بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مو لا نا فضل الرحمان کی وزیر اعظم سے ملا قات

مو لا نا فضل الرحمان کی وزیر اعظم سے ملا قات


اسلام آباد۔وزیر اعظم محمد نواز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی ۔ جس میں پیپلزپارٹی کو منانے کا ٹاسک مولانا فضل الرحمان کو سونپ دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایوان وزیر اعظم میں منگل کو ملاقات کی۔ جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اور قومی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وفاقی حکومت کی ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی اور اس سے متعلق امور زیر بحث آئے جبکہ پیپلزپارٹی کے حکومت سے چار مطالبات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پیپلزپارٹی کو احتجاج سے باز رکھنے اور منانے کا ٹاسک مولانا فضل الرحمان کو سونپ دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان آصف زرداری سمیت دیگر رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش کریں گے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) حقیقی جمہوری اور عوام کی منتخب کردہ جماعت ہے جو ملکی ترقی کے سفر میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر ہی حقیقی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور مسلم لیگ(ن) اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے میں سنجیدہ ہے۔

لیکن اپوزیشن ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ سیاست کا طرز عمل چھوڑ کر ملکی مسائل سے نمٹنے میں حکومت کا ساتھ دیں ۔دریں اثناء وزیر اعظم محمد نواز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی ایوان وزیر اعظم میں ملاقات کی جس میں داخلی سلامتی اور ملکی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے وزیر اعظم کو داخلی سلامتی کی صورت حال پر بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ داخلی سلامتی اور سرحدی نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور پاک افغان بارڈر پر موثر سرحدی نظام کے لئے دوطرفہ کوششیں جاری ہیں ۔

وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو اپنے حالیہ دورہ طورخم اور کراچی آپریشن سے آگاہ کیا ۔ چودھری نثار علی خان نے وزیر اعظم کو بتایا کہ سرحدی نظام کی بہتری کے لئے ملکی دفاعی اداروں کے لئے ونگز بنائے جا رہے ہیں جن پر 70 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دفاعی اداروں کے نئے ونگز میں مقامی افراد بھرتی کرنے کو ترجیح دی جائے گی ۔