بریکنگ نیوز
Home / کالم / خطرناک تفریح

خطرناک تفریح

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زہریلی شراب پینے سے کتنے افراد ہلاک ہوگئے ؟کچھ رپورٹس 35 جبکہ کچھ 44 ہلاکتیں بتاتی ہیں جو بھی اعداد و شمار ہوں یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے‘ ہلاک ہونیوالوں کا تعلق مسیحی برادری سے ہے جو غالباً کرسمس پر تفریحی موڈ میں تھے لیکن انکی خوشی غم میں بدل گئی خطرناک تفریح اور اسکے نتائج سے زیادہ اس سوال کا تعلق اس طبقے جیسا کہ پیسہ اورحیثیت، سے ہے اگر سانحے کی لپیٹ میں آنیوالے تفریح کے متلاشی مالی طور پر اتنے کمزور نہ ہوتے تو وہ قریبی شہر، فیصل آباد چلے جاتے اور عمدہ مشروب فراہم کرنیوالے کسی بھلے آدمی کی خدمات حاصل کرلیتے اس اسلامی جمہوریہ میں سنہری مشروب کی صنعت کوکوئی زوال ؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اسکی پیداوار برآمد کی جاتی ہے اور ایسی اقلیتوں کا حلق تر کرنیکا سامان کیا جاتا ہے جنکے مذہب میں اسے نوش کرنا ممنوع نہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان افراد کی جیب میں معیاری مال حاصل کرنے کیلئے اتنی رقم نہیں تھی چنانچہ وہ اس ڈراؤنے خواب کا شکار ہوگئے آفٹر شیولوشن سے حاصل کیا گیا زہریلا موادانکی جان لے گیا ایسا ہی ایک واقعہ روس کے شہر ارکتسک (Irkutsk) میں پیش آیا جہاں باتھ آئل سے تیار کئے گئے جعلی مشروب نے 75افراد کی جان لے لی ستم ظریفی یہ ہے کہ ارکتسک وڈکا مشروب کا ’آبائی گھر ‘ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے واقعے کی سمجھ آتی ہے لیکن ارکتسک میں ہونیوالی ہلاکتیں عقل سے باہر ہیں۔

جب میں 1970کی دہائی کے وسط میں سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر روس میں فرائض سرانجام دیتا تھاتو وہاں وڈکا کی فراوانی تھی اور اسے حاصل کرنا اتنا ہی سہل تھا جتنا عام اشیائے خوردونوش خریدنا اسکی قیمت بھی طے شدہ تھی اسوقت وہاں روٹی کی قیمت 13 کوپکس (پاکستان کے 13 پیسے ) تھی اسی طرح دودھ بھی سستااور انتہائی خالص تھااور ملاوٹ شدہ غیر معیاری دودھ کی فروخت پر کسی محترم چیف جسٹس کو نوٹس نہ لینا پڑتا ماسکو انڈرگراؤنڈ ریلوے چاہے کتنا ہی طویل سفر کیوں نہ ہو کا ٹکٹ پانچ کو پکس تھا اور یہ نرخ سٹالن کے دور سے جوں کے توں تھے آپ کو دکانوں پر ٹائلٹ پیپرز نہیں ملتے تھے اور نہ ہی فینسی جوتے یا ملبوسات تھے نہ ہی ملبوسات پر کسی مہنگے ڈیزائنر کا لیبل لگا ہوتا تھا چند ایک غیر ملکی کرنسی قبول کرنیوالی دکانوں پر جو سیاحوں‘سفارت کاروں یا پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کیلئے مخصوص تھیں، ہی ایسی اشیا دستیاب تھیں تاہم دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے ، وڈکا کی بوتل کی قیمت چار روبل (بارہ یا چودہ روپے )تھی۔ روسی شیمپین کی بھی یہی قیمت تھی اہم بات یہ کہ چاہے کوئی ریستوران ہو یا کیفے قیمت ایک سی رہتی تھی بہرحال اس دوران ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس وقت اوسط روسی ورکرز کی اوسط تنخواہ 150 روبل تھی چنانچہ چار روبل کی وڈکا بوتل کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے لیکن یہ بات طے کہ روس میں جعلی شراب کا کوئی تصور بھی موجود نہ تھا میخائل گوربا چوف کے ہاتھوں اس ملک کو پہنچنے والے دیگر نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی تھا کہ انہوں نے نہ صرف وڈکا کو مہنگا کردیا بلکہ اسکی فروخت کو بھی کنٹرول کرنیکی کوشش کی اسکی وجہ سے جعلی مشروبات بھی عام ہوگئے قانون کے ذریعے حماقت کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔

امریکہ میں پابندی لگانے کی کوشش کی گئی لیکن اس ’’پرہیز گاری‘‘ کا نتیجہ شکاگو میں ال کپون (منظم جرائم پیشہ مافیا کا سرغنہ)کی جرائم کی سلطنت اور شراب کی غیر قانونی فروخت کی صورت نکلا اخلاقیات کو قانون کے ذریعے کنٹرول کرنیکا یہی انجام ہوتا ہے اس کا فائدہ نہیں ہوتا لوگ دیگر ذرائع تلاش کرلیتے ہیں‘ انسانوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا جاسکتا ہے انہیں عقائد کی بنیاد پر قیدکیا جاسکتا ہے گولی ماری جاسکتی ہے لیکن جب بشری خامیوں کی بات آئے تو وہاں تمام تبلیغ اور پابندیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں انسانی فطرت یہی ہے‘کیا جیل خانوں میں جنسی جذبات مقید ہو جاتے ہیں؟کیا انتہائی حالات میں سموکنگ یا پینے کی خواہش دم توڑ جاتی ہے؟ دنیاکے قدیم ترین پیشے کو جو بھی کہہ لیں، جب سے انسان جانتا ہے‘یہ دنیا میں موجود ۔ اب چونکہ پاکستان میں مے نوشی پر پابندی تو پاکستانیوں کو گنے کا رس پی کر سر شام ہی سوجانا اور انتہائی عبادت گزار بن جانا چاہئے ، اور ’مال کی فراہمی کا دھندہ ‘ کرنیوالے معززین کو فاقہ کشی کا شکار ہوجانا چاہئے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ۔ ہر غروب ہوتا ہوا سورج انکے دھندے کی چمک میں اضافہ کرتا ہے مزید یہ کہ پابندی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ پارسا نہیں ہوا نہ ہی ہم دیگر دنیا کیلئے ماڈل ریاست قرار پائے جہاں نہ کوئی رشوت لیتا ہے ، نہ بدعنوانی کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی ملاوٹ اور جرائم کاکوئی گزر۔ تحمل ‘ بردباری ‘ سادگی اور سچائی کا دور دورہ ہے اگر ایسا نہیں تو حدود آرڈیننس کے تحت تجویز کی گئی سخت سزاؤں کے کیا معانی؟ ان کی وجہ سے لاہور کی رقاصاؤں کا کام ختم ہوجاتا اور وہ ’’ کاروبار کو ترقی دیتے ہوئے دبئی کارخ کرنے ‘‘ کی بجائے گھرگرہستی کے کام سیکھ کر خاتون خانہ بن کر رہنے کو ترجیح دیتیں اور پھر جب فضل و کرم کا دورہ دورہ ہوتا تو پاکستان کا جی ڈی پی بھی بڑھ جاتا اقوامِ عالم رشک بھری نظروں سے ہمیں دیکھتیں غیر ملکی سیاح ہمارے کامیاب تجربے کو دیکھتے ۔ دنیا بھر کے افراد پاکستان آنا چاہتے گرین پاسپورٹ کی انتہائی توقیر ہوتی، اسے دیکھتے ہی دنیا بھرمیں امیگریشن کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے افراد کی نظریں فرطِ عقیدت سے جھک جاتیں اور وہ اسے ادب سے بوسہ دیتے ہوئے اس پر مہر لگادیتے ۔ آخر پابندیوں کا اس دنیا میں بھی تو پھل ملتا لیکن چونکہ ان پابندیوں کے نتائج مطلق حوصلہ افزا نہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے پاکستان میں اخلاقی تطہیر دکھائی دی بلکہ اخلاقی اعتبار سے ہم 1977 کی دہائی‘ جب پابندی لگائی گئی، سے بھی بدتر ہوچکے ہیں‘ اب جبکہ ہم اس دور سے بہت آگے بڑھ آئے ہیں، شاید اب نتائج پر غور کرتے ہوئے تمام معاملے کا از سر نوجائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

یقیناًمے نوشی بری عادت ہے ، اس پر دو آراء نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اخلاقیات کے چیمپئن بھی اتفاق کریں گے کہ جعلی اور ہلاکت خیز مشروب بنانابدترین حرکت ہے تو ہم جعلی مشروبات بنانے کے اس دھندے، جو بلا مبالغہ اس اسلامی جمہوریہ کے ہر چھوٹے بڑے قصبے میں بہت پھیل چکا ہے کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟مجھے اچھی طرح یادہے کہ پابندی سے پہلے میرے شہر، چکوال میں اس کی بہت زیادہ طلب نہیں تھی اب اسکی طلب اس قدر زیادہ ہے کہ اسے پورا کرنے کیلئے کشید کرنا ایک’ گھریلو صنعت ‘بن چکا لیکن رسد طلب کا ساتھ دینے سے قاصر ہے چنانچہ جو پینے کی عادت میں مبتلا ہیں انکی صحت نہ صرف غیر معیاری مشروب سے خراب ہوتی ہے بلکہ ریاست کے محصولات کوبھی نقصان پہنچتا ہے ۔ قہر یہ ہے کہ ہم ان معاملات پرقومی سطح پر بھی بات بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے ہاں یہ شجر ممنوع کا درجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے دوچہر ے ہیں ایک وہ جس کا ہم دکھاوا کرتے ہیں اور دوسراوہ جو ہم اصل میں ہیں ہم اس دہری اور منقسم شخصیت کیساتھ خوش ہیں۔

چنانچہ جائے حیرت نہیں کہ منافقت ہمارا قومی خاصا بن چکی اور ایسا صرف پینے تک ہی محدود نہیں بہت سے دیگر معاملات اسی منافقت کا شاہکار ہیں ہم ایک بات کہتے ہیں جبکہ ہمارے افعال قطعی طور پر اسکے برعکس ہوتے ہیں لیکن ہمارے ضمیر اتنے ’’پاک صاف ‘‘ کہ خلش کا کوئی گزر ہی نہیں درحقیقت ہمارے ملک میں ایک بات کی تفہیم مشکل ہے اپنے معاملات اور منافقت پرپریشان ہونیکی بجائے ہم نے دوسروں کی اخلاقی بہتری کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ۔ دیگر ممالک‘فرض کریں یورپی ممالک میں،جب مسلمان رمضان میں روزہ رکھتے ہیں تو بارز اور نائٹ کلب کھلے رہتے ہیں اور خواتین کا لباس بھی ’’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے ‘‘ کی مثال ، لیکن وہاں ہمارے روزے ان سے متاثر نہیں ہوتے جب وہ دوران پرواز روزے کی حالت میں ہوتے ہیں تو ان کے قریب بیٹھے دیگر افراد کھا پی رہے ہوتے ہیں تاہم یہاں وطن میں کوئی چیز ان کی طبع نازک پر گراں گزرے تو وہ اس کے خلاف فوراً میدان میں اتر آتے ہیں۔ کیوں؟