بریکنگ نیوز
Home / کالم / آخراس درد کی دواکیاہے؟

آخراس درد کی دواکیاہے؟

اس رات میں گھر کافی لیٹ پہنچا دن بھی تو کافی مصروف رہا تھا اس سے دو دن قبل میری بیگم کی گردن کا آپریشن ہوا تھا اور ہسپتال میں دو دن گزارنے کے بعد انہیں گھر جانیکی اجازت دے دی گئی تھی آپریشن کامیاب رہا تھا اور کسی پیچیدگی کا سبب نہیں بنا تھا۔ ہسپتال میں تو ان کو بروقت درد کی گولیاں دی جاتی تھیں اسلئے وہ خاصی ہشاش بشاش رہی تھیں میں نے دن بھر اپنی ڈیوٹی کی اور شام کو گھر جانے سے قبل ان کو ڈسچارج کرواکے گھر لے آیا انہوں نے خاصی رغبت سے گھر کا کھانا کھایا کہ گزشتہ تین دن سے انگریزی پھیکے کھانے پڑے تھے۔ دس گیارہ بجے ہم سونے کیلئے لیٹے اور تھوڑی ہی دیر میں میرے خراٹے نکلنے لگے کوئی دو تین بجے کے لگ بھگ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا بیگم نے گردن پکڑی ہوئی تھی اور درد سے کراہ رہی تھیں گردن کی اس سرجری کی سب سے بھیانک پیچیدگی یہ ہوسکتی ہے کہ اچانک خون کی کوئی رگ پھٹ جائے اور جلد کے نیچے خون جمع ہونا شروع ہوجاتاہے یہ ایسی ایمرجنسی ہوتی ہے جس میں مریض کو فوراً آپریشن تھیٹر منتقل کرنا پڑتا ہے تاکہ خون کا بہاؤ روکا جا سکے ایک لمحے میں میرے ذہن میں یہ سارے ممکنات آئے اور گھبراکر گردن کی پٹی اتاردی۔ تاہم تفصیلی معائنے کے باوجود مجھے گردن میں کوئی ایسی پیچیدگی نظر نہ آئی اور میں نے بیگم کو بتایا کہ درد ہے لیکن اسکے لئے صرف دردکُش دوا ہی کی ضرورت ہے میں نے ایک جلد حل ہونے والی گولی پانی کے گلاس میں ڈالی اور حل ہونے پر بیگم کو پلادی دس پندرہ منٹ میں سارا درد غائب ہوگیا اور جیسے کچھ تھا ہی نہیں جب میں نے پوچھا کہ گولی ٹائم پر کیوں نہیں لی تو بولیں کہ چونکہ درد بالکل نہیں تھا اس لئے ضرورت نہیں سمجھی۔

درد جسم کا ایک الارم سسٹم ہے جو کسی جگہ نقصان کی صورت میں دماغ کو آگاہ کرنیوالی گھنٹی ہے ہماری حساس جلد جب کسی نہایت گرم شے سے مَس ہوتی ہے تو فوری ردّعمل کے طور پر ہم جسم کا وہ حصہ گرم جگہ سے کھینچ لیتے ہیں جن لوگوں کی یہ حِس بدن کے کسی حصے میں ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ حصہ کسی بھی نقصان دہ چیز سے نہیں بچ پاتا آ پ نے دیکھا ہوگا کہ جب ذیابیطس کے مریض کے پاؤں سن ہوجاتے ہیں تو ان میں بار بار زخم بنتے ہیں اور بگڑتے ہیں جوتے میں معمولی کیل بھی انہیں محسوس نہیں ہوتی اور جب تک ان کو پتہ چلتا ہے تو زخم کافی بڑا ہوچکا ہوتا ہے اور بعض اوقات پاؤں کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔ اسی طرح کمر کی چوٹ سے اگر حرام مغز متاثر ہو تو نچلا دھڑ اور ٹانگیں احساس سے محروم ہوجاتی ہیں اور یوں محض وقفوں سے کروٹ نہ بدلنے کی وجہ سے بھی کمر کے نیچے کے حصوں میں گہرے زخم پڑ جاتے ہیں جو بسا اوقات جان لیکر ہی چھوڑتے ہیں ۔اسکے علاوہ بھی کسی اندرونی بیماری کی وجہ سے درد عود کرآتا ہے جوڑوں کا درد ورم کی وجہ سے ہوتا ہے اور یوں اس جوڑ کو آرام کرنے پر مجبور کرتا ہے پیٹ کے درد میں بھی مریض کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے کسی جگہ زخم بن جانے پر بھی وہ عضو درد کرتا ہے اور یوں اسکے استعمال میں وقفہ کرنا پڑتا ہے آپریشن کے بعد متعلقہ جگہ جو درد ہوتا ہے وہ بھی اسی الارم سسٹم کا حصہ ہے تاہم یہ درد چونکہ پہلے سے متوقع ہوتا ہے اسلئے ڈاکٹر ہسپتال سے خارج کرتے وقت درد کُش ادویات تجویز کرتا ہے اگر اس دوا کو مقررہ مقدار میں لیا جائے تو اصولی طور پر مریض کو آپریشن کے بعد کسی قسم کا درد نہیں ہونا چاہئے۔

یہ درد کش ادویات تین قسم کی ہوتی ہیں ایک پیراسٹامول قسم کی گولیا ں ہوتی ہیں جو عام آپریشنوں کے بعد کافی ہوتی ہیں درد بے قابو تب ہوتا ہے جب دوا صحیح مقدار میں نہ لی جائے ایک بالغ مرد جسکا وزن ساٹھ ستر کلو ہوتا ہے اسکے لئے پیراسٹامول کا ہزار ملی گرام (ایک گرام) ہر چھ گھنٹے بعد درست خوراک ہے۔ عام پیراسٹامول کی گولی میں پانچ سو ملی گرام دوا ہوتی ہے اسلئے ہر بالغ شخص کیلئے اسکی خوراک دو گولیاں ہیں چونکہ پیرا سٹامول کا اثر صرف چھ سے آٹھ گھنٹے تک رہتا ہے اسلئے اسے دن میں چار مرتبہ لینا پڑتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دو گولیاں کھانے کے بعد آٹھ دس گھنٹے تک درد نہ ہو تو مریض دوا سے غافل ہوجاتا ہے اور جب دس گھنٹے بعد وہی درد دوبارہ آتا ہے تو پھر دو گولیوں سے بھی کام نہیں بنتا اسلئے ضروری ہے کہ کسی بھی آپریشن کے بعد ہفتے دو ہفتے درد کُش دوائیں باقاعدہ لی جائیں ۔ جب درد کے زیادہ شدیدہونے کا خدشہ ہوتو افیون اور اسکے قبیلے کی ادویات دی جاتی ہیں ان میں سے مارفین سے لے کرکیمیکل طریقے سے بنی ہوئی ادویات شامل ہیں ان سب میں ایک اثر مشترکہ ہوتا ہے کہ یہ خواب آور بھی ہوتی ہیں اور بزرگوں کو دیتے وقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے حواس مختل ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ان ادویات کی عادت پڑنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے اور چند ہفتوں سے زیادہ استعمال اسکا مستقل عادی بنا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ان کے ساتھ قبض کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ تیسرے قسم کی درد کُش ادویات بروفن قسم کی ہوتی ہے جنہیں NSAIDs کہا جاتاہے ۔ یہ ادویات سوجن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں تاہم ان کیساتھ معدے میں ورم آنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے اسلئے ان ادویات کے طویل استعمال کیساتھ بسا اوقات معدے کی تیزابیت کم کرنے کی دوا بھی دینی پڑتی ہے۔

یہ تمام ادویات اکثر کھانے کی شکل یعنی گولی یا شربت کی صورت کے علاوہ انجکشن کی صورت میں بھی دستیاب ہوتی ہیں چند ایک مقامی طور پر مالش کرنے کیلئے جیل کی صورت بھی ملتی ہیں انجکشن بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو رگ میں براہ راست خون میں دیئے جاتے ہیں اور اس سے سیکنڈوں میں آرام آجاتا ہے۔ گوشت میں انجکشن اسی صورت میں لگایا جاتا ہے جب منہ سے کھایا نہ جاسکے کیونکہ گوشت سے دوا کے جذب ہونے میں تیس سے چالیس منٹ کا وقت لگتاہے جبکہ منہ سے لینے کے بعد اسکے جذب ہونے میں صرف پندرہ منٹ لگتے ہیں گویا گوشت میں انجکشن نہ صرف بذات خود زیادہ درد کرتا ہے بلکہ اس کے جذب ہونے میں وقت بھی زیادہ لگتاہے اسلئے اگر انجکشن لگانا ہی ہو تو وہ انجکشن لگایا جائے جو رگ میں دیا جاسکے نیم حکیم اور عطائیوں کیلئے چونکہ رگ میں انجکشن لگانا مشکل ہوتا ہے اسلئے وہ گوشت میں سوئی گھونپ دیتے ہیں جس سے اکثر دوسری پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اس سارے بیان کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی بیماری کا مناسب علاج شروع کردیا ہے تو درد کی دوا لینے میں تساہل نہ برتیں تاکہ آپ کو بے جا طور پر تکلیف نہ اُٹھانی پڑے دوسرے یہ کہ اگر منہ سے دوالے سکتے ہیں تو انجکشن کا کوئی فائدہ نہیں اور تیسرے یہ کہ گوشت کے انجکشن سے گریز کرنا چاہئے۔