بریکنگ نیوز
Home / کالم / حلب کاانتقام

حلب کاانتقام

انقرہ میں عالیشان سرکاری عمارتوں کے جھرمٹ میں واقع ایک رنگین اور خوبصورت میوزیم کی سفید دیواروں والے ہال میں فنون لطیفہ کی تصویری نمائش ہو رہی تھی شہر کے نامی گرامی لوگ بڑے انہماک سے روس کے سفیر کی تقریر سن رہے تھے ترکی اور روس کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و معاشرت کو اجاگر کرنے والی بیش بہا تصویریں دیواروں پر آویزاں تھیں اس تقریب کو “ترکوں کی نظر سے روس” کا عنوان دیا گیا تھا درجنوں ویڈیو کیمرے اسکی عکسبندی کر رہے تھے مہمان خصوصی آندرے کارلو پر اعتماد لہجے میں اپنے ملک کی امن پسندی اور علاقے میں اسکے مصالحانہ کردار پر خیال آرائی کر رہے تھے سٹیج پر مہمان سفیر سے چند قدم پیچھے سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک بائیس سالہ ترک نوجوان کھڑا تھا وہ ایک پولیس افسر تھا کچھ دیر بعد اس نے جیب سے پستول نکالا اور نو گولیاں بد قسمت مہمان کے جسم میں پیوست کر کے اسے ڈھیر کر دیا پھر نہایت غصے اور نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ” ہم حلب میں مر رہے ہیں تم یہاں مرو” اسکے بعد پستول فضا میں لہراتے ہوئے اس نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ “حلب اور شام کو مت بھو لو” اس دوران پولیس والوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے مولٹ الٹنٹاس نامی قاتل کو موت کی نیند سلا دیا۔

پیر کی شام ٹھیک اسی وقت برلن کے ایک بڑے چرچ کے قریب کرسمس مارکیٹ میں خریداری کرنے والے ہجوم پر تیونس کے ایک نوجوان انیس آمری نے ٹریکٹر ٹرالر چڑھا کر بارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی کر دےئے ان دونوں میں سے ایک واردات یورپ کے وسط میں اور دوسری اس کی سرحدوں پر واقع ترکی میں رو نما ہوئی اس خون آلود سال کے اختتام سے چند روز پہلے ہونے والی یہ دونوں وارداتیں ارض شام کی قباء تار تاراور اسکے لہو لہان بدن کے رستے ہوئے زخموں کے علاوہ یورپ میں لاکھوں مسلمان مہاجرین کی آمد کے بعد وہاں پاپولسٹ تحریکوں کی مقبولیت کا استعارہ ہیں اس قیامت خیز سال میں عراق اور شام کے کئی دوسرے جنگ زدہ شہروں کو چھوڑ کر صرف حلب میں ہونے والے قتل عام پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دو ہزار سولہ نے انسانی ہلاکتوں کے اتنے لرزہ خیز مناظر تخلیق کئے ہیں کہ اسے شاید تاریخ میں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے یہ سال اس لحاظ سے قابل رحم بھی ہے کہ یہ سر جھکائے رخصت ہو رہا ہے مگر اسے خون میں نہلانے والے ذرہ بھر بھی شرمندہ نہیں وہ سرزمین شام سے گذشتہ پانچ برسوں میں اٹھنے والی چار لاکھ لاشوں اور پچاس لاکھ سے زیادہ بے گھر لوگوں کی بربادی پر رتی بھر خفت بھی محسوس نہیں کر رہے ارض شام کے مجرم آج بھی اپنے مہذب ہونے پر زورو شور سے اصرار کر رہے ہیں۔

وہ حلب کے خونی معرکے میں شکست کھانے کے بعد جلتے خیموں اور ٹوٹی طنابوں کو دیکھتے ہوئے ایک نئی جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں دوسری طرف دمشق میں جشن فتح کے ہنگام بشارالاسد نے بڑے فخر سے کہا کہ فتح حلب آسمانی کتابوں کے نزول جیسا مقدس لمحہ ہے حافظ الاسد کا فرزند قبرستانوں‘ کھنڈروں اور ملبے کے ڈ ھیروں پر حکومت کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اسکی پیشانی پر عرق انفعال کے کسی ایک قطرے کا شائبہ تک نہیں اسکے اتحادی ولادی میر پیوٹن کا ملک حلب کے کھنڈروں سے ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا ہے امریکہ اس میدان سے باہر کھڑا اپنے زخم سہلا رہا ہے وہ مگر مایوس نہیں اسے معلوم ہے کہ اصلی اور بڑی جنگ ابھی باقی ہے اسنے صرف اس میدان میں اترنے کا فیصلہ کرنا ہے اسکے اتحادی خلیجی ممالک حلب میں پانچ برسوں تک بارود برسانے کے بعد اب پسپائی اختیار کر چکے ہیں انکا اگلا پڑاؤ ادلیب کا شہر ہے یہاں بھی گھمسان کا رن پڑے گا اس سے آگے ابو بکر بغدادی کی دولت اسلامیہ العراق والشام یا داعش کا دارالخلافہ رقاء ہے اصلی’ بڑی اور فیصلہ کن جنگ یہاں ہو گی اس قلعے کو تسخیر کرنے والا شام کی جنگ کا فاتح اعظم ہو گاکئی زائچہ نویس‘ منجم اور فال نکالنے والے کہہ رہے ہیں کہ روس‘ ایران اور دمشق کے اتحاد کو شکست دینا آسان نہ ہو گا خلیجی ممالک امریکہ سے تعاؤن کے طلبگار ہیں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر روس کو ہلا شیری دینے کی راہ اپنائی توعرب سلاطین دو عالمی طاقتوں کا مقابلہ نہ کر سکیں گے انہیں اس طویل‘ مہنگی اور صبر آزما جنگ میں بالآخر شکست فاش کا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا وہ جانتے ہیں کہ حلب کی شکست کے بعد شام میں انکی فتح کا سورج غروب ہو گیا تھا آخری داؤ مگر ضروری تھا قسمت کی دیوی کبھی کبھار آخری لمحوں میں بھی تو مہربان ہو سکتی ہے ایسا اگر نہ ہوا تو پھر یہ کہا جائے گا کہ
صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں
مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا

ادھر ترکی نے روس کے ساتھ حلب کی جنگ بندی کا معاہدہ کر کے خاصی اہمیت اختیار کر لی ہے امریکہ کو تشویش ہے کہ وہ کہیں ناٹو کو چھوڑ کر روس کے حلقہ اثر میں نہ چلا جائے طیب اردگان امریکہ سے پنسلوینیا میں مقیم اپنے مرد مطلوب فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہیں واشنگٹن سے کردوں کی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کرنے کی شکایت بھی ہے ترکی اسوقت کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے طیب اردگان ہزاروں سول اور فوجی افسروں کو فارغ کرنے کے بعد بھی اپنی حکومت کو محفوظ نہیں سمجھ رہے ترکی کے اخبارات روسی سفیر کے قاتل کو فتح اللہ گولن کا پیروکار بتا رہے ہیں اسکا مطلب یہ ہے کہ اب تک ہونے والی تطہیر کافی نہ تھی اردگان حکومت کو ملک کے اندر اور باہر داعش کے حملوں کا بھی خطرہ ہے پانچ برسوں تک جہادی تنظیموں کو روس اور ایران کے خلاف اسلحہ دینے کے بعد اب ترکی نے راستے بدل لئے ہیں وہ امریکہ سے مایوس ہو چکا ہے اور روس کو نجات دہندہ سمجھتا ہے۔

حلب کے قبرستان اپنے ارد گرد ہونے والی جنگوں کا تماشہ کر رہے ہیں امریکہ ان کھنڈروں میں اکلوتی سپر پاور ہونے کا تمغہ گنوا بیٹھا ہے ترکی بری طرح غیر مستحکم ہو چکا ہے خلیجی ممالک سٹپٹائے ہوئے ہیں روس اور ایران ملکر داعش کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں حلب کے لاکھوں لٹے پٹے لوگ اب اس نئی جنگ کا تماشہ کریں گے۔ یہی حلب کا انتقام ہے۔