بریکنگ نیوز
Home / کالم / وزیر اعظم پاکستان کا دورہ بوسنیا

وزیر اعظم پاکستان کا دورہ بوسنیا

وزیراعظم نواز شریف بوسنیا ہرزیگوویناکا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کر کے واپس پہنچ گئے ہیں ۔ وزیراعظم نواز شریف کا بوسنیا کا یہ پہلا سرکاری جبکہ مجموعی طور پر دوسرا دورہ تھا۔یاد رہے کہ نواز شریف اس سے پہلے 1996میں بحیثیت اپوزیشن لیڈر بھی بوسنیا کا دورہ کر چکے ہیں۔نوا زشریف کی بوسنیا کے ساتھ خصوصی تعلق اور وہاں کے معاملات میں دلچسپی اس وقت سے ہے جب نوے کی دہائی کے اوائل میں سوویت یونین کے انہدام کیساتھ ہی یورپ کی سب سے بڑی کمیونسٹ ریاست یوگو سلاویہ میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوکر شدید ترین خانہ جنگی پر منتج ہوا تھا اس خانہ جنگی کی سب سے بھاری قیمت بوسنیا کے مسلمانوں کو ایک لاکھ سے زائد ہلاکتوں اور لاکھوں کی تعداد میں نقل کانی اور شدید بھوک وپیاس کے حالات سے دوچار ہو کرچکانی پڑی تھی بوسنیا کو اپنی آزادی کیلئے بعینہ ان ہی حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا جن حالات کا مقابلہ کر کے برصغیرپاک وہند کے مسلمان ہندو اکثریت کا مقابلہ کرکے آزادی کی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے البتہ برصغیر کے مسلمانوں کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ اگرایک جانب ہندوؤں کی تعداد کے تناسب سے کم ہونے کے باوجود کروڑوں میں تھے تو دوسری جانب انگریز کی موجودگی نے بھی مسلمانوں اور ہندوؤں میں کسی بڑی خانہ جنگی کے امکانات کو کم کردیا تھاجبکہ اس کے برعکس بوسنیا کے مسلمان جہاں مجموعی تعداد میں سرب اور کروٹس دہشتگردوں کے مقابلے میں کم تھے وہاں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی روکنے کیلئے بوسنیا کی پشت پر نہ تو پڑوس میں کوئی مسلمان ریاست موجود تھی اور نہ ہی مسلمان عسکری لحاظ سے اتنے مستحکم اور منظم تھے کہ وہ سرب اور کروٹ درندوں کے مظالم کا مقابلہ کرتے لہٰذا نوے کے عشرے کے اوائل میں ان پر وہ قیامت ٹوٹی جس کا اس جدید اور نام نہادمہذب دور میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔

‘ نواز شریف نے بوسنیا کا پہلادورہ اس وقت کیاتھا جب بوسنیا کی تحریک مزاحمت کافی حد تک منظم اور مستحکم ہو چکی تھی اور نیٹو اور اقوام متحدہ دیر آید درست آید کے مصداق خانہ جنگی کے خاتمے اور محصورشدہ مسلمانوں کو سرب درندگی سے بچانے کیلئے میدان میں آچکے تھے یہ وہ عرصہ تھا جب نوازشریف اور انڈونیشیا کے سابق صدر سوہارتو سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بوسنیا کا دورہ کیاتھا بوسنیا البانیہ کے بعد یورپ کا دوسرا ملک ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس کواپنی آزادی کی جو بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت کو قرار دیا جاتا ہے اس تلخ حقیقت سے شاید کوئی بھی انکارکی جرات نہیں کرسکے گاکہ بوسنیا کو قلب یورپ میں واقع ہونے کے باوجود افریقی ممالک روانڈا اور برونڈی سے بھی بدتراور شرمناک نسل کشی کا سامنا محض اسلئے کرنا پڑا تھا کہ اس نسل کشی کے شکار مسلمان تھے اور عالمی برادری کئی سال تک اس منظم نسل کشی کا نظارہ کرتی رہی تھی بوسنیا میں اسلام اس زمانے میں پھیلا تھا جب بالقان کے بعض دیگر علاقوں کی طرح بوسنیا بھی سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں تھاکچھ عرصہ خودمختار رہنے کے بعد یوگوسلاویہ کے مردآہن مارشل ٹیٹونے بوسنیا سمیت دیگر پانچ ریاستوں مونٹی نیگرو‘ میکدونیا‘ سلیویا‘سربیا اور کروشیا کو ایک فیڈریشن بنا دیا تھا لیکن1980میں ان کی وفات کے تھوڑے ہی عرصے بعد یوگوسلاویہ کے بکھرنے کا عمل شروع ہو گیاتھا جو1992 میں بوسنیا کی آزادی کے اعلان کے بعد شدید خانہ جنگی پرمنتج ہوا تھا۔

بعدازاں1996کے آخر میں ڈیٹن امن معاہدے کے بعد بوسنیا کی آزاد حیثیت تسلیم کرتے ہوئے یہاں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا موجودہ بوسنیاہرزیگوینا شمال کے جنگلات سے ڈھکے پہاڑی اور جنوب کے وسیع میدانی علاقوں کے ملاپ سے وجود میں آیاہے جہاں مسلمان 51 فیصد‘ سرب31فیصداور کروٹس 15فیصد جبکہ دیگر مذاہب اور قومیتوں کی آبادی تقریباً تین فیصد ہے واضح رہے کہ بوسنیا 40لاکھ آبادی پرمشتمل جنوب مشرقی یورپ میں واقع مسلمان اکثریتی ملک ہے 1996 میں یہاں پاکستان کی مسلح افواج نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں جو تاریخی کردارادا کیا تھا بوسنیا کی حکومت اور عوام اسے قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے حالیہ دورہ بوسنیا میں وہاں کی قیادت اور عوام کو باور کرایا ہے کہ پاکستان انکے دکھ درد اور خوشی میں برابر کا شریک ہے۔