بریکنگ نیوز
Home / کالم / نجکاری

نجکاری


فارسی کا ایک محاورہ ہے کہ’’ہر کہ آمد عمارت نو ساخت‘‘۔ اور ہم ہندکو میں کہتے ہیں کہ جب بہو کو گھر کا اختیار ملتا ہے تو وہ سب سے پہلے ساس کا بنایا ہوا چولہا توڑ کر نیا بناتی ہے۔چونکہ بہو کا اور ساس کا جھگڑ دراصل چولہے کی کمانڈ سے ہی شروع ہو تا ہے اس لئے جب بہو کو کمانڈ ملتی ہے تو سب سے پہلے وہ اُس شے میں تبدیلی لاتی ہے جس پر جھگڑا تھا۔ اورساس بے چاری چونکہ اپنی حا کمیت سے دستبرداری کا اعلان کر چکی ہوتی ہے اس لئے وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی لہٰذہ وہ صبر شکر کے ساتھ وہی کچھ کھانا پسند کرتی ہے جو اُس کی بہو کو پسند ہے۔عموماً ساسیں کہتی ہوئی سنی گئی ہیں کہ ہم تو اپنی عمر گزار چکے ہیں اب جو ہمارے بچے چاہیں کریں ہم اُن کے کاموں میں دخل نہیں دیتے اور یوں گھر میں امن کی فضا قائم رہتی ہے ۔مگر جہاں ساس اپنے چولہے کی حاکمیت کو قائم رکھنے پر بضد ہوتی ہے وہاں برتن سے برتن ٹکراتا ہی رہتاہے اور گلی میں سے گزرنے والے لوگ ساس بہو کی خوش گپیوں سے محظوظ ہوتے ہی رہتے ہیں۔ یہی حال حکومتوں کا بھی ہوتا ہے کہ جہاں ایک حکومت آنے والی حکومت کے لئے اپنا سینہ فراخ رکھتی ہے وہاں تو تو تومیں میں کی تکرار نہیں ہوتی اور ملک ترقی کی طرف پرواز جاری رکھتے ہیں۔اور پالیسیاں جاری و ساری رہتی ہیں۔ہمارے ہاں سب سے بڑا ظلم یہ ہوتا ہے کہ ایک حکومت اگر ایک ترقیاتی کام شروع کرتی ہے اور وہ اُس کی حکومتی پیریڈ کے دوران ختم نہیں ہوتا تو آنے والی حکومت اس کے منصوبے میں دس نقص نکال کر اُسے چلتا کر دیتی ہے محض اس لئے کہ اُس کام پر جانے والی حکومت کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے۔

مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس منصوبے پر ملک کی کتنی دولت خرچ ہو چکی ہے ۔ اور اس منصوبے کے لئے جانے والی حکومت نے کتنا قرض مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں سے لے رکھا ہے۔ اگر یہ منصوبہ ادھورا رہ جائے گا تو ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ آج جو ہم ملک پر قرضوں کے بوجھ کی بات کرتے ہیں تو اس میں اسی پالیسی کا عمل دخل ہے۔ایوب خان کے دور میں بہت سے منصوبے شروع کئے گئے جن میں کچھ بہت ہی اہمیت کے حامل تھے اور اُن میں سے بیشتر اُن کے دور حکومت میں مکمل ہو چکے تھے مثلاً تربیلا ڈیم وغیرہ جن کا فائدہ قوم آج تک اٹھا رہی ہے۔ اسی طرح بہت سے سمال ڈیم بنائے گئے اور بہت سی نہریں اس دور میں نکالی گئیں اور یوں ہماری زراعت کو ترقی ملی اور جو قوم کچھ سال پہلے تک امریکی گندم پر انحصار کر رہی تھی گندم میں خود کفیل ہو گئی اور چاول کی پیداوار تو برآمد کرنے کے بھی قابل ہو گئی۔ اسی طرح صنعتی میدان میں بھی بہت زیادہ ترقی ہوئی ۔ مگر ایوب خان کا دور ختم ہوتے ہی ترقی معکوس شروع ہو گئی۔ جومنصوبے زیر تعمیر تھے اُن کو اُسی جگہ بند کر دیا گیا جب کہ ان منصوبوں پر ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض لیا گیا تھا۔

وہ قرض تو قائم رہا مگر وہ منصوبے جن کی تکمیل کے بعد اُن کی آمدنی سے وہ قرض ختم ہونے تھے نامکمل رہے جس کا نقصان یہ ہوا کہ قرض کا پہاڑ تو کھڑا ہو گیا مگر اس کے ختم کرنے کے اسباب بھی ختم ہو گئے۔ اسی طرح جو منصوبے بھٹو حکومت میں جاری ہوئے اور تکمیل کے مراحل میں تھے وہ ضیاء حکومت نے ختم کر دیئے اور قرض سر پر چڑھا لیا مگر قرض ختم کرنے والے اسباب کو آگ لگا دی ۔ اس کے ہاں صرف ایک منصوبہ ایسا تھا کہ اُس کو لپیٹا نہ جا سکا اور وہ تھا ایٹمی ترقی کا منصوبہ۔ وہ چونکہ فوج کی ضرورت تھی اس لئے اُسے کسی بھی طور بند کرنے کا سوچا بھی نہ جا سکا اور جسے میاں نواز شریف کی حکومت نے ساری دنیا ہر ظاہر کر کے پاکستان کو ایک ناقابلِ شکست ملک بنا دیا ۔ بھٹو کے دور میں نیشنلائزیشن کی پالیسی اپنائی گئی جس کے کافی نقصانات ہوئے۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسے پلٹنے کی پالیسی اختیار کی یعنی قومیائے گئے اداروں کو نجی تحویل میں دینے کی پالیسی۔اس میں کافی رکاوٹیں بھی دیکھنے میں آئیں مگر عوامی فلاح کے منصوبوں کو بہر حال نہیں چھیڑا گیا۔

جس میں تعلیم اور صحت سر فہرست ہے۔مگر ہماری صوبائی حکومت نے ایک ایسا اقدام اٹھایا ہے جس کی کسی بھی طور تعریف نہیں کی جا سکتی۔اس میں ہزارے کے لوگوں کے لئے ایک ہی بڑے ہسپتال ( ایوب میڈکل کمپلیکس) کی نجکاری کر دی گئی ہے اور شنید ہے کہ جہاں ہمارے غریب عوام ( جن کی ہزارہ میں اکثریت ہے) دس روپے کی پرچی لے کر سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے علاج کروا لیتے تھے وہاں اب مبینہ طور پر مریضوں کو تین سو روپے دے کر ڈاکٹر سے مشورہ لینا ہو گا اور جہاں غریب مریضوں کو مفت ادویات میسر تھیں ان کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں پیسے والے لوگ ڈاکڑوں کے پاس بعد میں پرایؤیٹ علاج کے لئے بھی جاتے ہیں مگر غریب نہیں۔ غریبوں سے یہ سہولت چھیننے کی ہم مذمت کرتے ہیں اور حکومت کے پی کے سے گزارش ہے کہ ہزارے وال ابھی اتنے امیر نہیں ہوئے کہ اُن سے مفت طبی سہولتوں کا حق چھین لیا جائے۔