بریکنگ نیوز
Home / کالم / اینٹی بیاٹکس کاناجائز استعمال

اینٹی بیاٹکس کاناجائز استعمال

فہمیدہ کے چار بچے تھے لیکن چاروں کے چاروں آپریشن یعنی سی سیکشن کے ساتھ پیداہوئے تھے۔ جب پرسوں میرے کلینک میں داخل ہوئی تو اس نے پیٹ کے گرد بیلٹ باندھا ہوا تھا میں نے لٹاکر دیکھا تو پیٹ کی ساری جلد گھٹنوں تک لٹکی ہوئی تھی مشکل اس میں یہ تھی کہ پیٹ کے عضلات پھٹ کر سائیڈوں پر چلے گئے تھے اور نتیجتاً اسکی ساری آنتیں پیٹ کی دیوار سے باہر نکل کر محض جلد کے سہارے کنٹرول میں تھیں جب وہ لیٹتی تو پتہ نہ چلتا لیکن کھڑے ہوتے ہی سارا پیٹ باہر لٹک جاتا ویسے تو ہر حمل کیساتھ پیٹ کے کچھ نہ کچھ عضلات پھٹ جاتے ہیں لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اگر مناسب ورزش کی جائے تو لٹکا پیٹ واپس بڑی حد تک اپنی جگہ آجاتا ہے اب فہمیدہ کے کیس میں آپریشن ضروری تھا اسے آسان زبان میں ٹمی ٹک کہا جاتا ہے اسکے پیٹ کی دیوار میں کافی بڑا رخنہ پڑا ہوا تھا اسلئے آپریشن تین گھنٹے تک چلا۔ آپریشن شروع کرنے سے قبل میں اپنے انیستھٹسٹ سے درخواست کی کہ اسے اینٹی بیاٹک کا ایک انجکشن لگایا جائے اور آپریشن کے دوگھنٹے پورے ہونے پر میں نے اینٹی بیاٹک کا دوسرا انجکشن بھی لگوالیا اللہ کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب رہا گو کہ فہمیدہ کو ایک رات احتیاطاً آئی سی یو میں گزارنا پڑا آج میں نے اسکا معائنہ کرکے اسے گھر جانے کو کہا میں نے اپنے رجسٹرار اور نرس سے کہا کہ ان کو صرف درد کیلئے پیراسٹامول لکھ دیں فہمیدہ کے شوہر میرے پاس تصدیق کیلئے آئے کہ ڈاکٹر صاحب صرف پیراسٹامول؟ میں نے الٹا سوال کردیا کہ کیا اور کسی چیز کی ضرورت ہے؟

بولے کہ زخم کیلئے کوئی دوا نہیں چاہئے؟ میں سمجھ گیا کہ انکا مطلب اینٹی بیاٹک تھامیں نے ہنس کر کہا کہ وہ جو بڑی سی گولی ہے جو کیمسٹ کی جگہ مرغی دیتی ہے اور اسے ہم انڈا کہتے ہیں دن میں چار کھالیا کرے پھر میں نے سمجھایا کہ ہر مریض کو آپریشن کے بعد اینٹی بیاٹک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پینسلین کی ایجاد سے قبل معمولی قسم کے انفیکشن سے بھی لوگ مر جاتے تھے اس دوا کی ایجاد دوسری جنگ عظیم میں بہت کام آئی اور انفیکشن کم ہوتا گیا۔ گزشتہ تین چار دہائیوں میں نت نئی اینٹی بیاٹک بنتی گئیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ جراثیم میں بھی مزاحمت بڑھتی گئی اور اب ایک وقت یہ آگیا ہے کہ کبھی کبھار ایسے جراثیم بھی حملہ آور ہوجاتے ہیں جو دنیا میں موجود تمام اینٹی بیاٹکس کیلئے مزاحمت رکھتے ہیں۔ ایسے مزاحم جراثیم کی تیزی سے ابھرنے کی بنیادی وجہ اینٹی بیاٹکس کا ناجائز استعمال ہے ہوتا یہ ہے کہ ہم جب ایک قسم کے جراثیم کو مارنے کیلئے اینٹی بیاٹک دے دیتے ہیں تو ایک دو فیصد جراثیم اسکی مزاحمت کرتے ہیں لیکن مریض کو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا ہاں جب اینٹی بیاٹک مسلسل استعمال ہوتا رہے تو مرنے والے جراثیم کی جگہ بھی مزاحم جراثیم لے لیتے ہیں اس طرح سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ نزلہ زکام ایک عام مرض ہے۔ننانوے فیصد لوگوں میں یہ ایک وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور چند روز میں بدن کی فطری مدافعت اسے ختم کردیتی ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں اٹھانوے فیصد اینٹی بیاٹک نزلہ زکام ہی کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں جو ظاہر ہے بلاضرورت ہے کہ اس سے کوئی وائرس نہیں مرتا دوسری طرف جسم کے جو اچھے جراثیم ہیں وہ مارے جاتے ہیں اور باقی بچنے والے جراثیم مزاحمت پیدا کردیتے ہیں۔ آپریشنوں کے دوران اور بعد میں اینٹی بیاٹک کا استعمال کسی انفیکشن کا کنٹرول نہیں بلکہ اس سے بچاؤ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ڈر یہ ہوتا ہے کہ زخم چونکہ کھل گیا تھا اس لئے جراثیم کا حملہ ہوسکتا ہے۔ تاہم تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپریشن کیلئے حفاظتی اینٹی بیاٹکس کا رول چوبیس گھنٹے کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ اینٹی بیاٹک مریض کو بے ہوشی اور چیرا دینے سے قبل ہی دیا جائے تاکہ جب چاقو زخم بنائے تو خون میں اینٹی بیاٹک وافر مقدار میں موجود ہو ۔ یاد رہے کہ انفیکشن سے بچانے کے دوسرے اقدامات بھی ہیں جن میں مریض کا آپریشن سے گزشتہ رات غسل، اوزار کا سٹرلائز کرنا، آپریشن تھیٹر کی صفائی اور ہوا کے فلٹر، مریض کو ہاتھ لگانے سے قبل ہاتھ اچھی طرح دھونا اور اچھی کوالٹی کے دستانے پہننا وغیرہ عام ہیں۔ کئی کم درجے کے ہسپتالوں میں اوزار کی سٹرلائزیشن اور آپریشن تھیٹر کی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور سرجن اس کمی کو پورا کرنے کیلئے مریض پر اینٹی بیاٹکس کی بوچھاڑ کردیتا ہے۔

اب ہمارے ملک میں ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ جہاں کوئی کھلا زخم نظر آیا ، فوراً اینٹی بیاٹک کا استعمال شروع۔ہر کھلے زخم سے تھوڑا پانی رستا ہے اور وہ چونکہ خون کا ایک حصہ ہوتا ہے اسلئے اسکا رنگ زرد ہوتا ہے جسے مریض پیپ سمجھ لیتا ہے۔ اکثر و بیشتر تو مریض ڈاکٹر کے نسخے کی بھی تکلیف نہیں کرتا بلکہ جاکر کیمسٹ سے اپنی پسند کی اینٹی بیاٹک لے لیتا ہے دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ کھلے زخم میں شاذونادر ہی انفیکشن ہوسکتی ہے بشرطیکہ اسے اچھی طرح سے صاف رکھا جائے اور صاف رکھنے کیلئے بھی سپرٹ ، ڈیٹول یا پایوڈین کی ضرورت نہیں پڑتی عام نلکے کا پانی اور عام صابن 99 فیصد زخموں میں کافی ہوتا ہے اکثر زخموں پر اگر اس قسم کے اینٹی سیپٹک استعمال کئے جائیں تو ان کی مندمل ہونے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے یہ جو ٹی وی کے کمرشلزمیں بار بار دکھایا جاتا ہے کہ فلاں جراثیم کش صابن سے ہاتھ دھونے اور غسل کرنے سے سارے جراثیم مرجاتے ہیں یہ سفید جھوٹ ہے کسی مہذب ملک میں ایسی اشتہار بازی نہیں کیجا سکتی۔

اینٹی بیاٹکس کا صرف یہ نقصان نہیں کہ زیادہ مزاحم جراثیم پیدا کرتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی کے مہلک اثرات گردوں، جگر یا دوسرے اعضاء پر ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً جینٹامائی سین اور اس سے ملتی دوائیں گردوں اور سماعت کے اعصاب کیلئے خطرناک ثابت ہوتی ہیں ۔ ہمارے ہاں گردوں کے فیل ہونے کے جو مریض بڑھنا شروع ہوئے ہیں، اسکی ایک وجہ ایسے اینٹی بیاٹک کا بغیر خون کے ٹیسٹ کے استعمال ہے۔اس کالم کا مقصد قارئین میں اینٹی بیاٹکس کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے معمولی نزلہ زکام کیلئے فوراً اینٹی بیاٹک نہیں لینی چاہئے۔ کوئی چھوٹا موٹا زخم لگ جائے تو اسے فوراً صابن پانی سے دھولیں اور اسکے اوپر کوئی مرہم رکھی جائے یاپٹی میں بند کردیا جائے۔ بڑے سے بڑے آپریشن کے بعد بھی پانچ دن سے زیادہ اینٹی بیاٹک کا استعمال مناسب نہیں۔ آپریشن کے عموماً اگلے دن زخم کو دھویا جاسکتا ہے اور اسکے لئے بھی یہی نلکے کا پانی اور اچھا سا صابن کافی ہے یہ تمام اینٹی بیاٹک انفیکشن روکنے کیلئے استعمال ہوتی ہیں تاہم جب انفیکشن ہو تب بغیر زخم کے بھی اینٹی بیاٹک کی ضرورت پڑتی ہے۔ انفیکشن کے دوسرے اثرات میں بخار، جسم میں درد، جہاں انفیکشن ہو، اس جگہ کا سرخ ہونا یا اس سے پیپ بہنا اور خون میں سفید خلیوں کا بڑھ جانا شامل ہے۔ جب تک یہ اضافی اثرات نہ ہوں ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ انفیکشن ہے۔