بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس کے ساتھ ہمارے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں ،سرتاج عزیز

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس کے ساتھ ہمارے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں ،سرتاج عزیز


اسلام آباد۔وزیراعظم کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے بدھ کو قومی اسمبلی میں پاکستان کی دو ٹوک پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس لئے اس کے ساتھ ہمارے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں جبکہ وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی میں آگاہ کیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی پاک انگلینڈ ون ڈے کرکٹ میچ دیکھا تھا شکست پر وزیراعظم نے مجھے فون کیا اور پاکستان کی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ٹی ٹونٹی میں بہتر کارکردگی کیلئے ہم نے اوپنرز کو تبدیل کر دیا اور پاکستان کو فتح مل گئی۔

ایوان میں ساجدہ بیگم کے حوالے سے جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بتایا کہ اس وقت پوری دنیا میں 25 پاکستانی سفارتخانے و مشنز کرائے کی عمارتوں میں کام کر رہے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے اسرائیل، آرمینیا اور تائیوان کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں کیونکہ ہم ان ممالک کو تسلیم نہیں کرتے مشیر خارجہ نے بتایا کہ افغانستان کی جیلوں میں 342 پاکستانی قید ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں 42 بھارت میں 231، مالدیپ میں 9، نیپال میں 82 پاکستانی قید ہیں۔ صاحبزادہ محمد یعقوب کے حوالے سے جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ یکم جنوری 2008ء کے بعد51 سبکدوش افسران کو مختلف ممالک میں سفیر تعینات کیا گیا۔

ان میں 24 ریٹائرڈ فوجی افسران بھی شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ اردن، وائس ایڈمرل (ر) سید خاور علی مالدیپ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) آغا محمد طارق نائجیریا، میجر جنرل (ر) سید شکیل حسین سری لنکا، ایئر مارشل (ر) اطہر حسین بخاری شام، میجر جنرل (ر) اطہر عباس یوکرائن میں تعینات ہیں۔ اسی طرح میجر جنرل (ر) طارق رشید خان برونائی دارالسلام کیلئے ہائی کمشنر جبکہ میجر جنرل (ر) وقار احمد کو لیبیا میں سفیر مقرر کر دیا گیا ہے۔

وزیر بین الصوبائی رابطہ کے بارے میں سوالات کے جواب کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پاک انگلینڈ ون ڈے کرکٹ میچ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور مجھے فون کیا جس پر ٹیم نے حکمت عملی کو تبدیل کیا اور ٹی 20 میں اوپنرز تبدیل کر دیئے گئے۔ وزیر کے اس جواب پر بعض اراکین نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ ون ڈے اور ٹی 20 کے لئے الگ الگ ٹیمیں ہوتی ہیں۔ کھلاڑی بھی مختلف تھے۔ ون ڈے میں اوپنرز ناکام ہوئے جس کو دیکھ کر ٹی 20 کے اوپنرز تبدیل کر دیئے گئے۔ کامیابی کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔