بریکنگ نیوز
Home / کالم / حیرت انگیز سیاست!

حیرت انگیز سیاست!

پاکستان کی سیاست میں حیرت کا پہلو دلچسپی سے خالی نہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع پر جب پیپلز پارٹی کے تمام رہنما اپنی تقریروں میں پیپلز پارٹی کے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں لانگ مارچ کی دھمکی دے رہے تھے‘ تو ایسے میں اٹھارہ ماہ کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس آنے والے سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے اور بلاول کے الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ جیالوں سمیت دیگر لوگ جس سرپرائز کی توقع سابق صدر سے کررہے تھے‘ وہ یہ اعلان سن کر حیران رہ گئے اور جو رہنما اپنی تقریروں میں جیالوں کو سرپرائز کی امید دلا رہے تھے‘ وہ خود بھی اس سرپرائز کو سن کر حیران رہ گئے زرداری نے چار مطالبات پورے کروانے کیلئے ملک بھر کے دوروں کا اعلان تو کیا مگر کوئی حتمی لائحۂ عمل نہیں دیا‘ جس کی وجہ سے بلاول بھٹو کی حکومت کو ساری دھمکیاں سمندری جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں۔ بلاول کے بارے میں تو کچھ عرصہ پہلے تک خبریں آ رہی تھیں کہ وہ الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ کا حصّہ بن سکتے ہیں مگر سابق صدر کا الیکشن لڑنے کا اعلان یقیناًحیران کن تھا ۔ اس انتخابی حقیقت میں یقیناًنواز لیگ کو بھی شک نہیں ہوگا کہ سابق صدر نواب شاہ سے اور بلاول بھٹو لاڑکانہ سے باآسانی الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچ جائیں گے مگر اس سے ہوگا کیا؟ نواز لیگ کی حکومت اپنا دور اقتدار مکمل کرنے والی ہے اور تحریک انصاف سے بھی ایسے کسی کرشمے کی توقع نہیں جس سے نواز حکومت وقت سے پہلے گھر چلی جائے۔اگر دیکھا جائے تو سابق صدر کے اس اعلان کا سب سے زیادہ نقصان عمران خان کو ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے کئی مہینوں تک عمران خان نہیں بلکہ زرداری اور پیپلز پارٹی میڈیا پر چھائے رہیں گے۔

جنوری کا پہلاہفتہ شروع ہونے کو ہے‘ جس میں سپریم کورٹ میں پھر سے ’پاناما لیکس‘ مقدمے کی سماعت نئے چیف جسٹس ’جسٹس ثاقب نثار‘ کی سربراہی میں ہوگی‘ لہٰذا میڈیا سمیت عوام بھی اپنی توجہ تحریک انصاف پر لگا لیں گے لیکن اگر ایسے میں پیپلز پارٹی کی طرف سے نواب شاہ اور لاڑکانہ کے حلقوں سے سابق صدر اور بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم شروع کرتے ہیں تو یقیناًمیڈیا پیپلز پارٹی کو بھی کوریج دینے پر مجبور ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ نواز لیگ کی حکومت کو مدت اقتدار مکمل کروانے کے لئے کیا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ جمہوریت کا چلتا چلاتا سلسلہ رک جائے سابق صدر اور بلاول کے منتخب ہونے کے بعد ممکنہ طور پر سابق صدر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنیں گے‘ جس کی وجہ سے حکومت پر یقینی دباؤ پڑیگا لیکن دیکھا جائے تو یہ بھی حکومت کے حق میں جائیگا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن پارلیمانی طریقہ احتجاج کو اپناتے ہوئے حکومت پر تنقید پارلیمنٹ کے اندر کریگی جس سے نہ تو تیسری قوت کے متحرک ہونیکا کوئی ڈر ہے اور نہ ہی نظام زندگی مفلوج ہونے کا۔

پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کو یقینی طور پر عمران خان کی طرف سے بظاہر سراہا جائیگا لیکن درحقیقت تحریک انصاف اپنی پہلے سے کم ہوتی مقبولیت میں مزید کمی کو دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی اس حکمت عملی سے ناخوش ہوگی علاوہ ازیں پاناما لیکس سمیت دیگر ایشوز پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان طریقۂ احتجاج پر تضاد رہا ہے تحریکِ انصاف حکومت کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کی حامی ہے جبکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کی حامی ہے بلاول بھٹو اور سابق صدر کے پارلیمنٹ پہنچنے پر یقیناًاپوزیشن مزید مستحکم ہوگی جس کا نقصان پھر تحریک انصاف کو ہی ہوگا۔سابق صدر کے الیکشن لڑنے کے عزائم کچھ بھی ہوں لیکن یہ طے ہے کہ آنیوالے دنوں میں عمران خان کے علاوہ سابق صدر اور بلاول بھٹو زرداری حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنائیں گے لیکن اس تنقید کا حکومت کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہوگا(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: نوید نسیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)