بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آرمی چیف کا خطاب

آرمی چیف کا خطاب

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وطن عزیز میں معاشی استحکام اور ترقی کیلئے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی بروقت تکمیل کیلئے ہر قیمت چکانے کا عزم کررہے ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کوئٹہ میں سدرن کمانڈ افسروں سے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی، جغرافیائی اور معاشی صورتحال بدل رہی ہے اور اس تبدیل ہوتی صورتحال کے باعث ہمارے خطے پر دنیا کی نظر لگی ہوئی ہے، آرمی چیف ضرب عضب کے ثمرات کو برقرار رکھنے کو بڑا چیلنج قرار دینے کے ساتھ کلیئر کرتے ہیں کہ پاک فوج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، آرمی چیف کے خطاب میں سی پیک کو ترجیحات میں اہمیت دینا ہر لحاظ سے قابل اطمینان ہے، اس وقت ملک کی معیشت کنکریٹ اقدامات کی متقاضی ہے، جس میں سی پیک انتہائی اہمیت کا حامل اور گیم چینجر منصوبہ ہے، اس منصوبے کی بروقت تکمیل میں کردار ادا کرنے والے ادارے وطن عزیز کی تاریخ کا سنہری باب ہی رقم کریں گے۔

46ارب ڈالر کا تاریخی منصوبہ پورے خطے میں صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کے ساتھ آبادی کے ایک بڑے حصے کی مالی حیثیت میں بہتری لائے گا، خصوصاً خیبرپختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں اگر اس پراجیکٹ کے ذریعے معاشی سرگرمیاں بڑھتی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں تو اس سے امن وامان کی سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے لوگوں کو ریلیف ملے گی، اس پراجیکٹ سے متعلق پاک فوج کا عزم قابل تعریف ہے، ضرورت مرکز اور صوبوں کی جانب سے ہوم ورک کی ہے تاکہ منصوبے کے ثمرات زیادہ سے زیادہ سمیٹے جائیں، ضرورت سیاسی سطح پر اس پراجیکٹ سے متعلق خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کے تحفظات اور خدشات دور کرنے کی بھی ہے تاکہ پوری مشینری اس پراجیکٹ اور اس سے جڑے کاموں میں تندہی کے ساتھ شریک ہوسکے اور ہماری کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی معیشت مستحکم ہو جس کی اس وقت انتہائی ضرورت ہے۔

فون اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل

وطن عزیز میں گزشتہ روز آپٹک فائبر سسٹم میں خرابی پر فون اور انٹرنیٹ سروس کے تعطیل نے کاروبار حیات کو بری طرح متاثر کیا، پی ٹی سی ایل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سسٹم میں خرابی کی وجہ ترقیاتی کاموں کے دوران مختلف مقامات پر فائبر آپٹک کیبل کا کٹ جانا تھی اس کی وجوہات توتحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گی تاہم متعلقہ اداروں کو یہ بات ضرور مدنظر رکھنا ہوگی کہ سروسز کی فراہمی میں اتنے بڑے تعطل کے بعد صرف معذرت پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے، بہتر خدمات کی فراہمی ہمیشہ فول پروف نظام سے جڑی ہوتی ہے، ہمارے ہاں اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان عام ہے، اسی فقدان میں کسی بھی ایک سڑک پر تعمیراتی کام کے دوران فون، آب رسانی اور گیس تک کی لائنیں کٹ جانا معمول کا حصہ ہے، تاہم کسی بڑے منصوبے میں فائبر آپٹک کی لائنوں کا کئی مقامات پر کٹ جانا معمولی بات نہیں، اس تعطل سے ٹکٹنگ کا پورا نظام بھی متاثر ہوا، جو اداروں کے نقصان کا باعث بنا، اسلئے ضرورت اس تعطل سے متعلق انکوائری کرنے ، ذمہ داروں کیخلاف کاروائی اور آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے اقدامات کی ہے۔