بریکنگ نیوز
Home / کالم / صارفین کے استحصال کی کھلی آزادی

صارفین کے استحصال کی کھلی آزادی

سرمایہ داروں‘ تاجروں اور صنعتکاروں کی موجودہ وفاقی حکومت نے اپنے طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے ضروری اشیاء اور سروسز پر کنٹرول کا مکینزم ختم کردیا ہے اور نجی مالکان کو غریب صارفین کا خون نچوڑنے کی کھلی آزادی دے دی ہے‘ اس مقصد کیلئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ ریگولیٹری اداروں کی آزاد و خودمختار حیثیت ختم کرکے ان اداروں کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کر دیاگیا ہے‘ اس اقدام سے حاصل اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل نے سی این جی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کردیا ہے اور سی این جی سٹیشن مالکان کی تجوریاں بھرنے کی غرض سے عوام کی جیبیں خالی کرنے کیلئے مالکان کو سی این جی کی من مانی قیمتیں مقرر کرنے اور اپنا منافع بڑھانے کا اختیار دے دیا ہے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ‘ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اورجماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے‘ متحدہ اپوزیشن نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ ریگولیٹری اداروں کو کن قواعد کے تحت وزارتوں کے ماتحت کیاگیا ہے اور اس ضمن میں صوبوں سے مشاورت کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟ اس فیصلے کے بعد سی این جی مالکان جب چاہیں اپنے منافع میں من چاہا اضافہ کر سکیں گے۔

یہاں اس امر کا تذکرہ بے محل نہیں ہوگا کہ ملک میں سی این جی سٹیشن مالکان کی بڑی تعداد وزراء اورپارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل ہے جنہوں نے چند روز قبل ہی قومی اسمبلی سے منظور کرائی گئی ایک قرارداد کے ذریعہ اپنی تنخواہوں اور الاؤنسز میں سوفیصد اضافہ کرلیا تھا‘ ان ارکان کو عوام کے مفاد یا عام آدمی کو ریلیف دینے سے کوئی دلچسپی نہیں‘ بلکہ وہ اپنی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں اپنے ذاتی وگروہی مفاد کو ترویج دینے کیلئے وقف کئے ہوئے ہیں‘ جیسا کہ انہوں نے حال ہی میں اپنی تنخواہوں اور الاؤنسوں میں سوفیصد اضافہ کرکے ظاہر کیاہے‘ اب سی این جی سٹیشن مالکان نے جن کی اکثریت ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ہے‘ سی این جی نرخوں کا ازخود تعین کرنے اور اپنے منافع میں اضافہ کرنے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیرہی اوگرا سے ریگولیٹری اختیار واپس لینے کیلئے ریگولیٹری اداروں کے آرڈیننس میں ترمیم کرالی ہے‘ دن بدن بڑھتی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام نے اس فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن نے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا اقدام مسترد کر دیا ہے‘ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کہتے ہیں کہ حکومت کے اس فیصلے سے کرپشن بڑھے گی۔

حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو وہ سپریم کورٹ سمیت تمام فورمز سے رجوع کرینگے‘پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی حکومتی فیصلہ مسترد کردیا ہے اور اسے خود مختار اداروں کی آزادی سلب کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے‘ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کے مذموم ارادوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے‘ جماعت اسلامی نے بھی حکومت کے اقدام کی مخالفت کی ہے‘ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا اور نیپرا سمیت پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کا انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن کے پاس تھا جو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت اب متعلقہ وزارتوں کو منتقل کیاگیا ہے جس کا مقصد ربط واشتراک میں سہولت پیدا کرنا ہے‘ تاہم انہوں نے کہاکہ ریگولیٹری کنٹرول وزارتوں کو حاصل نہیں ہوگا جو متعلقہ اداروں کے پاس ہی رہے گا‘ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے اداروں کے آرڈیننس میں ترمیم مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعہ صوبوں کی مشاورت سے کی جائیگی‘ وزارت پٹرولیم نے اس سلسلے میں اوگرا‘ ایف بی آر‘ سوئی ناردرن‘ سوئی سدرن کو جو نوٹیفیکیشن ارسال کیا ہے اس میں فیصلے کو قانونی تحفظ دینے کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈی ریگولیشن کو قانونی حیثیت دینے کیلئے اوگرا آرڈیننس میں ضروری ترمیم کی جائیگی‘ واضح رہے کہ پنجاب میں جس پر وفاق کی خاص نظرعنایت رہتی ہے۔

سی این جی کا شعبہ پہلے ہی ڈی ریگولیٹ کیا جاچکا تھا اور اب خیبرپختونخوا اور سندھ کے سی این جی سٹیشنز مالکان بھی اپنے نرخوں کے ازخود تعین کے ساتھ ساتھ منافع کی شرح کا خود تعین کرنے میں بھی آزاد ہونگے یوں سی این جی مالکان کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے اور لوٹ کھسوٹ کی کھلی آزادی ہوگی‘ سی این جی مالکان کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے ڈی ریگولیشن کے فیصلے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تباہی کے دہانے پر کھڑے اس سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی جو روزگار کی سہولتوں میں توسیع کا سبب بنے گی اور ملک میں تعمیر و ترقی کی رفتار تیز کرنے میں مدد ملے گی۔