بریکنگ نیوز
Home / کالم / انسداددہشت گردی:عزم وناکافی اقدامات

انسداددہشت گردی:عزم وناکافی اقدامات


ہرسال سولہ دسمبر کا دن پاکستانیوں کو دو بڑے افسوسناک واقعات کی یاد دلاتا ہے ایک تو اِس تاریخ کو مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان کا سقوط ہوا تھا اور دوسراسال دوہزار چودہ کے سولہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا یہ دونوں واقعات ہمیں اِس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں پیش آنیوالے اِن افسوسناک اور دکھ بھرے واقعات سے سبق سیکھا جاتا لیکن رواں ماہ منظرعام پر آنے والی ’کوئٹہ کمیشن رپورٹ‘ سے اخذ ہوا ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ وفاقی حکومت نے بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کی روایت کو برقرار رکھا ہے مذکورہ کمیشن سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرٹیکل 184(3)کے تحت قائم کیا گیا جسکا بنیادی کام آٹھ اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کی تفصیلات اور ذمہ داروں کا کھوج لگانا تھا دہشت گردی کے اس سانحے میں 75 انسانی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا تھا جس میں ہلاک و زخمی ہونیوالوں میں زیادہ تر وکلاء تھے اِس خودکش حملے سے بلوچستان میں وکلاء کے سرکردہ رہنماؤں کی بڑی تعداد نشانہ بنی جو ملک میں انسانی حقوق کی جدوجہد‘ جمہوریت کی مضبوطی اور صوبائی حقوق و خودمختاری کیلئے جدوجہد کرتی تھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو کہ اِس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ تھے کا تعلق بھی بلوچستان ہی سے ہے اور ان کا انتخاب اپنے آبائی علاقے میں ہوئی دہشت گردی کی واردات کے حوالے سے کیا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مرتب کردہ رپورٹ میں حکومت کو چارج شیٹ کیا گیا بالخصوص وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا نام تو رپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے وزیراعظم نواز شریف اپنے نقادوں کو مطمئن نہیں کرسکے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وہ یک سو ہیں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی سوال اٹھا رہی ہیں اور اِس بات کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بناتی ہیں کہ حکومت کالعدم تنظیموں سے روابط بنائے ہوئے ہے ۔

مسلم لیگ نواز ایسے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے اور ایسی مثالیں بطور ثبوت پیش کرتی ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف اس کے کلیدی کردار اور عزم کا ثبوت ملتا ہو لیکن کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وفاقی وزیرداخلہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ رپورٹ یک طرفہ ہے اور وہ اسے ہر فورم پر چیلنج کریں گے قابل ذکر ہے کہ رپورٹ کے خالق ستاون سالہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اچھی ساکھ والے جج ہیں آپ نے برطانیہ میں ستائیس سال تک بطور وکیل پریکٹس کی جس کے بعد وہ پاکستان واپس آئے وہ روزنامہ ڈان کیلئے قانونی امور اور ماحولیات کے حوالے سے لکھتے بھی رہے ہیں اور پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے قوانین و قواعد کے حوالے سے ایک کتاب کے شریک مصنف بھی ہیں۔ غیرمعمولی تھا جب پانچ اگست 2009ء کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس آف بلوچستان کے عہدے کے لئے اپوائنٹ کیا گیا۔ یہ اس وقت ہوا جب تین نومبر 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو اس اقدام کو سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیا جس کے بعد عدالت کے تمام ججز نے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پانچ ستمبر 2014ء کو جج کے عہدے پر ترقی دے دی گئی انکا تعلق بلوچستان کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے اور وہ ایک دانشور شخص ہیں انکے والد قاضی محمد عیسیٰ کا تعلق ضلع پشین سے تھا اور وہ تحریک آزادی کے سپاہی ہونے کیساتھ بیرون ملک سے تحصیل یافتہ وکیل اور سرکردہ مسلم لیگی رہنما تھے قائد اعظم ؒ نے انہیں مسلم لیگ بلوچستان کا صدر مقرر کیا تھا ان کے دادا قاضی جلال الدین ریاست قلات کے وزیراعظم رہ چکے ہیں ۔

جبکہ ان کی والدہ بیگم سائدہ عیسیٰ تعلیم‘ بچوں اور خواتین کے مسائل کے حل کے حوالے سے سماجی خدمات کرنیوالا ایک معروف نام ہے۔کوئٹہ کمیشن رپورٹ پیش کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پہلی مرتبہ ایسا نہیں کیا کہ انہوں نے کسی مسئلے کے بارے میں سخت رپورٹ پیش کی ہو۔ فروری دوہزار سولہ میں وہ اس وقت بھی مرکز نگاہ رہے جب انہوں نے سائبیریا سے آنے والے پرندوں کے شکار کے حوالے سے فیصلہ دیا کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل جس تین رکنی بنچ نے پرندوں کے شکار کے بارے میں فیصلہ دیا ہے تو اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بطور جج اور ماحولیاتی تحفظ کے علمبردار وہ سائبیریا سے آنے والے پرندوں کے شکار کے اجازت نامے (پرمٹ) جاری کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں یہ پرندے روس کے علاقوں سے ہر سال ہجرت کرکے پاکستان آتے ہیں کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ واضح اور مدلل ہے رپورٹ میں سول ہسپتال کوئٹہ میں فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بلوچستان میں صحت کے ابتر نظام اور انتظامی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے محکمۂ صحت میں اقربا پروری کو عروج پر دکھایا گیا ہے۔ محکمۂ صحت کے کم سے کم چار سیکرٹریز ایسے تعینات کرنے کا ذکر بھی رپورٹ میں ملتا ہے جن کی تعیناتی اہلیت پر نہیں ہوئی اور ان میں سے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے بھائی بھی ہیں‘ جو اِس وقت وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں۔ رپورٹ میں اگرچہ نے اُس ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کا نام تو نہیں لکھا گیا لیکن صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ ہی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کسی کو معاف نہیں کیا انہوں نے فرنٹیئر کور پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے سول ایڈمنسٹریشن کی فوری مدد نہیں کی انہوں نے لکھا کہ بلوچستان حکومت کی ساکھ خراب کرنے اور تحقیقات پر اثرانداز کرنے کا سبب وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری‘ وزیرداخلہ سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت کے ترجمان کے بیانات بھی بنے انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب رواداری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایارپورٹ میں کہا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن اور مغربی سرحدوں کی مناسب نگرانی نہیں کی گئی۔ ذرائع ابلاغ پر بھی تنقید کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کے خیالات نشر کرتے ہیں ۔

جو کہ قانوناً جرم ہے۔ سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ وفاقی حکومت اور وفاقی وزارت داخلہ کو بنایا گیا جنہوں نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قومی حکمت عملی پر مبینہ طور سے عمل درآمد نہیں کیا۔ رپورٹ میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کو کم سے کم سات مرتبہ ’موردالزام ٹھہرایا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے جڑی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور گذشتہ ساڑھے تین سال میں نیکٹا کا صرف ایک ہی اجلاس بلایا گیا ان پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کی اور قومی شناختی کارڈ کے حوالے سے ان کے ایک مطالبے کو تسلیم کیا حسب توقع رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں اور نمایاں سیاسی شخصیات نے وفاقی وزیرداخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا رپورٹ میں اس بات پر بھی تنقید کی گئی کہ انسداد دہشت گردی کی کوششیں کرنے والے ایک سے زیادہ اداروں کے درمیان آپسی تعاون نہیں اور ان کی کوششیں مربوط نہیں کی جا سکی ہیں۔ وسیع النظر اور اہل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مرتب کردہ رپورٹ جامع اور لائق داد ہے۔ انہوں نے قومی اداروں کو فعال بنانے کیلئے دلیرانہ انداز بناء کسی خوف و خطر نہ صرف خامیوں کی نشاندہی کی ہے بلکہ خامیوں پر قابو پانے کیلئے اصلاحات بھی تجویز کی ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششیں عملاً کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔)