بریکنگ نیوز
Home / کالم / انہونی باتیں

انہونی باتیں

جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا منصب سنبھالتے ہی غالباً یہ طے کر لیا تھا کہ انہوں نے اپنی تین سالہ ملازمت سے اوپر ایک دن بھی اپنے عہدے پر قائم نہیں رہنا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان تین برسوں میں ہر روز 16 گھنٹے کام کیا نہ ہفتے کے دن چھٹی کی اور نہ اتوار کے روز ۔ حتیٰ کہ عیدین کی چھٹیاں بھی اپنے گھر میں گزارنے کے بجائے اپنے فوجیوں کے ساتھ محاذ میں مورچوں کے اندر بیٹھ کر گزاریں ۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ جان کر کہ بطور آرمی چیف انہوں نے 980 گھنٹے ہیلی کاپٹر میں گزارے ۔ جو لوگ ہیلی کاپٹر کے سفر کے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر کا سفر کس قدر تھکا دینے والا بے آرام قسم کا سفر ہوتا ہے اس جملہ معترضہ کے بعد ذرا ذکر ہو جائے ان انہونی قسم کی باتوں کا کہ جو ہم روزانہ ملک کے سیاسی تھیٹر میں دیکھ رہے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں یا پروٹوکول افسر ۔ 25 دسمبر 2016ء یعنی قائد اعظم کی برسی کے دن چند ہی گھنٹوں کے دوران وہ تین مرتبہ قائد کے مزار پر گئے پہلی مرتبہ تو بحیثیت وزیر اعلیٰ پھول چڑھائے دوسری مرتبہ بلاول بھٹو کے ہمراہ گئے اور تیسری مرتبہ زرداری صاحب کے ہمراہ ۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا آئے دن کرپشن کی خبریں خوب مرچ مصالحے لگا کر پیش کرتا ہے جن میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں جگہوں سے پولیس یا رینجرز نے فلاں فلاں کے گھر سے فلاں فلاں قسم کا اسلحہ و بارود برآمد کیا ہے فلاں فلاں پروفیسر کو پی ایچ ڈی کی تھیسس (Thesis) لکھنے میں چربہ سازی کے الزام میں دھر لیا گیا ہے فلاں فلاں بیوروکریٹ یا سیاستدان نے فلاں فلاں غیر ملک میں محل یا جزیرہ خریدا ہے وغیرہ وغیرہ پر اس کے بعد کوئی فالو اپ نہیں کرتا قوم کو بالکل پتا نہیں چلتا کہ اس قسم کے چوروں اور ڈاکوؤں کا پھر انجام کیا ہوا۔

ان میں سے کن کن کو جیل ہوئی ان کی حرام سے بنائی ہوئی پراپرٹی بحق سرکار ضبط ہوئی اور ان میں کتنوں کو الٹا لٹکایا گیا ۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ان جرائم میں ملوث لوگ موٹی موٹی فیس لینے والے تگڑے تگڑے وکلاء خدمات حاصل کر لیتے ہیں جو اپنے موکلوں کی فرضی بیماری کا بہانہ بنا کر یا کسی اور قانونی موشگافی کا سہارا لیکر عدالتوں سے لمبی لمبی تاریخیں لے لیتے ہیں سالہا سال گزر جاتے ہیں اور اس دوران اگر ان کے موکلوں کے خلاف کوئی دستاویزی ثبوت موجود ہو تو اسے تلف کرا لیا جاتا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔ انجام کار فارسی کے اس محاورے والی بات بن جاتی ہے کہ ’’ آں دفتر را گاؤ خورد گاؤ را قصاب برد و قصاب در راہ مرد ‘‘ با الفاظ دیگر مثلیں تو بیل کھا گیا اور بیل کو قصاب لے گیا اور قصاب راستے میں فوت ہوگیا یہ محاورہ وہاں بولتے ہیں کہ جہاں کسی مطلوبہ شے کا نام ونشان ہی مٹا دیا گیا ہو یہ بات ہر ایک شخص اپنے پلے باندھ لے کہ موجودہ نظام حکومت میں کبھی بھی ان لوگوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکے گا کہ جو قومی خزانہ لوٹتے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے تمام ریاستی اداروں میں اپنے پنجے اس قدر گہرے گاڑے ہوئے ہیں کہ الیکشن بھی یہی جیتیں گے عدالتوں میں فیصلے بھی ان ہی کے حق میں آئیں گے ۔ جس پھرتی سے ہمارا امن عامہ سے متعلق مبینہ جرائم پیشہ لوگوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں ان کو گرفتار کرتے ہیں کاش یہ پراسیکیوشن کا محکمہ بھی اتنی ہی پھرتی اور دلجمعی سے کام کرتا ۔

90 فیصد مقدمے عدالتوں میں محض اس لئے فیل ہو جاتے ہیں کہ یا تو اوپر سے پراسیکیوشن کو اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ذرا ہولا رکھے کہ ان مقدموں کو حکمرانوں نے حزب اختلاف کے ساتھ کسی سیاسی ڈیل کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے اور یا پھر پراسیکیوشن والوں کی مٹھی اتنی گرم کی جاتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر مقدمے کی مثلوں اور شہادت میں اتنے سقم دانستہ طور پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جن کا فائدہ پھر وکیل صفائی ملزموں کے دفاع میں اٹھا لیتا ہے عدالتیں اس صورتحال میں کیا کریں ان کو خواہ مخواہ ملزموں کو شک کا فائدہ پہنچا کر بری کرنا پڑتا ہے اگر ان کے خلاف مقدموں میں رتی بھر بھی کوئی کمزوری پائی جائے ہم بات کر رہے ہیں اس ملک میں ہونے والی انہونی باتوں کی۔ فارسی زبان کا ایک محاورہ ہے ’’ سوال از آسمان جواب از ریسماں ‘‘ یعنی سوال کچھ اور جواب کچھ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سے کسی نے پوچھا آپ نے سندھ کا آئی جی کیوں تبدیل کیا؟ جواب ملا ملک میں وزیر خارجہ موجود نہیں آپ اس کے بارے میں وزیر اعظم سے نہیں پوچھتے پر سندھ کے آئی جی کی تبدیلی آپ کو نظر آتی ہے؟ زرداری صاحب کی واپسی پر کراچی کے ایئر پورٹ پر جیالوں کو ناچتے گاتے دیکھ کر ایک منچلے نے کیا خوب کہا کہ بھئی یہ ناچنا کودنا اور یہ استقبال کیوں؟ کیا موصوف کوئی تیر مار کر واپس آ رہے ہیں؟ جب تک سادہ لوح عوام بغیر کسی وجہ کے ناچتے رہیں گے غربت افلاس ‘ بیماری اور محتاجی ان کے گھروں کے آنگن میں ناچتی رہے گی۔