بریکنگ نیوز
Home / کالم / جاڑے کاانتظار

جاڑے کاانتظار

اب کی دفعہ جاڑا لگاتو ہے پر تادم تحریر بادل نہیں برسے، ہاں کسی نہ کسی جگہ ہلکی سی پھوار ضرورہوئی ہے پر اتنی نہیں کہ فضاء میں پھیلی آلودگی کو دھو ڈالے کچھ عجب نہیں کہ جلد ہی قدرت ہم پر مہربان ہوجائے، خوب مینہ برس جائے اور اس وائرس کہ جس نے بچوں، بوڑھوں اور جوانوں سب کو بخار میں مبتلا کردیا ہے سے ہماری جان چھوٹ جائے ایک محاورہ ہے ’’جاڑا ماہ نہ پوہ۔ جاڑہ ہوا کا ہو‘‘جس کا مطلب ہے کہ جاڑے کیلئے ماگھ پوہ کی قید نہیں بلکہ اصل جاڑا اس وقت پڑتا ہے جب سردیوں میں ہوا تیز چلنے لگے، اس لحاظ سے تو ابھی تک جاڑا پڑا ہی نہیں پورا نومبر خشک گزرا دسمبر آخری ہچکی لے رہا ہے سنا تھا کہ کرسمس کے دن بارش بھی ہوتی ہے اور برف بھی پڑتی ہے کل کرسمس تھا پہاڑوں پر برف ضرور پڑی پر قدرے کم یورپ میں کرسمس کی تعطیلات 22دسمبر سے ہی شروع ہوجاتی ہیں گو اس کی تیاریاں اس سے بھی کچھ روز قبل‘ چند روز پہلے برلن میں دہشت گردی کا جو واقع ہوا اور جس میں کرسمس کیلئے خریداری کرنے والے 12افراد جاں بحق ہوئے اس سے اہل مغرب نے لازمی امر ہے کہ چونک جانا تھا امریکہ کا نو منتخب صدر ٹرمپ پہلے ہی سے مسلمانوں کے خلاف غصے سے بھرا بیٹھا تھا اس واقعہ کے بعد غیظ وغضب سے بھرپور امریکی نومنتخب صدر نے عندیہ دیا ہے کہ دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ ممالک یا افراد کو مزہ چکھائے گا ۔

برلن کے واقع میں جو شخص ملوث ہے اسے ایک عرب مسلمان بتایا جاتا ہے، نظریہ آرہا ہے کہ ٹرمپ جب وائٹ ہاؤس کا مکین بنے گا تو امریکہ میں امیگریشن کے معاملات کو مزید سخت کریگا اور اس کا زیادہ تر ملبہ مسلمانوں پر پڑیگا جن لوگوں کو گرین کارڈ مل چکے ہیں ان کا بھی امریکہ میں رہنا دشوار ہوگا اور جو گرین کارڈ لینے کے خواہش مند ہیں ان کو اب امریکہ کا شہری بننے کیلئے کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑیگا زرداری صاحب کرسمس سے ٹھیک دو دن پہلے وطن واپسی کرچکے، اس یخ بستہ موسم میں ان کی آمد نے کچھ حد تک ملک کا سیاسی ٹمپریچر گرم کردیا ہے، کل یعنی 27دسمبر 2016ء کے دن اس وقت سیاسی ٹمپریچر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ جائیگا جب وہ گڑھی خدا بخش میں کارکنوں سے خطاب کریں گے، ان کے اردگرد وہی پرانے چہرے دیکھ کر تو ایسا نظر آتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا بجز اس کے کہ بلاول بھی اس گروہ میں ا ب شامل ہوچکا ہے‘ یار لوگ نہ جانے کب تک بھٹوز کی مقبولیت اور شہرت اور قربانیوں کو کیش کرتے رہیں گے اگر بلاول بھٹو کا یہ کہنا سچ ہے کہ حکومت نے انکے چار مطالبات 27دسمبر تک منظور نہ کئے تو وہ اسے ٹف ٹائم دیں گے تو اس صورت میں تو پھر پی پی پی کو عنقریب سڑکوں پر ہونا چاہئے پرا یسا ہوگا نہیں۔

غالب امکان یہی ہے کہ اس دوران پس پردہ (ن)لیگ اور پی پی پی کے کرتا دھرتا اپنی پرانی مفاہمت کی پالیسی پر پھر کاربند ہوجائیں گے، سی پیک کے بارے میں زرداری صاحب نے بین السطور ایک بات کہی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی اس کے ٹھیکوں میں کافی دلچسپی ہے، زرداری صاحب خود بھی اس کشتی کے سواررہے ہیں کہ جس میں آج کل میاں صاحب سفر کررہے ہیں ان سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے کہ جتنا بڑا ٹھیکہ ہوگا اتنی ہی بڑی کمیشن ملے گی‘ یہ بھی شنید ہے کہ سی پیک کے تحت کوئلے سے بجلی بنانے کے جو منصوبے بنائے جارہے ہیں ان پر بھی بعض ماہرین کے تحفظات ہیں ان کو ساحل سمندر کے قریب لگانا چاہئے بلکہ وہ مبینہ طورپر سرسبز علاقوں میں ساحل سمندر سے کافی دور جگہوں پر لگائے جارہے ہیں جس سے ماحولیات پر منفی اثرپڑے گا ۔