بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف علی زرداری کی واپسی

آصف علی زرداری کی واپسی


سابق صدر مملکت اورپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعدوہ تمام افواہیں دم توڑ چکی ہیں جن میں آصف زرداری کی واپسی کے متعلق طرح طرح کی چی میگوئیاں کی جارہی تھیں۔ زرداری صاحب کی واپسی پرہمارے ہاں جوشرطیں لگائی گئیں اور جواریوں نے اس ایشوکو اپنا دھندہ چمکانے کے لئے جس طرح استعمال کیا اس سے نہ صرف ہماری ملی سوچ کااندازہ لگایاجاسکتاہے بلکہ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم کن خطوط پرچل رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں تو ایک طرف ہمارے ارد گرد موجود ترقی پذیر معاشروں میں بھی ایساشاید کم ہی ہوتاہے کہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کی اپنے ملک سے باہر جانے یاملک واپسی پراس طرح کاشورمچایا جاتاہے۔ آصف زرداری تقریباً ڈیڑھ سال پہلے خود اپنی مرضی سے بیرون ملک گئے تھے لیکن جتنا شور اس وقت ا نکے بیرون ملک جانے کے وقت مچایاگیاتھا کہ وہ باہر نہیں جاسکیں گے انہیں باہر نہیں جانے دیاجائے گا، یہ سب کچھ یاتوآصف علی زرداری کو ہیرو بناکر پیش کرنے کیلئے کیاگیا اوریاپھر شاید یہ ہماری سیاست اور ہمارے رویوں کی عکاسی تھی جس کے ذریعے ہم ملک کے ایک سابق صدر اور ایک بڑی پارٹی کے سربراہ کونہ جانے کیا کیا بنا کر پیش کر رہے تھے۔

بحیثیت قوم ہم نے یہ رویہ صرف آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے یان کی واپسی پر نہیں اپنایا بلکہ ہمارے ہاں اس سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف اورجنرل پرویز مشرف کے متعلق بھی یہی گفتگو ہوتی رہی ہے۔حالانکہ ساری دنیا میں مختلف ممالک کے راہنماؤں اورحکمرانوں کابیرون ملک آنا جانا لگارہتاہے اورا س آمد ورفت کوقومی بحث کاموضوع بنانے کے بجائے ملک وقوم کے حقیقی مسائل اور ایشوز پر فوکس کیاجاتاہے۔سوشل میڈیا پر آصف زرداری کی واپسی اور پیپلزپارٹی اورہماری میڈیا کی جانب سے اس واپسی پر غیر ضروری شوروغوغا مچانے پر طرح طرح کے پوسٹ دیکھنے کومل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی والے آصف علی زرداری کی واپسی کو نیلسن منڈیلا، امام خمینی اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی سے تشبیہہ دے رہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین زرداری صاحب کی واپسی کو مشکوک اورمنفی اندا زمیں دیکھنے کے علاوہ ا نکی واپسی کو ایک نئی این آر او بھی قرار دے رہے ہیں۔ ایسے وہ کون سے غیر معمولی حالات ہیں جب آصف علی زرداری کو ایک ایسی سول منتخب جمہوری حکومت کی موجودگی میں وطن واپسی کیلئے این آر او کاسہارالینا پڑا ہے جس کے ساتھ پیپلزپارٹی پہلے ہی چارٹر آف ڈیموکریسی کی صور ت میں باہمی سیاسی رواداری کامعاہدہ کرچکی ہے۔ہم ان ہی کالموں میں پہلے بھی یہ معروضات پیش کرچکے ہیں کہ پاکستان کی بقاء اور اسکامستقبل بلا شک وشبہ پرامن جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔ اس ضمن میں ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ ا س اہم قومی نکتے پرمزید اتفاق رائے پیدا کرنے اور ا س خواہش پراس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیلئے ایک ایسے نئے چارٹرآف ڈیموکریسی پر اتفاق رائے کی یقیناًضرورت ہے جس پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کیساتھ ساتھ فوج، عدلیہ اور میڈیا کو بھی بطور ایک اہم سٹیک ہولڈر اعتماد میں لیاجانا ضروری ہوگا۔

گوکہ اس مجوزہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی ایک واضح اورعمدہ شکل آئین پاکستان کی صورت میں موجود ہے لیکن چونکہ آئین ہمیں بہت سارے معاملات میں محض راہنمائی فراہم کرتاہے اورا سمیں بعض باتوں کی زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہوتی ہے اسلئے تمام فریقین اگر ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی پرآمادہ ہوجائیں اورا س چارٹر کی توثیق پارلیمنٹ سے لی جائے توا س سے ہم نہ صرف ایک نئے جمہوری دور میں داخل ہوسکیں گے بلکہ پھر ہمارے ہاں کسی پارٹی کے راہنما یا حکمران کے ملک سے جانے اور آنے کو بریکنگ نیوز بھی نہیں بنایاجائے گا۔ جہاں تک آصف علی زرداری کی وطن واپسی کاتعلق ہے انہیں یہ فیصلہ بہت پہلے کرلینا چاہئے تھا کیونکہ وہ نہ صرف ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں بلکہ وہ پانچ سال تک ملک کے منتخب صدر رہنے کے علاوہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے اختیارات خود ہی پارلیمنٹ اوروفاقی اکائیوں کو واپس کرکے ایک ناقابل یقین کارنامہ بھی انجام دے چکے ہیں۔البتہ جن لوگوں کو آصف علی زرداری کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے تحفظات ہیں تواس ضمن میں انہیں محض الزامات پر اکتفا کرنے کی بجائے موجودہ آزاد عدلیہ کے مسل آزمانے چاہئیں جو یقیناًانہیں مایوس نہیں کرے گی۔