہ طاقتور کو سزا نہیں ملتی،ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں،آصف زرداری 15ماہ بعد آئے ہیں انہیں نیٹ پریکٹس کرنے دیں، نوازشریف پر نیب میں 12کرپشن کیسز ہیں،نوازشریف کیسے نیب کے سربراہ مقرر کرسکتے ہیں۔

نوازشریف بتائیں بچوں کے پاس پیسہ کہاں سے آیا،پانامہ کیس میں اربوں کی جائیداد قوم کے پیسوں سے خریدی گئی،عوام کی سہولت کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیج دیا جاتا ہے،مریم نواز ٹوئٹ کرکے کہتی ہیں طوفان چلا گیا پانامہ کیس عدالت میں ہے تو مریم بی بی طوفان کیسے چلا گیا۔ اتوار کو صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ شاندار استقبال پر صوابی کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں،قائداعظم کے دشمن بھی انہیں ایمانتدار مانتے تھے،قائداعظم اپنی ذات کیلئے جدوجہد کر رہے تھے،قائداعظم نے ہمارے لئے جدوجہد کی،قائداعظم ایک دلیر انسان تھے،اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے،سی پیک سے خوشحالی آئے گی،سی پیک پر عوام کو مبارکباد دیتا ہوں،سی پیک ہمارے بچوں کا مستقبل روشن کرے گا۔انھوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان کو وسطی ایشیاء اور چین سے منسلک کرے گا،سی پیک سے سارا پاکستان مستفید ہوگا،ہمارا مسئلہ چین سے نہیں ہے ،چین نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔عمران خان نے کہاکہ بھارت نے جب پاکستان کو دہشتگرد ملک کہنے کی کوشش کی تو چین نے ساتھ دیا چین ہمیشہ پاکستان کا دوست رہا ہے،سی پیک سے متعلق ہمارا مسئلہ وفاقی حکومت سے ہے،تینوں چھوٹے صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہیے،وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ چاروں صوبوں کو حقوق دے،بلوچستان کے لوگوں میں احساس ہے کہ ان کو حقوق نہیں ملے۔

عمران خان نے کہاکہ نوازشریف اپنی زبان پر کبھی کھڑے نہیں ہوئے،تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو پتہ نہیں تھا کہ کیا معاہدے ہورہے ہیں،وزیراعظم نے اے پی سی میں مغربی روٹ بنانے کا وعدہ کیا،اب کہا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا سی پیک کا حصہ نہیں ،بلوچستان کے عوام کو حقوق نہ ملنا انتشار کی اہم وجہ ہے جب حق نہیں ملتا تو انتشار پھیلتا ہے۔انھوں نے کہاکہ2016تک سی پیک پر ہونے والے معاہدوں کا کسی کو بھی پتہ نہیں تھا،صوبوں کو انصاف دیتے تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا،بلوچستان میں اربوں روپے سیکیورٹی پر کیوں خرچ ہورہے ہیں،سی پیک پاکستان میں ترقی کا سنہری موقع ہے،چین اپنے مغربی علاقوں کی خوشحالی کیلئے سی پیک بنارہا ہے،قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے تو غربت ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف اور ان کے بچوں کے بیانات میں تضاد ہے،نوازشریف کبھی اسمبلی میں اور کبھی سپریم کورٹ جا کر جھوٹ بولتے ہیں،وزیراعظم کے بچے الگ جھوٹ بول رہے ہیں،جس قطری کو ہم نے تلور کے شکار کرنے کیلئے منع کیا اس کا خط آجاتا ہے، میں اگر نوازشریف کی جگہ ہوتا تو اپنے غریب علاقوں کیلئے سوچتا،چین نے 35سال میں 70کروڑلوگوں کو خوشحال کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ کتنوں کو لگتا ہے نوازشریف پانامہ کیس میں مجرم ہے،شرم کی بات ہے کہ طاقتور کو سزا نہیں ملتی،ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں،قرضوں کی دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ قائد اعظم کا پاکستان بنانے کیلیے ہمیں اپنے غریب افراد کو اٹھانا ہوگا ، 45 فیصد پاکستان کے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور ملک کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ پی ٹی آئی تمام انصاف کے اداروں کے پاس جاچکی ہے،ادارے طاقتور کا احتساب کرنے بجائے اس سے حکم لیتے ہیں،کرپشن ٹیم کے کپتان نوازشریف اور وائس کپتان مولانا فضل الرحمان ہیں،آصف زرداری 15ماہ بعد آئے ہیں انہیں نیٹ پریکٹس کرنے دیں۔انھوں نے کہاکہ نوازشریف پر نیب میں 12کرپشن کیسز ہیں،نوازشریف کیسے نیب کے سربراہ مقرر کرسکتے ہیں،چوہدر ی نثار کہتے ہیں کہ نیب کا سربراہ سپریم کورٹ تعینات کرے،ایسا کرنا نوازشریف کیلئے مینا رپاکستان سے چھلانگ لگانے جیسا ہے،نوازشریف کہتے ہیں کہ میرے پاس پیسہ نہیں ہے۔

میرے بچے پیسہ بھیجتے ہیں،نوازشریف بتائیں بچوں کے پاس پیسہ کہاں سے آیا،پانامہ کیس میں اربوں کی جائیداد قوم کے پیسوں سے خریدی گئی،عوام کی سہولت کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہاکہ نوازشریف کو بیٹے نے 74کروڑ روپے 5سال میں بھیجے،کیا نوازشریف کے بیٹے نے جادو سے پیتل بنانے کا طریقہ سیکھا لیا۔انہوں نے کہاکہ مریم نواز نے ٹوئٹ کیا کہتی ہیں طوفان چلا گیا پانامہ کیس عدالت میں ہے تو مریم بی بی طوفان کیسے چلا گیا۔جب تک زندہ ہوں کرپٹ مافیا کا مقابلہ کروں گا،کرپشن کے خلاف سڑکوں پر نکلوں گا،ان کے خلاف کھڑا ہوں گا،اسفند یارولی اور مولانا فضل الرحمان وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا چاہتے ہیں،دونوں نوازشریف اور کے پی کے کے لوگوں سے دوستی رکھنا چاہتے ہیں۔