بریکنگ نیوز
Home / کالم / ذمہ دارانہ طرز عمل!

ذمہ دارانہ طرز عمل!

شوق بیان بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفاع اور پانی و بجلی کے وزیر خواجہ محمد آصف نے ایک فرضی بیان پر جس ردعمل کا مظاہرہ کیا‘ وہ پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنا ہے چنانچہ آج دنیا بھر کی قیادتوں اور ذرائع ابلاغ کی اُنگلی اس حوالے سے پاکستان کی جانب اٹھ رہی ہے کہ اگر اس کے ذمہ دار ترین عہدے پر فائز وزیر بھی محض سنی سنائی باتوں پر تکیہ کرکے ایٹمی جنگ کے حوالے سے ’بے پر کی‘ اڑا کر عالمی امن کے لئے خطرات پیدا کررہے ہیں تو پھر پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ عالمی امن کے لئے کسی خطرے کا باعث نہیں بنے گی؟ اس سے زیادہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ گزشتہ روز جھوٹ کی فیکٹری کے نام سے معروف ایک ویب سائٹ ’اے ڈبلیو ڈی‘ نے یہ بیان منسوب کرکے چلا دیا کہ پاکستان نے شام میں داعش کے خلاف یا کسی دوسرے مقصد کے لئے اپنی فوج بھیجی تو اسرائیل اس پر حملہ کر دے گا‘ جس پر خواجہ آصف نے اس بیان کے حوالے سے بلاتحقیق اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ جوابی بیان داغ دیا اُن کی اس غیرذمہ دارانہ حرکت پر جہاں دنیا بھر کا میڈیا وزیر موصوف کی غیرذمہ داری کو پاکستان کی غیرذمہ داری سے تعبیر کررہا ہے وہیں پاکستان کے جوہری پروگرام کے درپے بیرونی قوتوں کو بھی یہ پراپیگنڈا کرنے کا پھر سے موقع مل گیا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی غیرمحفوظ ہونے کے ناطے عالمی امن کے لئے خطرات پیدا کررہی ہے۔ ملک کی ایک انتہائی حساس وزارت کے وزیر موصوف کی غیرذمہ داری پر مبنی اس حرکت کا وزیراعظم کی سطح پر نوٹس تک نہیں لیا گیا حالانکہ اس غیرذمہ داری پر جس کے نتیجہ میں پاکستان کا امن و سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے‘ وزیر موصوف کو کھڑے پاؤں ان کی وزارت سے سبکدوش کرکے گھر بھجوا دیا جانا چاہئے تھا۔

وزیر موصوف کو اوّل تو ایک انتہائی حساس معاملہ پر سوشل میڈیا پر چلنے والی کسی خبر کی ٹھوس تحقیقات کرانی چاہئے تھیں کہ جس کے نام سے یہ بیان منسوب ہے آیا اس نے خود یہ بیان جاری کیا ہے اور اس کی تصدیق ہونے کی صورت میں بھی انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کوئی بڑھک نہیں مارنی چاہئے تھی کیونکہ ہماری یہ ٹیکنالوجی ان کی وزارت کے ماتحت ہی کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے۔ ان کی ذمہ داری تو یہ بنتی تھی کہ وہ شام کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کے خلاف کسی اور کی غیرذمہ داری پر اسے اور دنیا کو اپنے اس اَصولی موقف سے آگاہ کرتے کہ فریقین باہمی مذاکرات سے شام کے بحران کا تصفیہ تلاش کریں۔ پاکستان کا یہی مؤقف یمن کی جنگ کے حوالے سے بھی ہے تو وہ شام کی جنگ کے معاملہ میں کیسے ایک فریق بن کر وہاں اپنی افواج بھجوا سکتا ہے اس لئے اگر کسی ویب سائٹ نے اس معاملہ میں ایک فرضی بیان جاری کیا اور تہلکہ مچایا ہے تو یہ پاکستان کی بدخواہوں کی ایک شرارت ہی ہو سکتی ہے اس لئے شرارت کا جواب شرارت کی صورت میں دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟۔

خواجہ آصف کی عادتاً اختیار کی گئی اس غیرذمہ داری نے اب ان سے ایسی غیرذمہ دارانہ حرکت بھی سرزد کراڈالی ہے جس سے پاکستان کا جوہری پروگرام پھر اِن نگاہوں میں آگیا ہے جو ماضی میں اسے ’’کیپ‘‘ کرنے اور کسی سازش کے تحت پاکستان سے جوہری ٹیکنالوجی چھین لینے کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں اور ہمارا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کرکے اس کے دشمن بھارت نے اسے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول پر مجبور کیا تھا جبکہ آج پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا ہی اس کے تحفظ و بقاء کی ضمانت ہے اور اسی تناظر میں ہم دنیا کو بھی پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر قائل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اس تمام تناظر میں دیکھاجائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سیاسی بیان بازی اور چیز ہے جبکہ حساس پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر بات کرنا اور چیز ہے، اس لئے اس ضمن میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ حساس اور کشیدہ حالات کی وجہ سے پہلے ہی قومی سلامتی خطرات سے دوچار ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)