بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو فعال کریں

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو فعال کریں

1947ء میں تقسیم ہندکے وقت فرنگیوں سے ہمیں کئی اچھے ریاستی ادارے ملے تھے ہم نے انہیں مزید بہتر کرنیکی بجائے انکا حلیہ بگاڑ دیا انکا چہرہ مسخ کردیا انہی اداروں میں ایک ادارہ سول سروسز کا بھی تھا، قائداعظم نے 1948ء میں سول سروسز کے سینئر افسران پر ایک میٹنگ کے دوران واضح کردیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ملکی قوانین کا غلام سمجھیں انہیں ریاست کا مفاد ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنا ہوگا نہ کہ حکومت وقت کا کہ جو آنی جانے شے ہوتی ہے، سول سروسز میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یعنی ڈپٹی کمشنر کو ضلعی سطح پر کلیدی حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی وہ ریونیو کلکٹر بھی کہلاتا تھا، ہم ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال کررہے ہیں کہ یہ سب کچھ جس کا ہم ذکر رہے ہیں 2002ء تک تھا جب قومی تعمیر نو بیورو یعنی این آر بی نے سب کچھ پلٹ ڈالا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی بنیاد ہی اکھاڑ ڈالی اسکو ضابطہ فوجداری کے تحت جو اختیارات حاصل تھے وہ اس سے چھین کر ڈسٹرکٹ ناظمین یا لائن ڈیپارٹمنٹس بشمول پولیس کے حوالے کردیئے، کئی لوگوں نے اس وقت این آر بی کے چیئرمین جنرل نقوی کو سمجھایا کہ خدارا یہ فاش غلطی نہ کی جائے ایک ادارہ جو سالہاسال کے تجربوں کی روشنی میں تشکیل ہوا ہے اسکی اس طرح بیخ کنی کرنے سے اجتناب کیاجائے کہ اس سے ضلعوں کا امن عامہ تاراج ہوجائیگا پولیس مادر پدر آزادہوجائیگی اسکو قانون کی حدود میں رکھنا ضلعی ناظمین کے بس کا روگ نہیں ہوگا ہاں اگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ادارے میں کوئی سقم ہے تو اس کامناسب اصلاحات سے ازالہ کیاجاسکتا ہے پر اسکو جڑ سے اکھاڑنے کی صورت بھی امن عامہ کے حق میں نہ ہوگا، پر’’میں نہ مانوں‘‘کی رٹ لگانے والے جنرل نقوی نے ایک نہ سنی۔

بعد میں جو کچھ بھی ہوا وہ سب پر آشکار ہے، ضلعی ناظمین سیاسی لوگ تھے وہ کب اپنے حلقہ انتخاب میں غلط قسم کے لوگوں کے خلاف ڈنڈا چلاسکتے تھے وہ کب اپنے ووٹ بنک کو ناراض کرسکتے تھے، ایس پی پولیس تو کجا وہ تو تھانے کے تھانیدار کو بھی کوئی سخت بات کہنے کی جرات نہ کرسکتے تھے لب لباب یہ کہ جنرل نقوی کا 2002ء والا منصوبہ ناکام ہوا اور صوبائی حکومتوں نے ڈی سی اوز والانظام تبدیل کرکے دوبارہ کئی جگہوں پر ڈپٹی کمشنر ز کے مناصب بحال تو کئے پر آدھا تیتر آدھا بٹیر والاکام، ہونا یہ چاہئے تھا کہ ڈپٹی کمشنر والا وہ نظام من وعن بحال کیاجاتا کہ جو 2002ء تک موجودتھا اور جس کی بیخوں میں جنرل نقوی نے پانی دیا تھا، آج سیاسی جلسوں اور جلوسوں پر پولیس فائرنگ میں لوگ کیوں جاں بحق ہورہے ہیں؟ آج اشیائے خوردنی میں ملاوٹ اور ان کی ذخیرہ اندوزی کیوں ہو رہی ہے؟ آج بلیک مارکیٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟ آج اشتعال انگیز تقاریر کیوں ہوتی ہیں؟ آج جگہ جگہ سرکاری زمین پر تجاوزات کیوں قائم ہو رہی ہیں؟ آج شہروں کے وسط میں آبادیوں کے بیچ پٹرول اور گیس فلنگ سٹیشن کیوں تعمیر ہو رہے ہیں؟ کہاں گئے وہ سپیشل میونسپل مجسٹریٹ؟ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اگر آپ وہ تمام فوجداری اختیارات نہ دیں گے کہ جو 2002ء میں آپ نے اس سے چھین لئے تو وہ کس طرح موثر اور قانونی انداز میں اپنے فرائض منصبی ادا کرسکے گا؟ ماضی میں تو ڈی ایم سے پیشگی صلاح مشورے کے بغیر ایس پی پولیس ضلع کے اندر کسی بھی پولیس سٹیشن میں تھانیدار تعینات نہیں کرسکتا تھا؟ ماضی میں ڈی ایم اور ایس ڈی ایم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اچانک کسی بھی پولیس سٹیشن کی سرپرائز انسپکشن کرے، یہ دیکھنے کیلئے کہ کوئی بے گناہ تھانے کی حوالات میں بند تونہیں؟

درحقیقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا ادارہ ایک سویلین ایڈمنسٹریٹر کا ادارہ ہوتا تھا کہ جو حکومت وقت اور عوام کے درمیان ہر قسم کے معاملات میں ایک ربط کاکام کرتا تھا اگر پولیس کے کسی اہلکار سے زیادتی سرزد ہوجاتی ہے تو وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہی ہوتا جو بیچ میں پڑ کر معاملہ بات چیت سے رفع دفع کرتا، حکومت کو چاہئے کہ وہ ماضی میں کی گئی اس غلطی کا ازالہ کرے کہ جو این آر بی نے کی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ادارے کو دوبارہ فعال کرے اور پھر اس بات کو یقینی بنائے کہ اس منصب پر صرف وہی اہلکار تعینات کئے جائیں کہ جو انتظامی سروسز سے تعلق رکھتے ہوں۔