بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی ،صدرمملکت

پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی ،صدرمملکت


کوئٹہ ۔ صدرمملکت ممنون حسین نے کہاہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ،پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ اگر بلوچستان کے لوگ اس عظیم معاشی منصوبے سے بہرہ مند نہ ہو تو اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ،آئندہ بھی اس امر کو یقینی بنایاجائیگا کہ بلوچستان ہی نہیں بلکہ ملک کا کوئی بھی حصہ اس راہداری کے ثمرات سے محروم نہ رہے ، اقتصادی راہداری سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اس کی ثمرات کی منصفانہ تقسیم وطن عزیز کے قائدین کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنا فریضہ یقیناًدرست طور پر اداکرینگے ،اہلیان بلوچستان پر ذمہ داری ہے کہ اس صوبے میں جو امکانات پیداہونے جارہے ہیں خود کو اس سے مستفید ہونے کیلئے تیار کریں ۔

قائداعظم سے بلوچستان کے لوگوں کی والہانہ عقیدت بے نظیر ہے منوجوانان قائد کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دن رات کوشاں رہے ۔وہ کوئٹہ میں بانی پاکستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کی140ویں یو م پیدا ئش کی منا سبت سے گو رنر ہا ؤس میں منعقدہ تقریب سے خطا ب کررہے تھے ۔اس موقع پر گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی ،صوبائی وزراء میر مجیب الرحمن محمدحسنی ،ڈاکٹرحامد خان اچکزئی ،سرداررضامحمدبڑیچ ،میرسرفراز بگٹی ،عبدالرحیم زیارتوال ،نواب محمدخان شاہوانی ،سرداراسلم بزنجو ،آئی جی ایف سی میجرجنرل ندیم احمد انجم ،آئی جی پولیس احسن محبوب اور دیگر عسکری و سول حکام اورآفیسران موجود تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت ممنون حسین کاکہناتھاکہ شاندار تقریب اور اس میں بچوں اور بڑوں کی شاندار پرفارمنس دیکھ کر دل خوشی سے سرشار ہوگیاہے اوریہ یقین مزید پختہ ہوگیاہے کہ ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے ،بابائے قوم کا بلوچستان سے تعلق اور اس کا مختلف مواقعوں پر یہاں آکر یہاں کے لوگوں سے ملنے کے حالات سے آگاہ ہوکر میں خوش گوار حیرت ہوئی ہے ،کوئٹہ ،سبی ،مستونگ ،جٹ پٹ اور پشین سمیت مختلف مقامات پر وہ کہیں پر تشریف لائیں۔

،اس سے اس کے بلوچستان سے محبت کااظہار ہوتاہے ،اسی طرح ان کے بااعتماد ساتھیوں اور رفقاء کی بہت بڑی تعداد بلوچستان کے مختلف حصوں سے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے زمانے میں اپنی بے پناہ محنت سے عوام میں بیداری پیدا کی یہی وجہ ہے کہ 1946میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات میں مخلوط طرز حکومت کے انتخابات کے باوجود مسلم لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اس خبر نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی کیونکہ مخلوط طریقہ انتخاب میں ایک جماعت کی اتنی بڑی کامیابی کی مثال اس وقت تک سامنے نہیں آئے گی یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج موصول ہونے کے بعد قائداعظم نے خوشی سے سرشار ہوکر فرمایاتھاکہ ’’ویلڈن بلوچستان ‘‘قائداعظم محمدعلی جناح تحریک پاکستان میں طلباء کے کردار اور جوش وجذبے سے بہت متاثر تھے اورانہیں دلیر بلوچ بوائز کے نام سے یاد کرتے تھے بابائے قوم نے 1945میں مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ تم مجھے چاندی کی گولیاں دو میں آزادی کی جنگ لڑ کر تمہیں پاکستان دوں گا ۔

قائداعظم کی اس تقریر کے جوابیں بلوچستان کے طلباء نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر چاندی کی دو سلاخیں قائداعظم کو بھجوائیں جن کا وزن ساڑھے پانچ ہزار تولہ یعنی ڈیڑھ من تھا ،اس طرح 15اکتوبر1945کو مستونگ ہائی سکول کے سکاؤٹس نے قائداعظم کو سلامی دی اور 225روپے تین آنے پر مشتمل عطیہ بھی پیش کیا ۔اس موقع پر سکول کے ایک طالب علم نے قائداعظم کی شان میں ایک نظم پڑی جس کاایک شعر کچھ یوں ہے ۔’’الہٰی یہ مسلمانان ہندوستان کہتے ہیں ‘‘۔۔۔’’ہمیں وہ ملک دیدیں جس کو پاکستان کہتے ہیں‘‘۔اس طالب علم کا نام میر عبدالباقی بلوچ تھا جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی تعمیر وترقی کیلئے اہم خدمات انجام دئیے ،بلوچ نوجوانوں کی طرح بلوچستان کے بزرگ بھی جوش وجذبے میں کسی سے کم نہ تھے سردار محمد عثمان خان جوگیزئی بتاتے ہیں کہ قائداعظم نے انہیں ایک رومال دیا جس کے حاشیے میں لکھاہواتھاکہ لے کر ہیں گے پاکستان قائداعظم کو یہ رومال بلوچستان کے نوجوانوں نے اپنے خون سے لکھ کر بھیجا تھا ،سردارصاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ساری عمر یہ
روما ل سنبھال کررکھا اور اپنے بچوں کو ہدایت کی کہ میرے انتقال کے بعد تدفین کے وقت یہ رومال میرے سینے پر رکھ دیاجائے ،قائداعظم قاضی عیسیٰ کے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے انہیں ایک امریکی میگزین نے پیشکش کی تھی کہ وہ اپنے سیاسی جدوجہد پر ایک کتاب لکھ دیں توانہیں وہ ایک لاکھ ڈالر کا معاوضہ پیش کرینگے ،تو قائداعظم کہا کرتے تھے کہ اگر میں اس وقت ایک کتاب لکھ سکا تواس کا نصف قاضی عیسیٰ کا ہوگا کیونکہ وہ میرے بھائی ہے ،ان واقعات سے بابائے قوم کی بلوچستان سے خصوصی لگاؤ کااظہار ہوتاہے وہ فرمایاکرتے تھے کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور اس کے عوام میرے دل سے بہت قریب ہے،4جولائی 1943کو اسلامیہ ہائی سکول کوئٹہ میں بلوچستان مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایاکہ بلوچستان ایک ہیرہ ہے جسے تراشنے کیلئے ایک ماہر جوہری کی ضرورت ہے جب یہ ہیرا تراشا جائیگا تو دنیا کی نگاہیں خیرہ ہوجائینگی ،بلوچستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں قائداعظم کی بصیرت اور دور اندیشی حیرت انگیز تھی ،انہوں نے وطن عزیز کے بارے میں امکانات کی نشاندہی آج سے لگ بھگ 70 ،80برس پہلے کی تھی جو آج حقیقت بن کرابھررہے ہیں ،بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہے ۔

جس میں پاک چین اقتصادی راہداری کلیدی کرداراداکریگی ،اس سلسلے میں میں بلوچستان کی سرزمین پر کھڑے ہوکر یہ واضح کرتاہوں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی ہے آئندہ بھی اس امر کو یقینی بنایاجائیگا کہ بلوچستان ہی نہیں بلکہ ملک کا کوئی بھی حصہ اس راہداری کے ثمرات سے محروم نہ رہے ،میں نے ایک بار پہلے بھی اسی گورنر ہاؤس میں کہاتھاکہ بلوچستان اس راہداری کی ثمرات سے محروم رہتاہے تو پھر ہمیں اس راہداری کی کوئی ضرورت نہیں میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں اور واضح کرتاہوں کہ ریاست اور ریاستی ادارے اقتصادی راہداری کے سلسلے میں بلوچستان سمیت پورے ملک کے مفادات کاتحفظ کرینگے ،انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اس کی ثمرات کی منصفانہ تقسیم وطن عزیز کے قائدین کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنا فریضہ یقیناًدرست طور پر اداکرینگے لیکن اس سے بھی بڑھ کر آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس صوبے میں جو امکانات پیداہونے جارہے ہیں خود کو اس سے مستفید ہونے کیلئے تیار کریں ۔

میں مقابلے ،امتحانات اعلیٰ تعلیمی نتائج پر کھڑی نظررکھتاہوں مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان کے نوجوانوں اور خاص کر طالبات کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے ،انہوں نے کہاکہ یہ بہت حوصلہ افزاء پیش رفت ہے میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے اور بلوچستان کے نوجوان مزید کامیابیاں حاصل کرے تاکہ وہ آنے والے دور کی ذمہ داریاں پورے اعتماد کے ساتھ ساتھ سنبھال سکیں،یہی سبب تھا کہ کچھ عرصے قبل میں نے نیو ٹیک کو ہدایت کی تھی کہ وہ بلوچستان کے نوجوانوں کی تربیت کیلئے مختلف کورسز اورپروگرام تیار کرے جن میں بحری تجارت ،جہاز رانی ،سیاحت ،ثقافتی ورثہ ،بلوچستان کے مختلف انواع واقسام کے کھانے اور اس کی عالمی معیار کے مطابق معیاری ودیگر شامل ہیں ،یہ میں نے اس لئے ہدایت کی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ حاصل ہو اورمجھے امید کہ نیوٹیک کے جو آئندہ پروگرام سامنے آئینگے بلوچستان کے نوجوان اس سے فائدہ اٹھائینگے ،اسی طرح میں نے نمل یونیورسٹی کو بھی ہدایت کی وہ گوادر میں چینی زبان سیکھانے اپناایک کیمپس قائم کرے ،اس مقصد کیلئے میں نے نمل کو ایوان صدر کے اخراجات کم کرکے خطیر رقم بھی فراہم کی ہے ،خوشی اس بات کی ہے کہ اس منصوبے پر کام شروع ہوچکاہے ،انہوں نے کہاکہ کچھ عرصے قبل امن وامان کے حوالے سے بلوچستان کی صورتحال بہتر نہ تھی لیکن حکومت پاکستان کے فیصلے کے تحت نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والی کارروائیوں کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئی ہیں کاروباری سرگرمیاں زور پکڑرہی ہے اور عوام کے اعتماد میں اضافہ ہورہاہے اس سلسلے میں امن وامان قائم کرنیوالے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کے دوران عوام کو پریشانی سے بچانے کیلئے ضروری اہتمام کرے ،قائداعظم کے یوم ولادت پر بلوچستانیوں کو مبارکباد پیش کرتاہوں اور یہ تاکید کرتاہوں کہ قائداعظم کی طرح محنت سے تعلیم حاصل کرکے اپنا اپنے بزرگوں اور وطن عزیز کا نام روشن کیجئے ،ایسی صلاحیتیں حاصل کرے تاکہ لوگ رہنمائی کیلئے آپ کی طرف دیکھیں اس تقریب میں تحریک پاکستان کے قائدین اور بابائے قوم کے رفقائے کار اور ان کی اہل خانہ موجود ہیں۔

یہ لوگ ہمارے محسنین ہے اوران کااحترام ہم سب پر لازم ہے ،یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس کرتاہوں کہ پوری قوم ان کے احترام میں کمی نہیں آنے دیگی ،تحریک پاکستان میں بلوچستان کے کردار کے بارے میں یہی معلومات تھی جن کے پیش نظر میں نے ہدایت کی کہ قائداعظم کے یوم ولادت کے سلسلے میں ایک پروگرام کوئٹہ میں ضرور رکھاجائے ،آپ لوگوں اور بچوں سے ملاقات سے میری روح سرشار ہوگئی ہے اوراس ملاقات کی یادیں میرے دل ودماغ کومعطر رکھیں گی ۔قائداعظم سے بلوچستان کے لوگوں کی عقیدت سے متعلق انہوں نے متعدد واقعات کا ذکر بھی کیا۔انہوں نے طلباء وطالبات پر زوردیاکہ وہ قائداعظم محمدعلی جناح کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دن رات محنت کریں ۔