بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٖٓپاکستان کا بڑا مسئلہ انتہا پسند نہیں معتدل مزاج طبقے ہیں

ٖٓپاکستان کا بڑا مسئلہ انتہا پسند نہیں معتدل مزاج طبقے ہیں

انتہا پسندی،زبان سے نفرت اور فرقہ واریت جیسے امراض جن سے ہم بخوبی واقف ہیں پاکستانی معاشرے میں اعتدال پسندی کا نتیجہ ہیں۔پاکستان جس گندگی کا شکار ہے وہ کسی مولوی ،عالم یا کسی مذہبی رہنما کی پھیلائی ہوئی نہیں ہے ۔سیاست اور طاقت کبھی مولوی کے تحت نہیں رہی۔لاؤڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہوئے وہ شور شرابے اور پریشانی کا ذمہ دار ضرور رہا ہے اور اب بھی ہے لیکن قومی پالیسیوں کے پیچھے کبھی اس کا ہاتھ نہیں رہا۔یہ استحقاق اور اجارہ داری مولوی یا تبلیغی جماعتوں کی نہیں بلکہ انگریزی بولنے والوں کی ہے جو کہ پاکستان کے اصل حکمران ہیں۔آج پاکستان کی باگ دوڑ کس کے ہاتھ میں ہے ؟ فوج ،سول سروس ،سیاسی طبقے ،کاروباری سیٹھ اور امیر و کبیر طبقے کے ہاتھ میں،اس صف میں جہادی کہاں کھڑے ہیں؟

کاکول اور کوئٹہ سٹاف کالج کی ٹرینڈ آرمی کمانڈ نے ہمیں جہادی اسلام کے ثمرات دئیے ہیں۔انہوں نے ہی قوم کو افغان جنگ میں داخل کیا ۔آج بھی آپ کا واسطہ ایسے جنرلز اور ذہین ڈپلومیٹس سے پڑ سکتا ہے جو قسم کھائیں گے کہ پاکستان کا مذہبی تبلیغ میں کردار جو کہ امریکی ڈالرز اور سعودی ریالز کی بدولت قائم رہا ،اشد ضروری تھا کیونکہ افغانستان کے بعد پاکستان کی باری ہے اور یہ کہ سویت بحیرہ عرب کے گرم پانیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ان بے معنی خیالات کا اظہار کرنے والے پاکستان کے مسائل سے غافل اور افغانستان کی آزادی کے بارے زیادہ جانتے ہیں۔مولوی اور مدرسے کا طالب علم اس صورت حال میں پیدل سپاہیوں کی مانند تھے۔انہوں نے بڑے مقاصد یا پالیسیوں کو ترتیب نہیں دیا۔بندوقیں ،رقم اور میزائل کہیں اور سے آتے تھے۔یہ مجاہدین صرف اس عقیدے کی پیروی کرتے تھے کہ وہ شہید ہو کر جنت میں جائیں گے۔

نامور علما اکرام قرارداد مقاصد کی حمایت میں ضرور بات کرتے ہیں لیکن اس کے لکھاری وہ نہیں ہیں۔یہ کارنامہ لیاقت علی خان کی قیادت میں قومی اسمبلی کے ممبرز کا تھا جنہوں نے پورازور لگا کر اس کی مداح سرائی کی تھی اور اسمبلی کی ہندو اقلیت کے احتجاج کی جانب ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر تھی۔یہ سب اس کے بر عکس تھا جس کا وعدہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11ستمبر کے روز اپنی تقریر میں کیا تھا۔غیر متوقع طور پر سب سے زیادہ ٖفصیح اور قابل تقریر اس دن سر ظفر اﷲ خان کی تھی جو عقیدے کے لحاظ سے احمدی تھے۔کیا اس کو بنیاد بنا کر قرار داد کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔مولوی یا مذہبی مبلغ ہمیں سیٹو یا سینٹو معاہدے کی طرف نہیں لے کر گئے،یہ امریکہ کے دفاعی معاہدے تھے جس کے اشتیاق میں پاکستان اس کا ممبر بن گیا۔بھارت کا خوف بھی اس کی اہم وجہ تھا اور اس کے بارے میں واضح ہو نے کی ضرورت ہے کہ ریاست کا قیام مذہبی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کیا ۔یہ کام سب سے زیادہ تعلیم یافتہ،مہذب ،روشن دماغ اور ذہین طبقے کا تھا جنہوں نے بھارت سے ہجرت کی۔بھارت کے خلاف ان کی بھڑکتے ارادے تھے جنہوں نے اپنے گھر بار اور یادیں وہاں چھوڑ دیں۔یہ درست ہے کہ وہ اپنے خواب یعنی پاکستان پر یقین رکھتے تھے لیکن ہم آخر فرشتوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی بات کر رہے ہیں‘ یہ سوچنا مشکل نہیں کہ ان کی سینوں میں بھی امیدگھات لگائے ہو گی کہ وہ نئی ریاست میں اپنے لیے بہتر کر سکیں گے۔لیکن ہجرت اور تقسیم کے دوران جائداد کی لوٹ مار نے ان کی امید پر پانی پھیردیا۔متروکہ جائیداد پر قبضہ کی دوڑ شروع ہوگئی۔ بہت سے لوگ جو بھارت میں مفلس تھے، اس نوزائیدہ مملکت میں جائیداد وں کے مالک بن گئے ۔

بھارت کے ساتھ ہزار سال تک جنگ لڑنے کا نعرہ کسی مولوی نے نہیں لگایا تھا،بلکہ اکسفورڈاور برکلے جیسے اداروں کے تعلیم یافتہ ذوالفقار علی بھٹو نے ۔ وہ بہت جلد پاکستانی سیاست کے آسمان کا ستارہ بن گئے ۔ درحقیقت یہ ستم ظریفی بھی پاکستان کی قسمت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے کہ یہاں غیر ملکی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی اپنی جہالت اور تعصب پر قابو نہیں پاسکتے ۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں۔ مولوی اور مدرسوں کے طلبہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ پاکستان کے بہترین دماغ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس گئے اور اور کشکول بھر لائے ، شاید کبھی نہ توڑنے کے لیے ۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کو غیر ملکی مہم جوئی کا شوق ستانے لگا۔ فوجی آمر ، جو ملک میں ہلکی سی مخالفت بھی برداشت نہ کرتے تھے، بیرونی طاقتوں کے سامنے فرماں برداری کی تاریخ رقم کرنے لگے ۔ پاکستان میں انتہا پسندی پھیلانے کا داغ ان کے دامن پر ہی دکھائی دیتا ہے جو متعدل مزاج کہلاتے ہیں۔

معتدل مزاجی کیا ہے ؟یہ سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے سے گریز کا نام ہے ۔ اس کا مطلب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا، ہوا کے رخ کے ساتھ چلنا، گویا، سٹیٹس کو کی نازبرداری کرنا،اور اس سے حاصل مفاد کو سمیٹنا۔ پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے اس قدر کیوں نظر انداز کیے گئے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشرافیہ اعتدال اور لبرل ازم کی چمپئن تھی، اور اسے ان مسائل کی پروا نہ تھی ۔ اُن کے اپنے سکول ، کالج اور ہسپتال تھے ۔ حکمران اور اشرافیہ طبقہ کو ہلکا سا سردرد ہوا نہیں اور وہ لندن سدھارے نہیں۔ پی آئی اے، کراچی سٹیل ملز، ریلوے کس نے تباہ کیے ؟ ان کی تباہی میں کسی مدرسے کے طلبہ کا ہاتھ نہیں تھا۔ علما ء پر کہانیاں اور لطیفے بنتے رہے ، اُن کے طرز عمل نے لبوں پر مسکراہٹ بکھیری، لیکن وہ لوٹ مارکرنے والے نہیں تھے ۔ لندن سے لے کر پاناما تک بدعنوانی کے جھنڈے گاڑنے والوں کا تعلق معتدل مزاج گروہ سے ہے ۔
یہ بات درست ہے کہ انتہا پسندی یا کلاشنکوف کا اسلام جماعتِ اسلامی کے ڈنڈا بردار دستوں کی ترقی یافتہ شکل ہے ، لیکن وہ لوگ بھی پاکستان کے حکمران طبقوں کی ناکامیوں کی پیداوار تھے ۔ پاکستان کو معاشرے اور ریاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ یہ جمہوریت کے نام پر ڈاکو راج کے ساتھ کب تک نباہ کرسکتا ہے ؟ایک متعدل نہیں، طاقتور لیڈر کی ضرورت ہے ، ایسا لیڈر جو کم از کم منافقت سے کنارہ کشی کی جرات رکھتا ہو۔