بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / چوہدری نثار کی غیر رسمی بات چیت

چوہدری نثار کی غیر رسمی بات چیت

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت میں مختلف حوالوں سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کیساتھ احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کاطریقہ کار تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی وطن واپسی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں وہ آصف زرداری کی وطن واپسی کے روز بھی جاری رہنے والی رینجرز کی کاروائی سے متعلق واضح کرتے ہیں کہ اس کا سابق صدر کی واپسی سے کوئی تعلق نہیں اس سب کیساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بعض مقدمات رکوانا چاہتی ہے جو انہوں نے نہیں رکنے دیئے چوہدری نثار خانانی اینڈ کالیا گروپ سے متعلق حقائق اگلے دو ہفتوں میں سامنے لانے کا عندیہ بھی دیتے ہیں وزیر داخلہ پلی بارگین کو چوروں کیلئے راستہ دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں چوہدری نثار کا استفسار ہے کہ جب نیب کا چیئرمین حکومت اور اپوزیشن مل کر لگائے گی تو احتساب کیسے ہوگا چوہدری نثار احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کا اختیار عدلیہ کو دینے کی تجویز دیتے ہیں چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں اس عہدے کیلئے سازش کا الزام بوگس ہے وزیر داخلہ نے بہت سارے معاملات پر اپنا موقف دے دیا۔

جس پر یقیناًجوابی بیانات بھی آئینگے احتساب بیورو سے متعلق ان کی تجویز پر بھی ہر کوئی اپنا نکتہ نظر پیش کر سکتا ہے یہ سب جمہوری نظام کا حصہ ہے تاہم اس سب کے ساتھ سیاسی قیادت کو جمہوریت کے استحکام کے ساتھ عوام کو درپیش مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی وطن عزیز کا عام شہری بڑی شدت کیساتھ اپنے مسائل کے حل کیلئے اپنی منتخب قیادت کے اقدامات کا منتظر ہے سیاسی قیادت اپنے موقف پر ضرور دلائل دے اور دوسرے کی بات بھی سنے تاہم جہاں معاملہ عوام کے مسائل کا ہو اس پر مشترکہ جدوجہد یقینی بنائے‘ اس وقت عام شہری گرانی کے ہاتھوں نالاں ہے بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ عذاب بنی ہوئی ہے نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں جبکہ شہری سہولتوں کا فقدان ہے جس پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔

فاٹا اصلاحات میں عوام کی شرکت

حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کیلئے عوام سے رائے لینے کا اقدام قابل اطمینان ہے اس سے قبل اصلاحات کیلئے قائم خصوصی کمیٹی جرگوں کی طویل سیریز چلا چکی ہے جس میں ہر طبقے کے لوگوں سے رائے لی گئی ہے وزیراعظم نوازشریف ان اصلاحات پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا عندیہ دے چکے ہیں جہاں تک مشاورت کا تعلق ہے تو اس کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا اتنا ہی ثمرآور نتائج کا حامل بھی ہوگا تاہم برسرزمین حالات اور ضروریات اس بات کی متقاضی ہیں کہ اصلاحات کے عمل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور معاملہ فائلوں سے نکل کر عملی شکل اختیار کرے تاکہ لوگوں کو ریلیف ملے فاٹا میں تعمیر و ترقی کا کام ہوسکے بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں تاکہ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے اس ضمن میں متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ وہ اپنا ہوم ورک ابھی سے شروع کر دیں تاکہ حکومت کی جانب سے حتمی اعلان کیساتھ ہی عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں اگر ایسا نہ ہوا تو اعلان کے بعد عملی صورت ایک طویل وقت لے گی اور لوگ ریلیف کے منتظر ہی رہیں گے۔